وفاقی وزیر قانون کا کہنا ہےکہ 1994 کاسپریم کورٹ کا فیصلہ یہ کہتا ہے کہ سرعام پھانسی شریعت اور آئین کے خلاف ہے۔
لندن میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر فروغ نسیم نے سر عام پھانسی کے فیصلے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی میری بات سے اختلاف کرتا ہے تو سپریم کورٹ میں جائے، 1994 کا فیصلہ ریویو کرالے، میں یہ بھی نہیں کہہ رہا پھانسی کی سزا ختم ہونی چاہیے۔
فروغ نسیم نے معیشت پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب حکومت میں آئے تو معاشی حالات بہت خراب تھے، ماضی کے قرضوں اور اس پر سود کی ادائیگی کے لیے آئی ایم ایف سے پیکج لینا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ اب معاشی اعشاریے بہتری کی طرف جارہے ہیں، افواہیں پھیلانے والے نہیں چاہتے کہ کرپشن کا خاتمہ ہو۔
فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ ہر چیز درست نہیں پر حکومت کوشش کررہی ہے، آٹے اور چینی مافیاز کے خلاف کارروائی ہوگی، حکومت نے وہ فیصلہ کرنا ہے جو قانون میں درج ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایم کیو ایم حکومت کو گرانا نہیں چاہتی بلکہ ایم کیو ایم تو حکومت کے ساتھ ہے، خالد مقبول نے وزارت صرف کراچی کے مسائل کے حل کے لیے چھوڑی۔
بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ انہوں نے سوشل میڈیا کے حوالے سے کوئی سمری پیش نہیں کی بلکہ وزارت آئی ٹی کی جانب سے سمری آئی تھی۔












