کیا نفرت سے جنگیں جیتی سکتی ہیں..فائزہ عباس

0
1362

کیا نفرت سے جنگیں جیتی سکتی ہیں… یا کہ مفادات جیتے جا سکتے ہیں…
کیا امن کی بات کہنے کا مطلب بزدلی ہے… کیا نفرت کی تربیت کرنے والے انسان اور قومیں بہتر ہوتی ہیں…

یا کہ امن… اصول اور حکمت سے جڑے لوگ…

کیا اگر ہم نفرت کی سرزمین پہ اپنا مفاد رکھ کہ نہ بیچیں گے تو کیا ہم سمجھدار نہیں ہونگے… بیوقوف بن جائینگے…
عجیب زندگی ہے جہاں انسانوں، قوموں، ملکوں کو

کو حقیر سمجھنا قابل فخر کام ہے اس سے مورال بڑھتا ہے…. جبکہ میرے حساب سے مومن کا مورال ایمان، اصول پسندی، حق گوئی، عدل اور انصاف سے جڑے رہنے سے بڑھتا ہے… اسے ان دکھاووں اور جھوٹ کے ٹرے پی سجائے کسی عمل کی ضرورت نہیں ہوتی… وہ تو اپنے ھدف پہ نگاہ رکھتا ہے اور رب کی رضا اور با اصول عمل ہی اسکی طاقت ہوتی ہے… جھوٹ اور منافقت کا سہارا تو کمزور لوگ لیتے ہیں… پاکستان کی فوج اس سب سے بلند ہے…

نفرتوں پہ سیاست تو کی جا سکتی ہے مگر انسانوں کو ایک ایسی آگ میں جھونک دیا جاتا ہے کہ جہاں سے پھر وہ خود بھی چاہیں تب بھی نکل نہیں سکتے….
محبت اور جنگ میں سب جائز نہیں ہوتا…

بلکہ دونوں کے الگ اصول ہوتے ہیں…
پاکستانی قوم، فوج اور اعلی قیادت نے اپنے کردار اور اصول پسندی سے یہ ثابت کیا ہے کہ نہ تو ہم ڈرتے ہیں…
نہ گھبراتے ہیں…
اور اتنا حوصلہ اور صبر بھی بخوبی رکھتے ہیں کہ دشمن وقت کو بجائے بھڑکانے کے سمجھداری کا رویہ رکھنے کا موقعہ دیں…

مگر اگر حملہ کرنے والے سرحدوں پر، عوام پر، اور جھوٹ کے زریعے اپنے مقاصد کی ترویج کرنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ پاک سر زمین کو نیچا دکھا سکتے ہیں، ڈرا، دھمکا یا دبا سکتے ہیں تو یہ انکی بھول ہے…

اور یہ ازخود انکی کمزوری کا اظہار ہے… جو اصولی موقف کو اپنانے کے بجائے عوامی جزبات جو اشتعال دلا کر اپنے مقاصد کا دفاع کرتے ہوں وہ

ہماری آرمی کے آج کے ری ایکشن نے یہ ثابت کیا ہے کہ ہم ہر حملے اور اس سے نپٹنے کی مکمل طاقت ہی نہیں رکھتے بلکہ…

اخلاقیات اور اصولوں کو بھی ہر اعتبار سے سامنے رکھتے ہیں…
اور ہم با حثیت قوم اور فرد کے اپنی : آرمی، اور ملک کیساتھ ہیں…

ہمارے کردار میں اور دشمن کے کردار میں فرق ہے…
ہم حق بھی اصول کے ساتھ لیتے ہیں اور…. دفاع بھی اصول کیساتھ کرتے ہیں……ہمارے ظرف کے پیندے اتنے چھوٹے نہیں نہ ہی کردار کے کہ سیاستدانوں اور انتہا پسندوں کے مفادات کی پزیرائی میں جزبات سے کھیل کر انسان دشمنی کی ترویج کریں پر اگر کوئی غلط کرے، کیے یا حملہ آور ہو تو یقیننا اپنا دفاع کرنا ہمارا اصولی حق ہے…..
اور جھوٹ کا سہارا، سازشیں کرنا ہمارے قومی وقار کیخلاف ہے…

مگر یہ بات سمجھ پانا ہر ایک کے بس کی بات نہیں…

مگر اگر نفرتیں کم کی جا سکتی ہوں تو یہ کوشش جاری رکھنی چاہییے…
باقی اپنے اصولی موقف کا دفاع، سرزمین کی حفاظت، ہمارا حق ہے اور ہم یہ عمل سے آج ثابت بھی کر چکے ہیں…

دنیا کو امن کی ضرورت ہے نفرت کی نہیں ان مفادات اور نفرتوں نے انسانوں سے انکے انسان کی شرف چھین لیے ہیں…
کم سے کم میں نفرت کی ترویج کو زریعہ اظہار نہیں سمجھتی البتہ جو فتنہ انڈین میڈیا تمام ٹائم سے جاری رکھے ہوئے ہے انتہائی افسوس ناک ہی نہیں بلکہ قابل مزمت بھی ہے جو درحقیقت انکے خوف اور بے بسی کا اظہار ہے ایسے موقع پر ہر صاحب بصیرت کو ہوشمند اور سچائی سے کام کرنا چاہییے نہ کہ کسی بکے ہوئے کم ظرف، بے اصول، انسان اور ادارے کی طرح….

نفرتوں کو بھڑکانہ آسان ہے مگر انکی آگ میں سوائے سب کے جلنے کے اور کچھ نہیں ہوتا…

ہمیں اپنے جوانوں اور اب تک کی کی گئی بات چیت اور امن کی تمام کوششوں پہ فخر ہے کہ زندہ قومیں جزبات سے نہیں عقل سے کام لیتی ہیں… اور رب کا شکر ہے لاکھ لاکھ کہ ہماری سیاسی قیادت، فوجی قیادت اور عوام سب نے ہوشمندی سے کام لیاہے…

اور تمام قوم انکے ساتھ ہے…
پاکستان زندہ باد…
پاک فوج زندہ باد…

فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY