سندھ رینجرز نے آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی انور مجید کے دفاتر پر چھاپوں کی تفصیلات جاری کردیں۔

معمول کا کام یا غیر معمولی پیغام؟ آصف زرداری کی وطن واپسی سے چند گھنٹے پہلے ان کے ساتھی انور مجید کے دفاتر پر رینجرز نے چھاپے مارے، کرنسی کا لین دین کرنے والے اُن کے تین دفاتر سے پانچ افراد کو گرفتار اور اسلحہ برآمد کیا گیا۔

گرفتار افراد میں سے شوگر ملز کے مالی معاملات دیکھنے والے کامران منیر انصاری کی گرفتاری نہایت اہم قرار دی جارہی ہے۔

سابق صدر زرداری کی وطن واپسی سے چند گھنٹے قبل کراچی میں یہ کارروائیاں ایک ممکنہ پیغام ہے کہ کسی کے جانے اور کسی اور کے آنے سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا، کرپشن، گھپلے بازیوں اور دیگر جرائم کے خلاف جو پالیسی پہلے چل رہی تھی آئندہ بھی چلتی رہے گی۔

رینجرز کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اطلاع مصدقہ تھی جس پر مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کی معاونت کرنے والوں کے خلاف دو چھاپے مارے گئے، دونوںچھاپے آئی آئی چندریگر روڈ اور ہاکی اسٹیڈیم کے قریب ایک کمپنی کے دفاتر پر مارے گئے۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ دونوں دفاتر آصف زرداری کے دوست انور مجید کی ملکیت ہیں۔

رینجرز اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دفاتر میں چھاپوں کے دوران شہزاد شاہد، رجب علی راجپر، اجمل خان، کامران منیر انصاری اور کاشف حسین نامی افراد کو گرفتار کیا گیا۔

اعلامیے میں دعویٰ کیا گیا کہ دفاتر سے اہم دستاویزات اور خفیہ خانوں میں چھپایا گیا اسلحہ بھی برآمد کیا گیا جس میں 17 کلاشن کوفیں، 4پستول ،9 بال بم اور مختلف اقسام کی 3225 گولیاں شامل ہیں، برآمد شدہ اسلحے اور دستاویزات کی چھان بین کے بعد جرائم پیشہ افرادکے سہولت کاروں اور دفاتر کے مالکان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ذرائع کامران منیر انصاری کی گرفتاری کونہایت اہم قرار دے رہے ہیں، وہ انور مجید کی شوگر ملزسمیت تمام مالی معاملات کی نگرانی کرتا تھا جبکہ انور مجید کے دفاتر سے رقوم کی منتقلی کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔

دوسری جانب اومنی گروپ نے کہا ہے کہ رینجرز نے آئی آئی چندریگر روڈ پر جس دفتر پر چھاپا مارا ہے وہ ہمارا نہیں۔

اومنی گروپ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ رینجرز اہلکار ان کے دو دفاتر میں آئے اور ایک گھنٹہ تلاشی کے بعد وہ چندفائلز اور سی سی ٹی وی ویڈیوکا ریکارڈ ساتھ لےگئی۔

رینجرز2 ملازمین کاشف اور کامران منیر کو ساتھ لے گئے تھے، کچھ دیربعد رینجرز کی پریس ریلیز میں 5 ملازمین اوراسلحےکی برآمدگی کا بتایاگیا۔

رینجرز نے جس اسلحے کی برآمدگی کا کہاہے وہ ہمارے کسی دفتر سے برآمد نہیں ہوا، اس معاملےکی آزادانہ تحقیقات کرائی جائے

SHARE

LEAVE A REPLY