کشمیر میں سکیورٹی فورسز اور مشتبہ شدت پسندوں میں جھڑپ

0
677

اطلاعات کے مطابق سری نگر کے شہر پامپور کی ایک سرکاری عمارت پر حملے کی اطلاعات ہیں اور ذرائع ابلاغ میں عمارت میں آگ لگی ہوئی دکھائی گئی ہےاور کہا گیا ہے کہ حملہ آوروں کی بھارتی فوج سے جھڑپ ہوئی ہے

ابھی تک حملہ آوروں پر قابو نہیں پایا جا سکا

خبر رساں ادارے ‘ ایسوسی ایٹڈ پریس’ نے پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ پیر کو پام پور کے علاقے میں فائرنگ کی آواز سنائی دینے کے بعد سرکاری عمارت کی طرف جانے والے راستوں کو عام آمد و رفت کے لیے بند کر دیا گیا۔

یہ حملہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب کشمیر میں بھارتی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری ہیں، یہ مظاہرے رواں سال جولائی میں علیحدگی پسند کشمیری کمانڈر برہان وانی کے سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں مارے جانے کے بعد شروع ہوئے۔

ان مظاہروں اور بھارتی فوج کی طرف سے جاری کارروائیوں کی وجہ سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس کے مطابق ایک سرکاری عمارت کے احاطے میں سکیورٹی فورسز اور مشتبہ شدت پسندوں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔

خبر رساں ادارے ‘ ایسوسی ایٹڈ پریس’ نے پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ پیر کو پام پور کے علاقے میں فائرنگ کی آواز سنائی دینے کے بعد سرکاری عمارت کی طرف جانے والے راستوں کو عام آمد و رفت کے لیے بند کر دیا گیا۔

تاہم اس بارے میں مزید تفصیل نہیں بتائی گئی ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقعہ میں ایک فوجی زخمی ہوا ہے۔

یہ حملہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب کشمیر میں بھارتی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری ہیں، یہ مظاہرے رواں سال جولائی میں علیحدگی پسند کشمیری کمانڈر برہان وانی کے سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں مارے جانے کے بعد شروع ہوئے۔

ان مظاہروں اور بھارتی فوج کی طرف سے جاری کارروائیوں کی وجہ سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

اس دوران سکیورٹی فورسز اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں سے 80 سے زائد افراد ہلاک جب کہ ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہو چکے ہیں جب کہ دو پولیس اہلکار ہلاک اور سیکڑوں اہلکار زخمی ہوئے۔

کشمیر روز اول سے ہی جنوبی ایشیا کے دو ہمسایہ جوہری ملکوں کے درمیان متنازع علاقہ ہے جس کا ایک حصہ پاکستان اور دوسرا بھارت کے زیر انتظام ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY