پی ٹی آئی وکلاء نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فیصلے سے مایوسی ہوئی، اب ہمارے امیدوار آزاد حیثیت سے الیکشن لڑیں گے۔
علی ظفر نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کو بلا دیا تھا، پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قراردیکر بلا چھین لیا گیا ہے، اب تاریخ اس فیصلے پر فیصلہ کرے گی، پی ٹی آئی کے امیدوار اب آزاد امیدوار کے طور پرالیکشن لڑیں گے، ہمیں اندازہ ہوگیا تھا، آئندہ کی حکمت عملی بنائی ہوئی ہے، کوئی فکر کی بات نہیں۔
علی ظفر نے مزید کہا کہ اب الیکشن کی تیاری ہونی چاہئے،8 فروری کو الیکشن ہے، پی ٹی آئی الیکشن زور وشور سے لڑے گی، پارٹی کو نہیں چھیڑا گیا، صرف انتخابی نشان لیا گیا ہے، ہمارے امیدواروں کو الیکشن لڑنے سے نہیں روکا گیا، اگلی حکومت ہم بنائیں گے۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوسی ہوئی، 14 درخواستیں 25 کروڑ عوام کے حقوق پر بھاری ہوئی ہیں، اس وقت 12 کروڑ ووٹر رجسٹرڈ ہیں، 10 کروڑ پی ٹی آئی کے ہیں۔
پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر گوہر علی نے مزید کہا کہ تکنیکی بنیادوں پر فیصلہ دیا گیا، جن 14 لوگوں نے درخواستیں دیں وہ ہماری پارٹی کے ممبر ہیں یہ بات ٹھیک نہیں، بلا رہے یا نہ رہے عوام بانی پی ٹی آئی کی آواز پر ووٹ دیں گے، جو قوتیں ہمیں ہٹانا چاہتی ہیں 8 فروری کو ان کو شکست ہوگی۔
بیرسٹر گوہر علی نے کہا کہ اس فیصلے کے خلاف ہم ریویو کریں گے، اس فیصلے نے ہمیں بلے سے محروم کیا، 227 سیٹیں چلی گئیں، ہمارے امیدوار آزاد حیثیت میں الیکشن لڑیں گے،اس سے کرپشن کی ابتدا ہوگی۔
………………………
سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران بیرسٹر گوہر نے عدالت میں کہا کہ ابھی مجھے خبر ملی ہے فیملی پر حملہ ہوا، اس کے بعد بیرسٹر گوہر عدالت سے روانہ ہوگئے۔
بیرسٹر گوہر نے علی ظفر سے گفتگو میں کہا کہ میرے بیٹوں اور بھتیجوں کو مارا جا رہا ہے، ابھی مجھے خبر ملی ہےکہ میری فیملی پر حملہ ہوا ہے، ابھی گھر سے خبر آئی ہےچار ڈالے آئے تھے،کمپیوٹر اٹھالیا گیا،میرے بیٹے اوربھتیجے کو مارا پیٹا گیا ہے۔
اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جو بھی ہوا ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا، چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر بلایا اور کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل صاحب، اگر ایسا ہواہے تو ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا، اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں دیکھ لیتا ہوں۔
بعد ازاں بیرسٹر گوہر سپریم کورٹ میں واپس آگئے تو چیف جسٹس نے سوال کیا کہ گوہر صاحب کیا پوزیشن ہے؟ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ حالات بہت سنگین ہیں، چار ڈالوں میں لوگ میرے گھر آئے،کسی پر اعتماد نہیں ہے، عدالت کو بتانا چاہتا ہوں کہ کیا ہوا۔
چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ ابھی معاملے کو طےکریں، اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیکرٹری داخلہ اور آئی جی سے بات ہوئی ہے وہ معلوم کررہے ہیں کہ کیا ہوا ہے۔
چیف جسٹس نے بیرسٹر گوہر کو بات کرنے سے روک دیا اور کہا کہ پہلے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کوبتائیں،اگر بات نہ سنی جائے تو عدالت کو آگاہ کریں، اس پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اب تو حد سے بھی تجاوز ہوگیا ہے۔
چیف جسٹس نے جواب دیا کہ ہم ایس ایچ او تو نہیں ہیں، اگر ہم اس معاملے کو حل نہ کرسکیں تو آپ ہمیں کہیے گا۔












