بلوچستان ٹرین حملے کو افغانستان سے جوڑنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہیں: افغان طالبان

0
983

طالبان حکومت نے بلوچستان میں مسافر ٹرین جعفر ایکسپریس پر حملے کو افغانستان سے جوڑنے کے پاکستان کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے الزامات کے بجائے پاکستان کو اپنی سلامتی اور اندرونی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔

افغانستان میں طالبان حکومت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے ـ’ایکس’ پر جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ بلوچ مزاحمت میں شامل کوئی بھی رُکن افغانستان میں نہیں ہے اور نہ ہی کسی کا طالبان حکومت کے ساتھ کوئی تعلق ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ طالبان حکومت کو اس واقعہ میں بے گناہ افراد کی جانوں کے ضیاع پر دکھ ہے۔ سیاسی مقاصد کے لیے شہریوں کی جان لینا بلا جواز ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آرنے الزام عائد کیا تھا کہ جعفر ایکسپریس پر حملہ افغانستان میں موجود دہشت گرد وں کے سرغنہ کی ہدایت پر کیا گیا جو واقعے کے دوران حملہ آوروں سے براہ راست رابطے میں تھا۔

ترجمان نے کہا تھا کہ افغان عبوری حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔

جعفر ایکسپریس حملے میں ہونے والی ہلاکتوں سے متعلق فوج نے بدھ کی شب جاری ایک سرکاری بیان میں کہا تھا کہ واقعے میں ’21 معصوم یرغمال’ ہلاک ہوئے جب کہ آپریشن کے دوران چار اہلکار اور 33 عسکریت پسند مارے گئے۔

فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے حملہ آوروں کے خلاف بیان میں آپریشن مکمل کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔

واضح رہے کہ منگل کو کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر مسلح افراد نے بولان کے علاقے میں حملہ کر کے مسافروں کو یرغمال بنالیا تھا۔ ٹرین میں 400 سے زائد افراد سوار تھے جن میں بعض مسافروں کا تعلق فوج سے تھا۔

کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ٹرین حملے کی ذمے داری قبول کی تھی

SHARE

LEAVE A REPLY