دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن پرامن انداز میں منایا گیا مگر افسوس کہ پاکستان میں اس دن کے حوالے سے
عورتوں کے مارچ کے نعروں پر ایک ایسا طوفان اٹھا ہوا ہے، جس میں گھٹیا پن اور بدتمیزی کا عنصر بہت نمایاں ہے
مارچ یا اس کے نعروں پر تہذیب کی حدود میں رہ کراعتراض کرنے والے میرے لئے قابل احترام ہیں یہ ان کی رائے ہے
میرا موضوع وہ واقعہ ہے جو شاید میڈیا کی تاریخ میں اس سے پہلے نہیں ہوا اور اللہ نہ کرے ہم لوگ ایسا منظر دوباہ دیکھیں،
ایک ادیب، ڈرامہ نویس اور شاعر خلیل الرحمان قمر
انسانی حقوق کی ایک سرگرم رکن ماروی سرمد پراس وقت برس پڑے جب انھوں نے خواتین مارچ کے ایک نعرے “میرا جسم میری مرضی” کا دفاع کرنے کی کوشش کی، تو انھیں نے پلٹ کر کہا میں تیرے جیسے بے حیا جسم پر تھوکنا بھی پسند نہیں کرتا، اور ایکبار نہیں بلکہ ایسے جملوں کی تکرارکرتے رہے، کسی خاتون کے ساتھ یوں ایک پبلک پلیٹ فارم ہر
انتہائی گری ہوئی فحش اور غیر اخلاقی گفتگو سن کرصاحب فہم و فراست افراد کے سرشرم سے جھک گئے،
میں یہ توقع کر رہی تھی کہ سماجی سطح پر اس ادیب کی کھل کر مذمت کی جائیگی مگر کیا ستم ظریفی ہے کہ عورت کی تذلیل کرنے والے کی مذمت اور تنقید کے بجائے سوشل میڈیا کو تو جیسے یکدم کوئی ہیرو مل گیا یہان تک انھیں مرد حر قرار دیا جانے لگا
ہر چینل پر اس ادیب کو بلا کر بولنے کا موقع دیا جاتا رہا اور پیمرا نے بھی اس اخلاق باختہ گفتگو کے خلاف نہ تو خلیل قمر اور نہ چینل کے خلاف کوئی ایکشن لیا
یوں لگتا ہے جیسے خلیل قمر کے بیانیے کو بڑھانے میں تعاون کیا جارہا ہو اور یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، تاکہ عورت مارچ اور اس کے منتظمین کو متنازعہ بنادیا جائے
ستم ظرہفی یہ ہے کہ اسلامی ثقافت کے نام پر، عزت اور حیا کے نام پر خلیل قمر کو ہیرو بنانے والے مرد وخواتین کی سوشل میڈیا پرگفتگو، دوسری خواتین پر گھٹیا اور اخلاق باختہ تبصرے کسی مہذب معاشرے میں دہرائے جانے کے بھی قابل نہیں، اس کا عملی مظاہرہ دیکھنا ہو تو دور جانے کی ضرورت نہیں
وزیر انسانی حقوق شریں مزاری نے خلیل قمر کی گفتگو پرجو مذمتی ٹویٹ کیا اس پر رد عمل دیکھ لیجیے،ایسی فحش گالیاں کہ انسان یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ اس کا مقصد دراصل ہرترقی پسند سوچ کو ہراساں کرنا ہے
مگرفحش جملہ بازی کرتے ہوئے اپنی تہذیب اور دینی تعلیمات یاد نہیں آتی، یہ اسی وقت یاد آتی ہے جب کبھی حیا تو کبھی عزت کے نام پر
لڑکیوں کی سوچ کے در بند اور اڑان کے پر باندھ کر اسے صرف جسم کا ڈھیر بنادیا جاتا ہے
