ہمیں بیت خوشی ہوئی جب ہم نے یہ خبر پڑھی کہ پلی بارگین پر سخت تنقید کی ہے عدلیہ نے ۔یہ بات ہم نے پہلے بھی لکھی تھی شاید کہ یہ کیا قانون ہے کہ کرپشن کرو کروڑوں اربوں کا اور کچھ رقم دو اور چھوٹ جاؤ ۔ یہ قانون ہمیں کبھی بھی سمجھ میں نہیں آیا تھا ۔جس طرح کالا دھن سفید کرنے کی بات ہے کہ جتنا چاہے بے ایمانی سے کماؤ اور آخر میں ٹیکس یا جرمانہ دے کر چھوٹ جاؤ ۔پھر اُن لوگوں کے نام تک پتہ نہیں چلتے ،اور وہ پھر سُر خرو ہوکر سب کے سامنے آجاتے ہیں ۔ہمیں لگتا ہے بلکہ ہماری سوچ ہے کہ اس قسم کے قانون برائی کو ختم نہیں کرتے بلکہ برائی کرنے والوں کو چھوٹ دیتے اور دوسروں کو اس طرف راغب کرتے ہیں کہ جتنا چاہے بے ایمانی سے کما لو جمع کر لو اور جب موقعہ ملے اُسے سفید کر لو یا کچھ دے دلا کر چھوٹ جاؤ ۔ہمیں ایسے تمام قوانیں پر نظرِ ثانی کرنی چاہئے اور ایسے معاملات میں سختی اختیار کرنی چاہئے ۔کیونکہ یہ چھوٹ ہمیں فائدہ نہیں دیتی بلکہ بے ایمانوں اور خٰیانت کرنے والوں کو شہہ دیتی ہے ۔اور کہیں نہ کہیں یہ قانون بنانے والے اور اسکی حمایت کرنے والے بھی اسکی برائی کے زمے دار ٹہرتے ہیں۔ اس لئے اس حکومت کو ضرور اس پر عدلیہ سے پہلے پارلیمنٹ میں قرار داد لانی چاہیئے ۔ہمیں امید ہے کہ جو کوئی بھی اسکی مخالفت کرے گا وہ کھل کر عوام کے سامنے آجائیگا ۔
آج کل سَر گوشیوں میں باتیں ہورہی ہیں کہیں زرداری صاحب اور شھباز صاحب سَر سے سَر ملائے کان جوڑے نظر آتےہیں ،کہیں نواز صاحب اور شھباز صاحب کان قریب کئے کھڑے نظر آتے ہیں ۔اب کس بات کی اتنی راز داری ہے یہ تو اللہ ہی جانے لیکن جس بات پر یہ متحد ہیں وہ ہے کرپشن سے نکلنے کی تدبیریں ۔ کہ کیسے بچیں ان فیصلوں سے جن کے بارے میں کبھی خواب میں بھی نہ سوچا تھا ۔چاہے زرداری ہوں یا نواز یہ وہ گر گٹ ہیں جو خطرہ محسوس کرنے پر اُسی رنگ میں رنگ جاتا ہے جس میں موجود ہوتا ہے ۔اور اب تو سُنا ہے کہ یہ لوگ مہنگائی کے خلاف تحریک چلانے کی سوچ رہے ہیں ۔کیا ہم پوچھ سکتے ہیں کہ کبھی اپنے دور میں مہنگائی کا تو ٹِس لیا تھا آپ لوگوں نے جب تو شاید آپ کو کسی سبزی کی قیمت بھی پتہ نہیں تھی نہ یہ پتہ تھا کہ آٹا کس بھاؤ ہے نہ تیل اور چاول کی خبر تھی ۔
