گاہے گاہے باز خواں ایں ..قسط نمبر 14 ,نصرت نسیم

0
1083

بچپن اور پرائمری کی یادیں ہیں کہ ذہن کے نہاں خانوں سے نکلی چلی آتی ہیں ۔حیران کئے دیتی ہیں ۔ہر خوشی تبسم بن کر مسکاتی ہے کہ مجھے نہیں لکھو گی ہر غم ستارا سا پلکوں پر ٹہر کر بضد کہ مجھے لکھو ۔مگر آج کسی کی نہیں سننی ۔آج ہم پرائمری سکول سے نکل کر ہی سکول میں داخلہ لینے والے ہیں جو پرائمری سکول کے بالکل سامنے ہے ۔5ویں کلاس میں چھوٹی اے بی سی بڑی اے بی سی لکھتے لکھتے چھوٹے چھوٹے جملے بناتے سال بیت گیا ۔ہماری یہ کلاس ہیڈ میسٹریس خود پڑھاتی تھیں۔اور ان کی میز پر بڑی سی گھنٹی پڑی ہوتی جسے وہ خودبجایا کرتیں ۔خیر اب جانے کی گھنٹی بج چکی تھی اور ہم اس سکول کوخداحافظ کہہ کر جانے والے تھے اورہای سکول جانے کی خوشی پرانےدرسگاہ کوچھوڑنے کے غم پر غالب تھی ۔اس درسگاہ میں ہم اپنا بچپنا بےفکری وآزادی بھی چھوڑے جا رہے تھے ۔کہ جانے کب ہم نےاتنا قد کاٹھ نکال لیا تھا کہ ہرملنےوالے خالاؤں سے کہتے یہ اتنی جلدی بڑی ہوگئ ۔اس طرح کے جملے سن کر غصہ آتا کہ یہ کیا بے تکے سوال ہیں ۔کیا ہم نے بڑا نہیں ہونا تھا۔بہرحال مینار والے سکول کے بالمقابل سکول میں جو اس وقت کوہاٹ کا واحد ہائی سکول تھا داخلہ لیا ۔اور ابھی پڑھائی کاآغاز نہیں کیا تھا کہ فیصلہ ہوا کہ اب ہمیں با قاعدہ پردہ کروایا جاے۔یعنی برقعہ پہن کر سکول جاوں۔یہاں تک تو خیریت تھی کہ ہمیں خود بھی اپنی خالاؤں کے کالے کریپ کے فیشنی برقعےبہت پسند تھے۔یہ عبایہ سے وضع قطع اور تراش خراش میں کافی مختلف تھے اور شٹل کاک برقعوں کے مقابلے میں انہیں فیشنی برقعے کہا جاتا تھا ۔)فیشنی برقعہ پہننے کے تصور نے ہی خوش کر دیا مگر واے حسرتا کہ اگلا حکم نامہ دادا ابو کی طرف سے جاری ہوا کہ نہیں شٹل کاک برقعہ بنوایا جائے ۔

