آسٹریلیا نے خشک سالی کے باعث بننے والے 10ہزار اونٹوں کو مارنے کی منظوری دے دی۔
نیوز کورپ آسٹریلیا کی رپورٹ کے مطابق جنوبی آسٹریلیا میں مقامی رہنماؤں نے اونٹوں کو مارنے کے لیے فوج کے شوٹرز کی مدد حاصل کرلی۔
مقامی رپورٹس کے مطابق پیشہ ور شوٹرز 5 دن میں فضائی آپریشن میں 10 ہزار اونٹوں کو ماریں گے۔
ہیلی کاپٹروں کے ذریعے شروع ہونے والے اس فضائی آپریشن کا آغاز کل (8 جنوری) سے ہوگا۔
جنوبی آسٹریلیا کے شمال مغربی میں اونٹوں کی موجودگی قحط سالی کا باعث بن رہے ہیں۔
ایس اے محکمہ ماحولیات و پانی کے ترجمان نے بتایا کہ ‘اے پی وائی لینڈ کے مغرب میں روایتی مالکان کئی برس سے اونٹوں کو فروخت کررہے ہیں لیکن خشک موسم میں اتنے اونٹوں کی تعداد سنبھالا نا ممکن ہے’۔
ترجمان کے مطابق لاے پی وائی لینڈ میں اونٹوں کے چرنے کی وجہ سے دباؤ غیرمعمولی بڑھا ہے اس کے نتیجے میں ‘بنیادی نظام کو نقصان پہنچ رہا ہے، خاندان اور برادریوں کو خطرہ لاحق ہوگیا اور اونٹوں کی بڑے پیمانے پر موجودگی دیگر جانوروں کی فلاح و بہبود کے لیے خطرہ ہے’۔
ان کے مطابق ‘ہزاروں اونٹ پیاس سے مر جاتے ہیں یا پانی تک پہنچنے کے لیے ایک دوسرے کو روندتے ہیں’۔
انہوں نے کہا ‘بعض دفعہ مردہ جانور پانی کے اہم وسائل اور ثقافتی مقامات کی آلودگی کا باعث بنتے ہیں’۔
نیوز کارپ آسٹریلیا نے کہا ، یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ “کھانا اور پانی تلاش کرنے کی اشد کوشش” میں نولبربر اور گولڈ فیلڈز سے ہجرت کر رہے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق آسٹریلیا میں 12 لاکھ سے زیادہ جنگلی اونٹ ہیں۔
یہ زیادہ تر براعظم کے وسط میں ہی پسند کیے جاتے ہیں تاہم اب وہ مغربی آسٹریلیا میں بھی پھیل چکے ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق اونٹ اپنی بھوک مٹانے اور پانی تلاش میں نولبربر اور گولڈ فیلڈز سے ہجرت کر رہے ہیں۔












