جمعہ 26 جنوری کو بھارتی یوم جمہوریہ کے موقع پر لندن میں دن دوبجے بھارتی سفارتخانے کے باہر احتجاجی مظاہرہ ہوگا۔ ممتازکشمیری سیاسی و سماجی رہنماء سید حسین شہید سرور ایڈوکیٹ نے اپنے ایک بیان میں بتایاکہ مظاہرہ برطانوی ہاوس آف لارڈز کے رکن لارڈ نذیراحمد کی قیادت میں ہوگا جس مں زندگی کےہرطبقے سے تعلق رکھنے والے کشمیری شریک ہوگے۔ مظاہرے میں کشمیریوں کی آزادی کی حمائیت میں سکھوں اور دیگر کمیونیٹیز کی بڑی تعداد شرکت کر رہی ہے۔
انھوں ںے کہاکہ بھارت کا یوم جمہوریہ کشمیریوں کے لیے یوم سیاہ ہے کیونکہ بھارت نے کشمیریوں کے بنیادی اور جمہوری حقوق غصب کئے ہوئے ہیں، بھارت ستر سالوں سے کشمیرپر قابض ہے۔ مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ معاملہ ہے۔ دنیا کا کوئی قانون بھارت کو اس غیرقانونی قبضے کی اجازت نہیں دیتا۔
سید حسین شہید سرور نے انسانی حقوق کے کارکنوں اور انسانیت سے محبت رکھنے والے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اس مظاہرے میں زیادہ سے زیادہ شرکت کرکے مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کریں اور بھارت کو یہ پیغام دیں کہ دنیا کی مہذب قومیں بھارتی مظالم کو ہرگز برداشت نہیں کریں گی۔
واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر، آزاد کشمیر اور دنیا بھرمیں مقیم کشیمری 26 جنوری بھارت کے یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طورپر مناتے ہیں۔ اس روز ریاست جموں و کشمیر کے دونوں اطراف مکمل ہڑتال ہوتی ہے اورکشمیری عوام اپنے حق خودارادیت کے لئے جلسے جلوس، ریلیاں اور احتجاجی مظاہرے کرتے ہیں۔
حسین شہید سرور نے اقوام عالم سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیریوں کو ان کا حق، حق خودارادیت دلوائیں اور بھارت پر دباو ڈالیں کہ وہ کشمیریوں پر مظالم بند کرے۔
انھوں نے واضح کیاکہ مسئلہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان کوئی سرحدی تنازع نہیں ہے بلکہ سوا کروڑ کشمیری عوام کے سیاسی مستقبل کا معاملہ ہے۔ جموں و کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے جسے سیاسی طور پر ہی حل کیا جانا چاہئے۔ مسئلہ کشمیر ہی بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کی بڑی وجہ ہے اور اس دیرینہ مسئلے کو حل کیے بغیر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات معمول پر نہیں آسکتے اور پورے خطے میں امن برقرار نہیں ہوسکتا۔
سید حسین شہید سرور













