براڈ کاسٹر اور شاعر عبید صدیقی کا مختصرعلالت کے بعد انتقال

0
1983

براڈ کاسٹر اور شاعر عبید صدیقی کا نو جنوری دوہزار بیس جمعرات کی صبح دہلی میں غازی آباد کے یشودا اسپتال میں مختصر بیماری کے بعد انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 62 برس تھی۔

مغربی یو پی کے میرٹھ شہر میں پیدا ہوئے عبید صدیقی نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں ہی حاصل کی، اور اعلی تعلیم کے لئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی چلے گئے، شعبہ اردو میں ایم اے میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔

اپنے کیریئر کا آغاز آل انڈیا ریڈیو سے کیا تھا اور وہ سری نگر اسٹیشن سے وابستہ رہے۔ 1988 میں ان کا انتخاب بی بی سی لندن کی اردو سروس کے لئے ہوا، اور 1996 تک بی بی سی میں خدمات انجام دیتے رہے۔

لندن سے واپسی کے بعد این ڈی ٹی وی میں شمولیت اختیار کی اور میگزین ایڈیٹر کے طور پر کام کیا۔ 2004 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ایم سی آر سی شعبے سے بطور پروفیسر وابستہ ہوئے۔

ان کی تدفین جمعہ دس جنوری کی صبح 10 بجے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قبرستان میں عمل میں آئے گی۔ پسماندگان میں ایک بیٹی شامل ہے۔

اپنے بعد حقیقت یا افسانہ چھوڑا تھا
پھول کھلے تھے میں نے جب ویرانہ چھوڑا تھا

سانس گھٹی جاتی تھی کیسا حبس کا عالم تھا
یاد ہے جس دن سبزے نے لہرانا چھوڑا تھا

آنسو گرے تو خاک بدن سے خوشبو پھوٹی تھی
مینہ برسا تو موسم نے گرمانا چھوڑا تھا

میرے علاوہ کس کو خبر ہے لیکن میں چپ ہوں
ساحل سے کیوں موجوں نے ٹکرانا چھوڑا تھا

میں پہلے بے باک ہوا تھا جوش محبت میں
میری طرح پھر اس نے بھی شرمانا چھوڑا تھا

SHARE

LEAVE A REPLY