ثقلین مشتاق کی پیدائش

٭29 / دسمبر 1976ء پاکستان کے مشہور اسپن بائولر ثقلین مشتاق کی تاریخ پیدائش ہے۔
ثقلین مشتاق لاہور میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز 8 / ستمبر 1995ء کو اور ایک روزہ بین الاقوامی کیریئر کا آغاز 29 /ستمبر 1995ء کو کیا تھا۔یہ دونوں میچ انہوں نے سری لنکا کے خلاف کھیلے تھے۔
1996ء میں ثقلین مشتاق نے 32 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں 65 وکٹیں حاصل کرکے ایک کیلنڈر ایر میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ثقلین مشتاق کی ان 65 وکٹوں میں ایک ہیٹ ٹرک بھی شامل تھی جو انہوں نے 3 نومبر 1996ء کو پشاور میں زمبابوے کے گرانٹ فلاور، جان رینی اور اینڈریو وٹل کو آئوٹ کرکے حاصل کی۔ ثقلین مشتاق دنیا کے پہلے اسپنر تھے جنہوں نے ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں ہیٹ ٹرک بنانے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔
ثقلین مشتاق کے نئے ریکارڈز کا سلسلہ 1997ء میں بھی جاری رہا۔ 12 / مئی 1997ء کو جب انہوں نے آزادی کپ ٹورنامنٹ میں گوالیار کے کیپٹن روپ سنگھ اسٹیڈیم میں سری لنکا کے کمارا دھرم سینا کو آئوٹ کیا تو وہ دنیا میں سب سے کم عمر، سب سے کم وقت اور سب سے کم میچوں میں 100 وکٹیں حاصل کرنے والے کھلاڑی بن گئے۔ ثقلین مشتاق نے یہ اعزاز 20 سال 166 دن کی عمر، ایک سال 226 دن کی مدت اور 53 میچ کھیل کر حاصل کیا۔ اس سے قبل سب سے کم میچوں میں سو وکٹیں مکمل کرنے کا اعزاز آسٹریلیا کے ڈینس للی کے پاس تھا جنہوں نے یہ سو وکٹیں 63 میچوں میں حاصل کی تھیں۔
ثقلین مشتاق 2004ء تک کرکٹ کے میدان میں فعال رہے ، اس دوران انہوں نے مجموعی طور پر 49 ٹیسٹ میچ کھیلے اور208 وکٹیں لینے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے 169 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی جس میں انہوں نے 288 وکٹیں حاصل کیں۔
————————————————————————————————————-

امرائو جان ادا ریلیز ہوئی

٭29 / دسمبر 1972ء کو پاکستان کی کلاسک فلم امرائو جان ادا نمائش کے لیے پیش ہوئی اردو کے نامور ناول نگار مرزا ہادی رسوا کے ناول امرائو جان ادا کی کہانی پر اس سے قبل نخشب جارچوی‘ زندگی یا طوفان‘ ایس ایم یوسف مہندی اور کمال امروہی پاکیزہ کے نام سے فلمیں بنا چکے تھے مگر ہدایت کار حسن طارق نے اپنی فلم میں بڑی حد تک ناول کی اصل کہانی کو برقرار رکھا اور یہی اس کی خوبی تھی۔ حسن طارق کی اس فلم کی کامیابی کے بعد اسی ناول پر بھارت میں ہدایت کار مظفر علی اور ہدایت کار جے پی دتہ نے دو اور فلمیں بنائیں جن میں سے پہلی فلم بہت کامیاب ہوئی جب کہ دوسری فلم بری طرح فلاپ ہوگئی۔
ہدایت کار حسن طارق کی امرائو جان ادا کی فلم ساز ان کی صاحبزادی رابعہ حسن تھیں جب کہ مصنف اور نغمہ نگار سیف الدین سیف اور موسیقار نثار بزمی تھے۔ فلم کی کاسٹ میں رانی‘ شاہد‘ طالش‘ رنگیلا‘ طلعت صدیقی‘ ناہید صدیقی‘ لہری‘ نیر سلطانہ‘ آسیہ‘ زمرد اور ناصرہ شامل تھیں۔ اس فلم کے نغمات بھی بے حد مقبول ہوئے جن میں نور جہاں کا نغمہ جو بچا تھا وہ لٹانے کے لیے آئے ہیں اور رونا لیلیٰ کے گائے ہوئے نغمات جھومیں کبھی ناچیں کبھی گائیں خوشی سے‘ آپ فرمائیں کیا خریدیں گے‘ کاٹے نہ کٹے رے رتیاں اور نجانے کس لئے ہم پر قیامت ڈھائی جاتی ہے سرفہرست تھے۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ فلم کے سپرہٹ ہونے اور پاکستان کی شاہکار فلموں میں شمار ہونے کے باوجود یہ فلم کوئی نگار ایوارڈ حاصل نہیں کرسکی تھی۔
————————————————————————————————————-

استاد چھوٹے غلام علی خان کی وفات

٭29 / دسمبر 1986ء کو پاکستان کے نامور کلاسیکی موسیقار اور گلوکار استاد چھوٹے غلام علی خان لاہور میں وفات پاگئے۔
استاد چھوٹے غلام علی خان کا تعلق قصور کے ایک موسیقی دان گھرانے سے تھا جہاں وہ 1910ء میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے موسیقی کی ابتدائی تربیت اپنے والد میاں امام بخش سے حاصل کی جو دھرپد انداز گائیکی میں اختصاص رکھتے تھے۔
استاد چھوٹے غلام علی خان خیال، ترانہ، ٹھمری، دادرا اور غزل سبھی یکساں مہارت سے گاتے تھے۔ وہ ایک عرصہ تک لاہور آرٹس کونسل سے وابستہ رہے جہاں انہوں نے موسیقی کی تربیت کے لئے ایک اکیڈمی قائم کی تھی۔ ان کے شاگردوں میں شاہدہ پروین اور بدرالزماں، قمر الزماں کے نام نمایاں ہیں۔
استاد چھوٹے غلام علی خان کو حکومت پاکستان نے 1985ء میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ وہ لاہور میں میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں

وقار زیدی ۔ کراچی

SHARE

LEAVE A REPLY