ایرانی القدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت سے دنیا پر تیسری عالمی جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ امریکا اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف مذید کارروائیاں کرنے کے اعلانات نے ان بادلوں کو اور بھی گہرا کردیا ہے۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی جانب سے کسی بھی ممکنہ ایرانی کارروائی کے نتیجے میں ایران کے 52 ثقافتی مراکز کو نشانہ بنانے کی دہمکی دی گئی ہیاور اس کے جواب میں ایرانی صدر آیت اللہ حسن روحانی نے امریکی صدر کو باور کرایا ہے کہ 52 کے بعد 290 بھی آتا ہے۔
یہ 52 اور290 کیا ہے؟ اس پر بعد میں بات کریں گے۔ پہلے ہم ایرانی اور امریکی ا ہداف کی بات کرتے ہیں امریکا نے ایران کے ثقافتی مراکز کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ایران کے اہداف کیا ہوں گے؟ کیا یہ امریکا،یورپ میں ہونگے یا مشرق وسطی ایرانی انتقام کا مرکز بنے گا؟ ہمارا خیال ہے کہ جو کچھ بھی ہوگا شہید قاسم سلیمانی کی تدفین کے بعد ہی ہوگا۔
ایرانی اہداف اور اسکی حکمت عملی اور موقف سمجھنے کے لیے وزیر خارجہ جواد ظریف کے ایک انٹرویو سے کچھ اقتباسات کا مطالعہ بہت ضروری ہے جو جنرل قاسم کی شہادت کے بعد منظر عام پر آیا ہے۔ جواب ظریف سے سوال پوچھا گیا کہ ’ کیا ایران کے رہبر اعلی نے ایرانی سکیورٹی کونسل کوسکیورٹی فورسز کے ذریعہ امریکا کو موزوں اور براہ راست جواب دینے کی ہدایت کی ہے‘تواس کے جواب میں انہوں کہا کہ’ ہم کوئی غیر موزوں اقدام نہیں اٹھائیں گے‘ ایرانی وزیر خارجہ نے کہنا تھا کہ’ قانونی ٹارگٹس کے،تعلق بین الااقوامی جنگی قانون بہت واضح ہے‘
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ”امریکا نے ایک ایسے راستے کا چناؤ کیا ہے جس کے انتہائی سنگین نتائج ہوں گے‘۔جب ان سے دریافت کیا گیا کہ ’جنرل قاسم کی شہادت سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی‘ تو انکا کہنا تھا کہ ’امریکا نے کئی ایرانی شہریوں اور حکام کو قتل کیا ہے جو ایک جنگی اقدام ہے ایران اسکا مناسب جواب دے گا‘۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایران کا یہ ’مناسب اقدام‘ کیا اور کس نوعیت کا ہوگا؟ اس بارے ماہرین حرب و بین الااقوامی قوانین مختلف کا کہنا ہے کہ ایک بات تو طے ہے کہ ’ایران بدلہ لینے کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کرے گا یہ کب کرے گا اور اس کی نوعیت کیا ہوگی اس کے متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا‘۔
ماہرین حرب کا یہ بھی خیال ہے کہ ایران اپنے انتقامی جزبے کو تسکین پہنچانے کے اور امریکا اور اسکے دوستوں کو دکھ دینے اور سوگ کی وادی میں دھکیلنے کے لیے مشرق وسطی سمیت کہیں بھی ان ایکشن ہو سکتا ہے‘۔ ماہرین اور تجزیہ نگار اس بات پر بھی متفق ہیں کہ امریکا کی نسبت ایران کے پاس بدلہ کے لیے مواقع زیادہ ہیں کیونکہ خطے میں ایران کا بہت اثرورسوخ اور دوست موجود ہیں۔ ایران اس کا عملی مظاہرہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنا کرچکا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف سے پوچھا گیا کہ خطے میں کشیدگی کو ختم کیسے کیا جا سکتا ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے کشید کم کرنے کا راستہ منتخب نہیں کیا، اگر کشیدگی ختم یا کم کرنا مقصود ہے تو امریکا معافی مانگے، دہمکیاں دینا بند کرے کیونکہ اس نے پہلے تو عراق کی خود مختاری پر حملہ کیا ہے جس سے خطے کے عوام کے احساسات مجروح ہوئے ہیں۔ایران خطے کے عوام اور انکے احساسات کو کنٹرول کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔
بغداد میں اپنے جنرل کی شہادت کے بعد ایرانی نے خطے میں اپنی پالیسی کم از کم جنرل قاسم کا بدلہ لینے کی حد تک ہی سہی ضرور تبدیل کرنے کا اعلان کردیا ہے، اور اعلان کیا ہے کہ ایران پراکسی وار نہیں لڑے گا جنرل قاسم کی شہادت کا بدلہ سرعام لیا جائے گا۔ یعنی ایران بھی امریکی راستے پر چلے گا،اپنے دشمنون، اس کے دوستوں،انکے مفادات کو براہ راست نشانہ بنائے گا چاہے اسے اس کے لیے ان کا پیچھا کرتے امریکی دوستوں کے اندر تک گھسنا پڑے۔
برحال حالات کسی بہتری کی طرف جاتے دکھائی نہیں دیتے بلکہ ہر گزرتے ہر پل کے ساتھ ابتری کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ روسی صدر ولادی میر پیوٹن دمشق پہنچ چکے ہیں اور بشار الااسد سے بات چیت میں مصرعف ہیں۔ چین نے کھل کر امریکی حملے کی مذمت کی ہے اور امریکی عزائم کو عالمی امن کے لیے خطرہ قراار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ امریکا اپنی پالیسی بدلے۔
ایرانی تاریخ سے ااگاہی رکھنے والے جانتے ہیں کہ ایرانی قوم اپنے اہداف کو کس طرح حاصل کرتی ہے۔ مشرق وسطی میں امریکی موجودگی اپنے اختتام کی سمت محو سفر ہوچکی ہے عراقی پارلیمنٹ کی جانب سے امریکی افواج کو نکل جانے کا حکم اسکا نکتہ آغاز ہے۔ دوسری طرف برطانیہ اور کنیڈا نے از خود ہی اپنی افواج کو عراق سے نکالنے کے اعلانات کردیئے ہیں جو ایران کی فتح ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY