دنیا کے دانشوروں سے درمندانہ اپیل۔۔شمس جیلانی

0
976

کبھی اسلام دین اخوت ہوا کرتاتھا کو ئی مسئلہ بھی ہوتا تو سب مسلمان متحد نظر آتے تھے اور سب فوراً ایک دوسرے کی مدد کو دوڑ پڑتے یہ سوچے بغیر کہ نتائج کیا ہونگے؟ وجہ یہ تھی کہ دین کو پوری ملت اسلامیہ ایک جسم سمجھتی تھی اور کسی کو کانٹا بھی چبھتا تھا تو پورا عالم اسلام درد محسوس کرتا تھا۔ پہلے یہ وجہ تھی کہ اس چھتے میں ہاتھ ڈالتے ہو ئے ہر ایک گھبراتا تھا۔مگر اب ہر ایک اپنی دنیا میں مگن ہے ان میں مزہب سے بھی زیادہ طاقتور دولت بڑھانے کا بخار ہے اور سب یہ بھو لے ہوئے ہیں کہ انہیں ایک دن مرنا بھی ہے۔لہذا سب اس قائل ہوگئے ہیں کہ “ بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست؛ (جس کا مفہوم یہ ہے کہ بابر!عیش کرلو کہ یہ دنیا دوبارہ نہیں ملے گی)بس یوں سمجھ لیجئے کہ اس ایک جملہ نے اسلام کی تمام تعلیمات کو دبارکھا ہے۔ جبکہ اسلام کاعقیدہ اس کے برعکس ہے آخرت پر ، احتساب پر اور روز محشر جی اٹھنے پر یقین رکھنا مسلمان کے لیئے لازمی ہے۔نتیجہ یہ ہے کہ چاروں طرف دنیا میں آگ لگی ہو ئی ہے تمام مسلمان ملکوں میں تو ہے ہی ہے۔ کیونکہ اس کے پیچھے وہ تحریک تھی جنہوں نے اپنی نا سمجھی میں اس جن کو بوتل سے رہا کردیا جو خارجیت کی شکل میں پہلے ہی لاکھوں جانیں لے چکا تھا۔جو کسی کے قابو میں سات سو سال تک نہیں آیا جب تک اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اس کو ختم کرنے کے لئے چنگیز خان جیسے ظالم اور جابر کو نہیں بھیجا اور اس کے بیٹے ہلاکو نے اس کو جڑ سے نہیں اکھاڑپھینکااور دنیا پھر سے ،بلا خوف جینے لگی۔ اس جن کو آزاد کرنے کی وجہ یہ ہوئی کہ کچھ نادانوں کو یہ برا لگا کہ سلطنت عثما نیہ ہمیشہ اس گروپ کے ساتھ کیوں رہتی ہے جو نسل پرستی پر یقین رکھتے ہیں؟ لہذا طے پایا کہ اس کے تکڑے تکڑے کر دیئے جا ئیں۔ جبکہ وہ اس گروپ کے ساتھ اس لیئے رہتا تھاکہ وہ گروپ اس سے کبھی نہیں لڑا، دوسری طرف وہ ملک اور اس کے اتحادی ہمیشہ اس سے لڑتے رہے۔ اس مشن کو کامیاب کرنے کے لیئے ہر جگہ ایسے لوگ تیار کیئے گئے کہ ان میں جو اخوّت ہے وہ ختم کرنے میں معاون ثابت ہوں۔ تاکہ یہ آپس میں لڑنا شروع کردیں اس کے لیئے اسی ملک میں ایک یونیورسٹی جنگل میں قائم کی گئی جو کہ تربیت دیکر یورپین علاقے میں اپنے علماء بھیجتی؟ اور دوسرے بہت سے مقامی علماء سلطنت عثمانیہ میں سے تیار کیئے گئے۔ اور ان کے اس کام کو بڑا خوبصورت نام دیا گیا وہ یہ تھا کہ اسلام کو “بدعت “سے پاک کرکے خالص اسلام لانا ہے۔ان کے علم میں یہ جن تھا جو کہ چنگیز خان نے بوتل میں قید کردیا تھا اور ابھی تک قید چلا آرہا تھا۔ جس کا نظریہ تھا کہ صرف ہم ہی راہ راست ہیں باقی سب گمراہ ہیں؟ اس سوچ نے اسلامی اخوّت کودنیا سے دیس نکالا دیدیا نتیجہ کے طور پر سلطنت عثمانیہ ختم ہوگئی اور ایک صدی تک یہ تحریک چلتی رہی نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان پہلے کی طرح تکڑیوں میں بٹ کر ایک دوسرے کو قتل کرنے لگے اپنوں کے علاوہ غیروں میں سے بھی کچھ لپیٹ میں آگئے وہ بھی اس تحریک میں کام آئے۔ اس طرح اسلام بدنام ہوا جو کہ انتشار پسندوں کے فائدے میں تھا۔ اب صورت ِ حال یہ ہے کہ دنیا کو اس سے تو دلچسپی ہے کہ جانوروں اور پرندوں کی نسلیں کہیں نا پید نہ ہو جائیں۔اس کے لیئے فنڈ بھی قائم ہیں آرگنا ئزیش بھی بنی ہوئی ہیں؟ مگر ان مظلوم انسانوں کے لیئے دنیا کو کوئی ہمدری نہیں ہے جوکہ خود کو مسلمان کہلاتے ہیں۔جبکہ عالم یہ ہے کہ یہ کام کرنے والے کمبل کو چھوڑنا بھی چا ہیں تو کمبل نہیں چھوڑ رہا۔اور جنھیں انتشار پسند وں نے سلطنت عثمانیہ کی جگہ کبھی وارث وہ بھی اپنی جگہ پریشان ہیں اور ان کا بھی یہ ہی عالم ہے کہ انہیں بھی کمبل نہیں چھوڑ رہا ہے۔ جبکہ دنیا کاعالم یہ ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ ایک جرثومے کو بھیجدے تو سب ملکر اسے نہیں روک سکتے ہیں۔ اور اسے لڑنے کے لیئے جیسا کہ اس نے قر آن میں بار بار فرمایا ہے کہ اسے فوج نہیں بھیجنا پڑتی ہے،کبھی ہاتھیوں کی فوج ایک معمولی پرندے کے ہاتھوں اور وہ بھی صرف صرف کنکریوں سے تباہ کردیتا ۔اور کبھی صرف ایک زبردست چیخ ہی کافی ہوتی ہے۔ جنکا قر آن اور دوسری آسمانی کتابوں میں بھی ذکر موجود ہے۔ جبکہ جو نہیں جانتے ہیں اور مسلمان کہلاتے ہیں، مگر ان کے علماء تو جانتے ہیں ان سے پو چھ لیں کہ کیا پہلے ہوتا رہا ہے اور جو اب ہورہا وہ کیوں ہو رہا ہے۔؟کیونکہ آج کے دور میں وہ سارے کام ہورہے ہیں جن میں سے کوئی ایک کرنے پر پہلے عزاب آتا رہا ہے؟اب وہی سارے کام پوری دنیابلا تحقیقِ مذہب وملت کر رہی اور اسے برا بھی نہیں سمجھتی ہے۔ ہر دانشور خود ہی سوچ لے کہ دنیا کس انجام کی طرف بڑھ رہی ہے۔
جبکہ دنیا کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ کشمیر میں دو سو آٹھ دن سے کر فیو لگا ہوا ہے۔ کسی کے کان پرجوں نہیں رینگی جبکہ وہ متنازع معاملہ ہےاور یو این او کے ایجنڈے پر ہے۔ ستر سال سے ہندوستان اور پاکستان دو نوں کے در میان کشیدگی کا باعث ہے جبکہ مودی حکومت ہندوستان میں جب سے آئی ہے روزانہ سیزفائر لا ئین کی خلاف وزرزی کرتی رہتی اور دونوں ایٹمی پاور بھی ہیں، کسی وقت بھی کچھ ہوسکتا اور اس کے نتائج کیا ہو نگے اللہ ہی جانتا ہے اکیلا پاکستان چلا رہا چونکہ وہ ایک فریق اس کی بنا پر وہ اہمیت حاصل نہیں کرسکتی جو کہ اس مسئلے کے حل کے لیئے پیدا ہونا ضروری ہے۔ ایسا ہی ایک ادارہ اس وقت بھی موجود تھا جب یو این او کے بجا ئے دوسری بین الاقوامی آرگنا ئزیش موجود تھی، کیا اس نے جنگ روک لی تھی؟ آپ سب کا جواب ہوگا کہ نہیں۔ تو آپ جانتے ہیں۔ کہ جب کوئی طوفان آتا ہے تو سب کچھ بہا کر لے جاتا ہے۔جب آگ لگتی ہے تو گیلا سوکھا سب جل جا تا ہے۔ تو وقت کا تقاضہ یہ ہی کہ کم ازکم دانشوروں کو تو طوفان کو انسانیت کی بقا کے لیئے روکنا چا ہیئے۔ انہیں تو خاموش رہنا اس حالت میں نہیں زیب دیتا۔ اور آنےنسلیں انہیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔

SHARE

LEAVE A REPLY