راچی کے علاقے بلدیہ رئیس گوٹھ سے دھماکا خیز مواد کی برآمدگی کے معاملے میں مزید پیشرفت ہوئی ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار دہشت گردوں کی نشاندہی پر چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں اور متعدد افراد کو حراست لیا گیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع نے بتایاکہ حراست میں لیے گئے افراد میں خواتین بھی شامل ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق دھماکا خیز مواد کی تیاری میں استعمال ہونے والا سامان مختلف مقامات سے خریدا گیا، دہشت گردوں کی جانب سے کئی ماہ سے منصوبہ بندی جاری تھی۔
دوسری جانب دھماکا خیز مواد برآمد ہونے کا مقدمہ درج کرلیا گیا اور مقدمہ سی ٹی ڈی میں سرکاری مدعیت میں درج کیا گیا۔
حکام نے بتایاکہ مقدمے میں انسداد دہشت گردی اور ایکسپلوزو ایکٹ کی دفعات شامل کی گئی ہیں اور مقدمے میں کالعدم بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب اور ساتھیوں کو نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمے کے متن کے مطابق خفیہ اطلاعات پر حب ریور روڈ رئیس گوٹھ میں گھر پر چھاپہ ماراگیا، چھاپے کے دوران ملزم جلیل عرف نوید گرفتار اور ساتھی فرار ہوا، کمپاؤنڈ میں ٹرک سے دھماکا خیز مواد سے بھرے پلاسٹک کے ڈرم اور سلنڈر ملا۔
مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ دھماکا خیز مواد ڈیٹونیٹر اور ڈیڈ کور وائر سے منسلک تھا، فارنزک ٹیسٹ پر پتہ چلا کہ بارودی مواد 2 ہزار کلو گرام ہے، ملزمان کا تعلق بی ایل اے مجید بریگیڈ فتنتہ الہند سےہے، ٹرک تیار کرنے کا مقصد شہر میں دہشت گردی کرنا تھا۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز کراچی میں بلدیہ رئيس گوٹھ سے دو ہزار کلو بارودی مواد برآمد ہوا تھا۔
گرفتار تین دہشت گردوں کے قبضے سے ایک ٹرک ، تیس سے زائد ڈرم اور پانچ سلنڈر قبضے میں لے لیے گئے اور باردوی مواد ناکارہ بنادیا گیا۔
ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لاڑک اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اظفر مہیسرنے بتایا کہ گرفتار دہشت گردوں کا تعلق کالعدم بی ایل اے کمانڈر بشیر زیب نیٹ ورک سے ہے اور دہشت گردی کی ساری منصوبہ بندی بیرون ملک سے کی گئی۔