نصرت نسیم جب پرائمری کلاس میں تھیں

اب یہاں ضروری ہے کہ کچھ تھوڑا سا تعارف ددھیال ننھیال کا کراوں ۔کہ دونوں میں بعدالمشرقین تھا ۔داداجی زمیندارتھے ۔ٹھیکیدار بھی تھے اور فخریہ اس آڈر کو فریم کرا کر رکھا ہواتھا کہ جب بھی ملکہ کا دورہ ہو انہیں اگلی صف میں جگہ دی جائے ۔دادا ابو جنہیں ہم سب بابا کہتے ۔انہوں نے اپنے بیٹوں کو دسویں جماعت تک پڑھا کر اپنے ساتھ زمینداری اورکاروبار میں لگالیا ۔جب کہ بیٹیوں کی تعلیم کا کوئی تصور نہیں تھا ۔یہاں تک کہ پوتیوں کی باری آئی تو ایک تایا نے اپنی تمام بیٹیوں کو 5ویں کے بعد سکول سے اٹھا لیا ۔دوسرے تایا کو شوق تھا پڑھانا چاہتے تھے مگر بچوں نے پڑھ کر نہیں دیا ۔بابا بہت زیرک اور سمجھدار تھے ۔جائداد بنانے کے شوقین تھے پیسے کی فراوانی تھی مگر رہن سہن بہت سادہ تھا ۔ایک بہت بڑے گھر میں کافی بھائی اور انکی اولادیں رہائش پذیر تھیں یہ ایک بہت بڑا گھر تھا جسکے اندر گھر در گھر دالان در دالان اور چھتیں تھیں اسی مناسبتسے اسے وڈا ویہڑا کہا جاتا ۔یعنی وڈا بڑا ویہڑا صحن مطلب بڑا آنگن یاصحن ۔پانی کے لیے نلکوں کی بجاے کنواں تھا ۔اور ہماری امی کے حصے میں جوکمرہ آیا ۔وہ عین کنوئیں کے پاس تھا ۔چھوٹا سا یہ کمرہ جو امی اپنے سلیقے سے سجا سنوار رکھتیں ۔بعد ازا
بعدازاں امی ٹل چلی گئیں ۔لیکن ہم سب کی پدائش اسی کمرے میں ہوئی ۔کہ ایسے موقع پر امی لوٹ آتی تھیں کہ یہاں ان کی خاندانی دائی اوربہت ساری رشتے دار موجود تھے ۔
اس وڈے ویہڑے (بڑا آنگن )کے لوگ پابند صوم و صلوات تھے حج کر رکھے تھے ۔داڑھی اور سادہ شلوار قمیض پہنتے تھے عورتیں بھی بےحد کفایت شعار سادہ لباس پہنتی اورگھر کے تمام کام کاج خود کرتیں تھیں ۔شٹل کاک برقعے سب پہنتی تھیں ۔اس کے برعکس ننھیال والوں کو اگر دیکھیں تو وہ اس وقت کے لحاظ سے بہت ماڈرن اور جدید خیالات رکھتے تھے ۔گھر کے سربراہ ڈیڈی تھے جو باقاعدگی سے کلب جایا کرتے ۔وسیع حلقہ ءاحباب رکھتے تھے ۔اس زمانے میں گرمیاں سری نگر کشمیر گزارتے انکے دوستوں میں ہندو سکھ ہر مذہب وملت کے لوگ شامل تھے ۔پاکستان بننے کے بعد مری جانے لگے ۔پابند صوم و صلوات تو تھے مگر داڑھی وغیرہ نہیں تھی ۔تھری پیس سوٹ پہنتے ۔شلوار قمیض شاذ ہی پہنے دیکھا ماموں بھی اسی طرح سوٹڈ بوٹڈ رہتے ۔خالائیں فیشنی برقعے پہنتیں کہیں آناجانا ہوتا تو تانگے کے پیچھے پردے باندھے جاتے ۔8ویں تک پڑھی ہوئی تھیں (واضح رہے کہ اس زمانے میں بیشتر سکولوں میں مڈل پاس استانیاں ہوا کرتیں )اخبار رسالے پڑھتیں ۔کو ہاٹ میں تو انہیں بازار جانے یا شاپنگ کی اجازت نہیں تھی ۔گھر پر ہی عورتیں کپڑے لے کر آتیں البتہ جب پشاور آتیں تو پشاور کی کیفی مارکیٹ سے خریداری کرتیں ۔درزیوں کے ہاتھ کے سلے نئ وضح قطع کے سوٹ پہنتیں خوب صورت بھی بہت تھیں تو جو پہنتیں ایسا سجتا کہ کوئی تعریف کیے بنا رہ نہ سکتا ۔پشاور جاتیں تو فلم ضرور دیکھتیں ۔انہی کے ساتھ پہلی فلم عشق لیلی دیکھی اور ساراوقت روتی رہی کہ کب روشنی ہو اوردروازے کھلیں دوسری فلم دامن تھی ۔صبیحہ
خانم اور سنتوش کمار کی
نہ چھڑا سکو گے دامن بس یہ گانا یاد ہے باقی فلم میں بیزاری کا وہی عالم تھا ۔(فلم میں آج بھی پوری نہیں دیکھ سکتی )میرے لئے بھی ریڈی میڈ فراکیں آتیں یا درزی سے سلوائئ جاتیں ۔ایک دفعہ میں لمبی جرابوں کے ساتھ خوبصورت فراک اور جگنو نیکر شرٹ پہن کر ددھیال گئے ۔اور ہمیں دیکھتے ہی ہمارے بڑے تایا نے امی کو خوب ڈانٹا ۔کہ انہیں کہو کہ انگریز بن کر ادھر نہ آیا کریں ۔یہ زور دار ڈانٹ سن کر ہم الٹے قدموں واپس آئے ۔تو یہ مختصر سا تعارف و موازانہ تھا کہ کس طرح چھٹی جماعت میں داخلے کے ساتھ ہی ہمیں پردے اور وہ بھی شٹل کاک برقعے کے ساتھ کا حکم ملا اور ہم نے بخوشی شٹل کاک پہننے کی (ویسے بخوشی نہ بھی ہوتا تب بھی پہننا پڑتا )حامی بھری۔کہ شکر ہے کہیں پڑھنے پر پابندی عائد نہیں کی ۔پڑھنے کے لیے تو شٹل کاک کیا ہم کچھ بھی پہن سکتے تھے ۔خیر ہمارے لئے نرگس لٹھے کے بہترین کپڑے کا برقعہ سلوایا گیا ۔کو ہاٹ میں جانانہ دا ملوچو کپڑے کی مل تھی جس کا لٹھا اور بہترین کپڑا باہر برآمد کیا جاتا ۔ان کا نرگس لٹھا کاغذ سے باریک اور ریشم کی طرح ملائم تھا ۔اسے صرف اسکے ملازمین خرید سکتے تھے ہمارے برقعے کے لئے اسے حاصل کیا گیا پھر اس کو بنانے کے لئے مخصوص محنت کش خواتین تھیں جو ٹوپی اور سامنے کے حصے پر باریک کڑھائی نفاست سے کاڑھتیں تو دوسری طرف دیکھنے کے لئے جالی کوئی اور ماہر عورت بناتی یہ سب ہو چکتا تو برقعے میں چنٹیں ڈالی جاتیں یوں اتنے مراحل سے گزر کر شٹل کاک برقعہ بنا ۔جسے بہ دقت تمام سنبھالتے ہوئے، برقعے کی جالیوں میں سے دنیا کو دیکھتے ہوئے علم و دانش کی ایک نئ دنیا میں داخل ہوگئے الحمدللہ

SHARE

LEAVE A REPLY