چین سے پھیلنے والے ہلاکت خیز کورونا وائرس کے دیگر مملک تک پہنچنے کے بعد بیجنگ میں موجود پاکستانی سفارتخانے نے چین میں مقیم پاکستانیوں کے لیے انتباہ جاری کردیا۔

خیال رہے کہ کورونا وائرس کے باعث چین میں 40 سے زائد افراد ہلاک جبکہ ایک ہزار سے زائد افراد اس وائرس میں مبتلا ہوچکے ہیں جس میں تقریباً 250 کی حالت تشویشناک ہے۔

مذکورہ وائرس چین کے صوبے ہوبے کے شہر ووہان سے شروع ہوا اور 40 سے زائد افراد کی ہلاکت کا سبب بنا جبکہ متاثرہ افراد کی سب سے زیادہ تعداد بھی ووہان سے ہی تعلق رکھتی ہے۔

چنانچہ چین کے دارالحکومت میں موجود پاکستانی سفارتخانے نے ووہان میں مقیم پاکستانی طلبہ اور دیگر پاکستانی افراد کو چین کے محکمہ صحت کی جاری کردہ ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

سفارتخانے سے جاری بیان میں چین کی وزارت صحت کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ کورونا وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوجاتا ہے۔

بیان میں بتایا گیا کہ ووہان کی شہری حکومت نے عوام کو عارضی طور پر طویل فاصلے کے سفر سے روک دیا ہے اور ووہان سے ریلوے اور ہوائی جہازوں کے سفری شیڈول بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

سفارتخانے کے بیان کے مطابق ووہان شہر کی حکومت نے مذکورہ اقدامات کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے اٹھائے ہیں۔

بیان میں پاکستانی کمیونٹی خصوصاً طلبا کو مخاطب کرتے ہوئے محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی اور کہا گیا کہ حفظان صحت کا خیال اور صحت ایڈوائزری پر عمل کریں۔

سفارتخانے کے ترجمان نے بتایا کہ پاکستانی سفارتخانہ، ووہان میں طلبہ سمیت دیگر ہم وطنوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ اگر کوئی پاکستانی شہری کورونا وائرس سے متاثر ہو تو چینی حکام سے تعاون کرے اور متاثرہ پاکستانی فوری طور پر بیجنگ میں مشن کو اطلاع دیں۔

اس کے ساتھ جن طلبہ کے ویزا کی میعاد اختتام پذیر ہونے والی ہیں انہیں جامع دستاویزات کے ساتھ سفارتخانہ کو مطلع کرنے کا کہا گیا کہ طلبہ سمیت پاکستانی کمیونٹی سفارتی مشن سے بلا روک ٹوک معاونت کے لیے رابطہ کرے۔

چین میں کتنے پاکستانی موجود ہیں؟
علاوہ ازیں کورونا وائرس کے پیش نظر وزارت خارجہ نے چین میں مقیم پاکستانی شہریوں کے اعداد و شمار جاری کردیے۔

دفترخارجہ سے جاری بیان کے مطابق چین کے مختلف حصوں میں تقریباً 28 ہزار پاکستانی طالبعلم موجود ہیں جبکہ 800 مقیم پاکستانی تاجر جبکہ 1500 ایسے پاکستانی تاجر ہیں جو اکثر و بیشتر چین کا سفر کرتے رہتے ہیں۔

وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہر ووہان کے حوالے سے دفتر خارجہ نے بتایا کہ صرف اس ایک شہر میں 500 کے قریب پاکستانی طلبہ موجود ہیں۔

اپنے بیان میں دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ یہ اعداد و شمار حقائق کو مدِ نظر رکھتے ہوئے جاری کیے گئے کیونکہ کئی طلبہ جو اسکالر شپس یا سیلف فنانسنگ کی بنیاد پر چین آتے ہیں وہ ہمیشہ اپنے آپ کو سفارتخانے میں رجسٹر نہیں کرواتے۔

اسی طرح پاکستانی تاجر اور چین جانے والے دیگر افراد بھی ہمیشہ پاکستانی سفارتخانے میں اپنا اندراج نہیں کرواتے اس لیے سفارتخانے کے پاس ایک اندازے پر مبنی تخمینہ ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY