اپوزیشن جماعتوں نے فوج سے متعلق وزیراعظم کے بیان کو ‘غیرذمہ دارانہ’ قرار دے دیا۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) نے پاکستان کے فوجی اور قومی سلامتی کے اداروں سے متعلق غیرذمہ دارانہ بیانات پرر وزیراعظم کے مواخذے کا مطالبہ کردیا۔
اسی طرح امیر جماعت اسلامی (جے آئی) سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ وزیراعظم کا بیان کے فوج ان کے پیچھے کھڑی ہے یہ قومی ادارے کو سیاست میں لانے کے مترادف ہے۔
گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے بنی گالہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ فوج جانتی ہے کہ وہ پیسہ نہیں بنارہے اور نہ ہی کرپٹ ہیں کیونکہ وہ دن رات سخت محنت کررہے ہیں لہذا وہ فوج سے خوفزدہ نہیں۔
وزیراعظم نے مذکورہ بیان اسٹیبلشمنٹ سے اچھے تعلقات نہ ہونے کے خیال سے متعلق سوال کے جواب میں دیا تھا۔
انہوں نے کہا تھا کہ حکومت کہیں نہیں جارہی اور کہا تھا کہ خفیہ ادارے جانتے ہیں کون کیا کررہا ہے اور اسی لیے جو کرپشن میں ملوث ہیں وہ خوفزدہ ہیں۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے سیکریٹری جنرل نیئر بخاری نے کہا تھا کہ ملک تدبر سے چلائے جاتے ہیں بچکانہ انداز سے نہیں۔
انہوں نے کہا کہ طاقت کے نشے میں ڈوبے عمران خان اپنے ہوش کھوچکے ہیں، ان کا علاج صرف پارلیمانی مواخذہ ہے۔
نیئر بخاری نے کہا کہ ایسے بیانات سے فوج کو متنازع بنانا ملک میں افراتفری پیدا کرسکتا ہے جو وزیراعظم کے اعلیٰ منصب پر موجود شخص کو زیب نہیں دیتا۔
ان کا کہنا تھا کہ قوم عمران خان کے خلاف ہیلی کاپٹر، مالم جبہ، بلین ٹری منصوبہ اور بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) میں کرپشن ریفرنسز کے نتائج کا انتظار کررہی ہے۔
پیپلزپارٹی کے رہنما نے ملک میں آٹے اور چینی کے حالیہ بحران کے ذمہ داران کو کلین چِٹ دینے پر وزیراعظم پر تنقید کی۔
دوسری جانب بلوچستان میں جعفرآباد ڈسٹرکٹ بار کونسل سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے فوج کو شرمندہ کی کوشش کی ہے۔
منصورہ میں جے آئی ہیڈکوارٹرز سے جاری بیان کے مطابق سراج الحق نے کہا کہ ملک کے چیف ایگزیکٹو کی جانب سے یہ دعوویٰ کیا جانا چاہیے تھا کہ فوج نہیں بلکہ عوام ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نےکہا کہ حکمران ‘ غیر ذمہ دارانہ بیانات’ جاری کرنے میں لمحہ نہیں لگاتے، وہ قابل نہیں اور حکومت چلانا نہیں جانتے۔













