پاکستان کی معروف کاروباری شخصیت اور نشاط گروپ کے چیئرمین میاں منشا نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کاروباری برادری کے لیے ‘سازگار ماحول بنائے تاکہ سرمایہ کار ملک میں معاشی سرگرمیوں کے لیے تمام کوششیں بروئے کار لا سکیں’۔
میاں منشا کی جانب سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور ان کی اہلیہ کے اعزاز میں ایک عشائیہ دیا گیا اور اعلامیے کے مطابق لاہور سے تعلق رکھنے والے کاروباری خاندانوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔
اعلامیے کے مطابق میاں منشا نے کہا کہ ‘کاروباری برادری کلیدی اسٹیک ہولڈرز ہیں اور حکومت کو ہمارے ساتھ مستقل مذاکرات کرتے رہنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنی کوششیں معاشی ترقی میں ڈھال سکیں’۔
انہوں نے کہا کہ ‘کاروباری برادری کو سازگار ماحول کی ضرورت ہوتی ہے جہاں ہراسانی، دباؤ اور بیوروکریٹک ہتھکنڈوں سے آزادی ہو تاکہ وہ اپنی تمام کوششوں کو معاشی سرگرمیوں میں اضافے کے لیے صرف کرسکیں جس کے بغیر نہ تو بڑھوتری ہوسکتی ہے اور نہ ہی نوجوانوں کو روزگار مل سکتا ہے’۔
نشاط گروپ کے سربراہ نے حکومت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ‘غیر منعفت بخش ریاستی اداروں کو نجی ہاتھوں میں دیں کیونکہ ٹیکس سے چلنے والے یہ ادارے خسارے میں جارہے ہیں اور ٹیکس کے پیسوں کو بچا کر عوام کی فلاح کے لیے خرچ کیے جاسکتے ہیں’۔
اس موقع پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے خطاب میں کاروباری برادری کو یقین دلایا کہ مشکل وقت گزر چکا ہے۔
صدر مملکت کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں اس ادراک ہے کہ پاکستان معاشی طور پر مشکلات میں گھرا ہوا ہے لیکن واضح طور پر مشکل وقت ختم ہونے کے مثبت اشارے ہیں، ہماری معیشت اور ہمارے حالات بحالی کے عمل میں ہیں’۔
کاروباری افراد کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘پاکستان کی تعمیر میں کاروباری برادری کی خدمات انتہائی قیمتی ہیں اور ہم آپ سب سے درخواست کرتے ہیں کہ تھوڑا سا اور صبر کرلیں کیونکہ حکومت کا اصلاحاتی پروگرام کی بنیاد رکھ دی گئی اور اس کے نتائج آرہے ہیں’۔