سوچنے کی بات یہ ہے کہ میرا جسم میری مرضی نعرہ سمجھنا کیا اتنا ہی مشکل ہے، ہر گز نہیں
سمجھنے والے سمجھتے ہیں سوشل میڈیا پر
محب نقوی نے
لکھا کہ
میرا جسم سے مراد
فرد کے طور پر میرا وجود، میری حیثیت، میری شخصیت، میرا عمل ، میری سوچ اور میرے رائے ہے،
اور فیس بک پر ہی
ایک ترقی پسند سکالر ہیں اور معاشرے اور مذہب کے تناظر میں بہت معتدل نظریات کے حامل آیت اللہ ڈاکٹر سید نیاز محمد ہمدانی نے لکھا کہ
میرا جسم میری مرضی
بنیادی طور پر ایک درست بیانیہ ہے اور خواتین سے مخصوص نہیں ہے، لیکن اس کے حامیوں اور مخالفین کے غیر معتدل رویہ نے اسے متنازعہ بنادیا ہے
اپنی اس رائے کی وضا حت کی کہ
جسم اس لیئے درست ہے کہ ھم سب کچھ اپنے جسم سے کرتے ھیں، ھمارا وجود، ھمارا علم، ھمارا اخلاق، ھمارے نظریات، ھمارے مذھب، ھر چیز کا اظہار جسم سے ھوتا ھے ۔ الفاظ کا مسئلہ ثانوی ھے، لفظ کچھ اور بھی ھوسکتا ھے،
اور شائد اسی لیے لفظ جسم پر اعتراض ہے
جسم ہی تو ہے جس کے ذریعے عورت کو کنٹرول کیا جاتا ہے
اپنی لڑا ئیوں کے لئے عورت کا جسم بیچا جاتا ہے
اپنی عزت کے نام پر بے گناہ لڑکیوں کو قبروں میں پہنچا دیا جاتا ہے
اپنے بنائے ہوئے رسم و رواج کے لئے مذہب کے نام پر ایسی کم عمر بچیوں کو شادیوں کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے جو ذہنی اور جسمانی طور شادی کا بار اٹھانے کے قابل نہیں ہوتیں
جنسی طور پر ہراسان کرنے والے کی نظر بھی عورت کے جسم پر ہی ہوتی ہے
بچیوں اور عورتوں کا ریپ، جس میں ان کے جسم ساتھ ساتھ روح تک ذخمی ہوجاتی ہے۔
لڑکا پیدا کرنے کے لئے ماں کو بستر مرگ تک پہنچا دیا جاتا ہے
جائیداد اپنے پاس رکھنے کے لئے لڑکیوں کی قران سے شادی کرکے ان کے جسموں کو چلتی پھرتی لاش میں تبدیل کر دیا جاتا ہے
وحشت کا یہ سفر صدیوں سے جاری ہے ایسے میں اسلامی ثقافت کہاں کھو جاتی ہے
ہم جو اِنسانوں کی تہذیب لیے پھرتے ہیں
ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں
اسی لئے
میرا جسم میری مر ضی پر جو رد عمل ہوا اس نے معاشرہ کی منافقت بے نقاب کردی
کہ جسم کا نام سنتے ہی ذہنوں میں جنس کے علاوہ اور کچھ آتا ہی نہیں، کیونکہ عورت کو ہمیشہ جنس کے طور پر استعمال کیا گیا۔
یہ ہی تو
ساحر لدھیانوی نے کہا تھا
لوگ عورت کو فقط جسم سمجھ لیتے ہیں
رُوح بھی ہوتی ہے اُس میں یہ کہاں سوچتے ہیں
رُوح کیا ہوتی ہے اِس سے اُنہیں مطلب ہی نہیں
وہ تو بس تن کے تقاضوں کا کہا مانتے ہیں
کلاسیکی مصنفہ امرتا پریتم نے کچھ غلط تو نہیں کہا کہ مردوں کو عورت کے ساتھ سونا تو آتا ہے جاگنا نہیں
ماہ پارہ صفدر













