بسمل کی طرح اسکی بھی حالت نہ ہوئی ہو
اس کو بھی کہیں مجھ سے محبت نہ ہوئی ہو

دل کھنچتا نہ ہو اس کا میرے واسطے یونہی
دن رات اسے ایسی بھی وحشت نہ ہوئی ہو۔

سوچوں پہ کبھی اسکی مسلط نہ ہوں یادیں
اک بار سہی ملنے کی حسرت نہ ہوئی ہو

ہر لحظہ میرے طور نہ ہو بیخود و مبہوت
بے وجہ اسے کوئی نقاہت نہ ہوئی ہو۔

لالہ سی ہنسی اسکے لبوں پر ہو سراسر
تتلی کی طرح پھول سے رغبت نہ ہوئی ہو۔

کاظم دل خوش فہم کو کیونکر یہ گماں ہے
ممکن نہیں ایسا اسے چاہت نہ ہوئی ہو۔

کاظم کاظمی

SHARE

LEAVE A REPLY