علی وزیر نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاستی اداروں کے اندر اختلافات کے باعث قبائلی علاقوں میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے۔

0
819

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما اور رُکن قومی اسمبلی علی وزیر نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاستی اداروں کے اندر اختلافات کے باعث قبائلی علاقوں میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے۔

وائس آف امریکہ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں علی کا وزیر کا کہنا تھا کہ وہ اپنی سوچ کے مطابق ریاستی اداروں پر تنقید کرتے ہیں اور تنقید ادارے پر نہیں بلکہ اداروں کے کچھ اقدامات پر ہوتی ہے۔

ریاستی اداروں پر تنقید کے الزام میں دو سال تک جیل میں رہنے کے بعد گزشتہ ماہ عدالت نے علی وزیر کو ضمانت پر رہا کیا تھا۔

علی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ وہ اُن جرنیلوں پر تنقید کرتے ہیں جنہوں نے اس ریاست اور ادارے کو اپنے کاروبارکا ذریعہ بنا رکھا ہے۔

خیال رہے کہ پی ٹی ایم رہنما پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پالیسیوں اور اس کی دیگر ریاستی امور میں مبینہ مداخلت پر کھل کر تنقید کرتے رہے ہیں۔

پاکستان کی فوج پی ٹی ایم رہنماؤں کے اس نوعیت کے الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔ فوجی ترجمان اپنے بیانات میں پی ٹی ایم کو ملک دُشمن قوتوں کا آلہ کار قرار دیتے رہے ہیں۔

فوج کا یہ مؤقف رہا ہے کہ پی ٹی ایم رہنما فوج مخالف بیانیہ اپنا کر فوج اور عوام کے درمیان دُوریاں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

علی وزیر نے کہا کہ ان کی ضمانت پر رہائی کسی رعایت کا نتیجہ نہیں بلکہ جب کوئی راستہ باقی نہ بچا تو انہیں ضمانت ملی۔

اس سوال پر کہ ایک ریاستی ادارے نے آپ پر الزام لگایا تو دوسرے نے رہائی دی لیکن تب بھی پی ٹی ایم کی جانب سے ریاستی اداروں پر اعتماد کا اظہار کیوں نہیں کیا جاتا؟ علی وزیر نے کہا کہ اس معاملے پر بڑی عدالتوں نے کچھ قدم اُٹھائے، تاہم ماتحت عدالتیں کس کے زیرِ اثر ہیں یہ سب کو معلوم ہے۔

اُنہوں نے کہا لازمی بات ہے کہ کچھ لوگ ایمان دار ہیں اور اپنے کام سنجیدہ ہیں اور اپنے اداروں کی بدنامی کا باعث نہیں بنتے، ہم ان کا احترام کرتے ہیں۔

فوج پر تنقید کرنے والے دیگر سیاسی رہنماؤں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے بات کرتے ہوئے علی وزیر کہتے ہیں کہ وہ کسی کی جدوجہد پر سوال نہیں کریں گے لیکن رہائی کے بعد بہت سے سیاسی رہنماؤں نے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ اداروں پر تنقید نہیں کریں گے۔

وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے جو باتیں کیں، جو مؤقف اور بیانیہ شروع سے اپنایا آج تک اس پر قائم ہیں۔

علی وزیر نے کہا کہ دیگر لوگوں اور ان کی تنقید میں فرق یہ ہے کہ وہ اپنے مفادات اور حصہ مانگنے کے لیے تنقید کرتے ہیں جب کہ ان کی تنقید حقائق و نظریات کی بنیاد پر ہے جس پر لوگ اسے قبول کرتے ہیں اور اس کے اثرات ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ جن مسائل پر گفتگو کرتے ہیں اور جو مطالبات رکھتے ہیں وہ قبائلی علاقوں کے لوگوں کی زندگیوں کا مسئلہ ہے۔

علی وزیر کو دسمبر 2020 میں پشاور سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کرنے مقدمے سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف تھانوں میں بھی مقدمات درج تھے۔

……………………..

Published on: 14 Feb 2023

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو سینٹرل جیل کراچی سے رہا کردیا گیا۔

علی وزیر کو 31 دسمبر 2020ء میں سینٹرل جیل کراچی منتقل کیا گیا تھا۔

رکن قومی اسمبلی پر بغاوت اور اشتعال انگیز تقاریر کرنے پر خیبر پختونخوا میں بھی مقدمات درج ہیں۔

Published on: 5 Mar 2020

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں پولیس نے پشتون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم) کے رہنما اور رُکن قومی اسمبلی علی وزیر کے خلاف ریاستی اداروں بالخصوص فوج پر تنفید کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

البتہ، تاحال علی وزیر کو حراست میں نہیں لیا گیا۔ علی وزیر نے مقدمے پر قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا ہے۔

پولیس کے مطابق علی وزیر کے خلاف فوج پر الزامات لگانے اور تنقید کرنے کی پاداش میں مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

چارسدہ میں اتوار کو پی ٹی ایم کی ریلی سے تحریک کے سربراہ منظور پشتین اور رُکن قومی اسمبلی علی وزیر سمیت دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا تھا۔

علی وزیر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ انہوں نے ریلی سے خطاب میں کہا تھا کہ جب تک مخصوص ذہنیت کی حوصلہ شکنی نہیں کی جائے گی۔ اس سے قبل دہشت گردی ختم نہیں ہو سکتی۔ اُن کے بقول ایسی باتیں عموماً سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی کرتے رہتے ہیں۔

مذکورہ ریلی میں پولیس نے پی ٹی ایم کے دو کارکنوں کو پاکستانی پرچم کی بے حرمتی کرنے کے الزام میں بھی گرفتار کیا ہے۔ اس واقعے پر خیبرپختوںخوا اسمبلی میں بھی ایک قرارداد جمع کرائی گئی ہے۔ جس میں قومی پرچم کی بے حرمتی کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

قرارداد پیش کرنے والی خاتون رُکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر سمیرا شمس کا کہنا ہے کہ ہر فرد اور سیاسی کارکن کو اظہار رائے کا حق حاصل ہے۔ مگر کسی کو بھی قومی پرچم کی توہین اور بے عزتی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

البتہ علی وزیر نے قومی پرچم کی بے حرمتی کے واقعے سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایک شخص قومی پرچم تھامے جلسہ گاہ میں داخل ہوا تو منظور پشتین نے ہدایت کی کہ قومی پرچم کا احترام کیا جائے، اور اسے کسی مناسب جگہ پر لہرایا جائے۔

علی وزیر کا کہنا تھا کہ بظاہر لگتا ہے کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یہ اقدام کیا گیا۔

قومی پرچم کی توہین کے الزام میں پی ٹی ایم کے گرفتار کارکنوں کی ضمانت پر رہائی کے لیے چارسدہ کی مقامی عدالت میں ضمانت کے لیے درخواست دائر کر دی گئی ہے۔

علی وزیر کے خلاف اس سے پہلے بھی خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے علاوہ کراچی اور اسلام آباد میں اسی قسم کے مقدمات درج ہیں۔

گزشتہ سال 26 مئی کو شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل کے علاقے خڑکمر میں سیکیورٹی فورسز پر حملہ کرنے کے الزام میں علی وزیر اور محسن داوڑ سمیت پی ٹی ایم کے ایک درجن کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ علی وزیر کو ان مقدمات میں لگ بھگ چار ماہ بعد ضمانت پر رہائی ملی تھی۔

SHARE

LEAVE A REPLY