ہمارا تو ایک ہی سوال ہے کہ ہر حکومت کو یہ باتیں جب ہی کیوں نظر آتی ہیں جب حکومت اُن کے ہاتھ میں نہیں رہتی جب وہ حکومت میں ہوتے ہیں جب تو ایسے خوابِ خرگوش میں ہوتے ہیں کہ یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ دولت کہاں تک پہنچ گئی ہے اور جائیدادیں کس تیزی سے بن گئی ہیں ،بلکہ ہم تو سمجھتے ہیں کہ شاید بہت سی جائیدادیں تو انہیں جب یاد آتی ہیں جب کوئی رپورٹر یا انیکر نکال لاتا ہے تب یہ چونکتے ہیں کہ ارے ہاں یہ بھی تو ہماری ہے ؟؟؟؟
کہتے ہیں تحریک چلائی جائیگی مہنگائی کے خلاف بہت اچھی بات ہے لیکن کیا کبھی اپنے ادوار بھی مہنگائی پر نظر کی تھی ۔کبھی غریبوں کی حالت پر ماتم کیا تھا ۔کبھی بے روزگار کے ساتھ کھڑے ہوکر اُس کے روزگار کے لئے آواز اُٹھائی تھی ،کبھی بے گھر کو دھوپ اور بارش سے نکالنے کے لئے کوئی تحریک شروع کی تھی یا یہ باتیں بس اُسی وقت محسوس ہوتی ہیں جب اقتدار چھن جاتا ہے ۔ہم تو حیران رہ گئے جب زرداری صاحب نے کہا کہ ہمیں دوبارہ حکومت دو دیکھو ہم تمہارے مسائل کس طرح حل کرتے ہیں ہمیں اُن سے ہمدردی کے سوا کوئی جملہ نہیں سوجھا کہ بھائی کتنا عرصہ کتنے سال کتنی مدت کیا کبھی اپنے اختیار کے سالوں کو گنا ہے ۔؟ کہ کتنا وقت ، قیمتی وقت وہ اثاثہ جو ایک بار جائے تو پھر ہاتھ ہی نہیں آتا کس طرح بے دردی سے تم نے لٹا دیا ۔کتنے قیمتی سال ضائع کر دئے پوری قوم کے ۔اگر آپ چاہتے تو واقعئی آج بجائے آپ کی بے نامی املاک کے لوگ آپ کی حکومت کے چرچے سُن رہے ہوتے ۔لیکن آپ تو بیچاری محترمہ کے طفیل اقتدار میں آگئے کیونکہ ہماری قوم بے حد ہمدرد اور نرم دل رکھنے والی ہے پھر چاہے آپ کو حکومت دے کر وہ کتنی ہی مصیبتوں میں گرفتار ہوئی ، کچھ نہ بولی اور اب بھی کچھ لوگ جو ناک سے آگے نہیں دیکھ سکتے آپ سب کا ساتھ دینے اور آپ کو کرپشن کے الزامات سے بچانے میں دل اور جان سے لگے ہوئے ہیں ۔کاش انہوں نے عوامی خدمت کے لئے اتنا زور لگایا ہوتا ۔
ہم پھر کہینگے کہ یہ پلی بارگین کا سلسلہ ختم کریں تاکہ قانون سب کے لئے ایک جیسا ہوجائے ۔یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے کہ کرپشن کرنے والے پیسہ دے کر چھوٹ جائیں ۔جنہوں نے ملک اور قوم کے ساتھ دھوکہ کیا ہے انہیں قانون کی گرفت میں آنا چاہئے اور اُن پر سخت سے سخت کارروائی ہونی چاہئے کیونکہ یہ قانون ،دھوکے اور بے ایمانی سے کمانے والوں کے لئے انتہائی کم سزا ہے ۔ضروری ہے کہ برائی کو ختم کرنے کے لئے سخت سے سخت اقدامات اُٹھائے جائیں ورنہ ہم کبھی بھی ان بے ایمانیوں اور دھوکوں سے نہیں بچ سکینگے ۔ وہ قوم کبھی اوپر نہیں اُٹھتی جو اپنی صفوں سے دغا جھوٹ اور بے ایمانی کو ختم نہیں کرتی ۔ وہ قوم کبھی طاقت نہیں پاتی جس میں برائی کی نشاندہی اور اُس پر باز پُرس نہیں کی جاتی ۔ہمارے یہاں خرابی اس لئے بھی لگی کہ لوگوں نے اپنے مفادات کے لئے ان بڑوں کو پردوں میں چھپائے رکھا ۔کبھی کوئی کسی کے خلاف نہ بولا ۔سب نے ایک دوسرے کو سہارا دیا تاکہ جتنا لوات جا سکے لوٹیں ۔اور اگر کچھ نہیں کیا تو یہ شور کیسا یہ چیخ و پکار کیوں ؟ غریب کو تو بیچارے کو اتنی گنتی بھی نہیں آتی جتنی آپ کی دولت ہے ۔اس لئے اس معاملے میں سخت سے سخت سزا دی جانی چاہئے تاکہ عبرت پکڑی جاسکے ،برا خود کو کبھی برا نہیں کہتا اور نہ ہی اپنی برائی کو برائی جانتا ہے ،
اگر قانون بن جائیں اور ہر اُس بات کی جس پر کسی کی بھی اُنگلی اُٹھی ہو تحقیق کی جائے جو بھی مُلوث ہو اُسے کٹہرے میں لایا جائے ،تو سب کو کان ہو جائینگے کہ اگر ہم نے غلط کیا تو ہم پکڑے جائینگے ۔برائی وہیں پروان چڑھتی ہے جہاں یہ اطمینان ہو کہ ہم بچ جائینگے اور یہ پلی بارگین ہمیں ایسا ہی قا نون لگتا ہے ۔امید ہے کہ نئی حکومت تمام تر پریشانیوں اور مشکلات کے باوجود کچھ ایسے قدم ضرور اُٹھائیگی جن سے ملک اور قوم کی ترقی اور کامیابی یقینی ہو ۔
دوسرا بڑا کام ہے رشوت کو روکنا ۔جس طرح پیسے دے کر بڑے چھوٹ جاتے ہیں اور چھوٹے بغیر پیسہ لئے کسی کا کام ہی نہیں کرتے اسکی بھی نشاندہی ہونی چاہئے اور چاہے چھوٹا رشوت خور ہے یا بڑا اُسے کڑی سے کڑی سزا دینی چاہئے ۔کیونکہ بڑی برائی ہمیشہ چھوٹی برائی سے پیدا ہوتی جب لوگ رشوت لے کر بچ جاتے ہیں تو پھر وہ کرپشن کرتے ہوئے بھی نہیں ڈرتے ۔اس لئے یہ بنیادی مسائل ہیں جن سے غریب پریشان ہے کیونکہ امیر تو پیسہ دینا برا سمجھتا ہے نہ لینا مشکل تو درمیانی طبقے اور سفید پوش کو پیش آتی ہے جب وہ کسی بھی کام کرانے کو نکلتا ہے اس لئے اس کو بھی اپنی ترجیہات میں شامل کیجئے تاکہ کچھ آسانیاں لوگوں اک اپنے کام کرانے میں محسوس ہوں ۔
پتنگ اُڑانا یا پتنگ کا کھیل شروع کرنے کی بات کی گئی ہے جس پر کچھ اینکرز کی رائے سُن کر ہمیں لگا کہ اس کھیل سے بڑا گناہ شاید کوئی نہیں ہے ۔۔۔۔ ہم سوچ رہے ہیں کہ کھیل کو کھیل ہی کیوں نہیں رہنے دیا جاتا ۔کیا ضروری ہے کہ اُسے نام دیا جائے۔ پتنگ تو ہم نے بھی بچپن میں بھائیوں کے ساتھ مل کر خوب اُڑائی ۔لیکن اب لگتا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہماری تو یہ ہی دعا ہے کہ اللہ ہمارے ملک کو ترقی یافتہ ممالک میں شامل کر دے ۔ آمین

SHARE

LEAVE A REPLY