اس وقت میرے سامنے سورہ المعائدہ کی آخری تین آیات(120 , 119 ,118۔ ہیں جن میں سے ایک کی بناپر ہم صحابہؓ کرام کے نام کےساتھ رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں
اس کااردو ترجمہ یہ ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ یہ فرما ئے گا کہ یہ وہ دن ہے سچوں کو ان کا سچ نفع دیگا، انہیں کو وہ جنتیں ملیں گی جن کے نیچے نہریں جاری ہیں جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے خوش وہ رب سے راضی،یہ ہی تو سب سے بڑی کامیابی ہےO کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایک دوسری آیت کے مطابق سب کا سودا اپنی اولاد مال دولت وغیرہ کااللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیئے اللہ سبحانہ تعالیٰ کے ساتھ جنت کے بدلے میں سودا کر لیا تھا اللہ ان سے خوش ہے اور یہ رب سے راضی۔ایسی کوئی مثال تاریخ میں دوسری نہیں ملتی ہے؟ ان کے مقابلہ میں آج کے مومنین کو تولا جائے تو وہ سارے کہ سارے بے وزنی کی کیفیت میں مبتلا ہوجا ئیں گے؟ بہت کم ملیں گے جو اس معیار پر پورے اتریں؟ اس کا خلاصہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے اس قول سے واضح ہو جاتا ہے کہ انہو ں نے فرمایا کہ ً اے اللہ میں تیری عبادت نہ جنت کے لیئے کرتا ہوں نہ کسی اور وجہ سے کرتا ہوں،میں اس لیئے کرتا ہوں کہ تیرے سواکوئی اور معبود نہیں ہے۔؟زمین اور آسمان اور اس کے درمیان تمام چیزوں کی بادشاہت اللہ کی ہے اور وہ ہر ہر چیز پر قادر ہےo اس سے پہلے ایک رات حضورﷺ تمام رات ایک ہی آیت کی تلاوت فرماتے رہے۔ وہ یہ تھی کہ“ تو اگر سزا دے تو یہ تیرے غلام ہیں اور اگر تو انہیں بخشدے توزبردست غلبہ والا ہے اور حکمت والا ہےO اس آیت کی عظمت کااظہار اسی سے ہوتا ہے۔کہ ایک رات حضورﷺ نے پوری یہ آیت تلاوت فرمائی اور کوئی دوسری آیت نہیں پڑھی چنانچہ مسند احمد میں ہے کہ حضرت ابوذر غفاری ؓ نے حضورﷺ سے پوچھا کہ آپ نے پوری رات ایک ہی آیت پڑھی اس کی وجہ کیا تھی؟تو فرمایا میںﷺ نے رات بھر اپنی امت کی بخشش کے لیئے دعامانگی۔میں نے پوچھا حضور ﷺ نتیجہ کیا نکلا؟ فرمایا کہ اللہ نے وعدہ فرمایا کہ اس امت کے ہرمو حد کو تیریﷺ شفاعت پر بخش دونگا۔ میں نے کہا میں اعلان کردوں؟ فرمایا ہاں! لیکن حضرت عمر نے ؓ کہاکہ حضور ﷺ ایسا نہ کریں ورنہ لوگ روزہ نماز سب چھوڑدیں گے۔اورمجھے واپس بلالیا؟ یہاں جو نکتہ ہے وہ بہت ہی اہم ہے کہ حضورﷺ نے اپنی شفاعت کو بحکم اللہ سبحانہ تعالیٰ توحید سے مشروط فرمادیا ہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ بلا تفریق میں پوری امت کی شفاعت کرونگا۔ اس کا تقاضہ یہ تھاکہ امت ہر قسم کے شرک اور گناہ ِکبیرہ سے خود کو بچاتی خواہ یہ شرک جلی ہو یا خفی ہو؟ گناہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو۔لیکن معاملہ اس کے برعکس ہے۔کہ امتی شارٹ کٹ کی تلاش کرتے پھرتے ہیں اور اس کی وہ قطعی پرواہ نہیں کرتے نہ مانتے ہیں کہ وہ شرک کے مرتکب ہورہے ہیں یا گناہ کے؟ جبکہ مشرک کی نہ توبہ قبول ہوگی نہ بخشش ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی ہے کہً میں اپنی سنت تبدیل نہیں کرتا ً۔؟اور شفاعت کرنے والے کے لیئے یہ بھی دوسری دو شرائط ہیں کہ شفاعت اس کی ہوگی جس کی شفاعت میں چاہونگااور وہ بات بھی معقول کہے؟وہاں تو تھی ہی یہاں مزید ہر ایک کی شفاعت اور بھی مشکوک ہوگئی ہے۔ ان دو شرطوں کو پڑھنے کے بعد؟ حضوﷺ جو کہ اللہ کے سب سے زیادہ نزدیک؟ وہ جو امتی اپنے نامہ اعمال شرک، گناہ کبیرہ سے بھرے ہوئے یا سادے لے کر پہنچیں گے ان کی شفاعت فرما ئیں گے؟ ہر عقلمند آدمی کا جواب ہوگا ہر گز نہیں؟اس طرح سے اس بات پر سوچیئے جو کہ مشہور ہےکہ ہر کلمہ گو جنت میں جا ئے گا اور حضورﷺ ہر ایک کی شفاعت فرما ئیں گے؟ جواب آپ کے سامنے آجائے گا؟ اس کو مزید سمجھنے کے لیئے سورہ مد ثر میں چلے جائیں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اس میں قیامت کے بعد کا ذکر فرمایا ہے کہ “ کچھ لوگ جنت میں پہنچ کر اپنے ساتھیوں کو تلاش کریں گے وہ انہیں نظر نہیں آئیں گے پوچھیں گے کہ وہ کہاں ہیں۔تو وہ دوزخ میں دکھا ئی دیں گے۔ تو یہ ان سے پوچھیں گے تم یہاں کیسے؟ تو وہ کہیں گے کہ ہم ہر ایک پیچھے لگ جاتے تھے۔لوگوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے اور عاقبت پر یقین نہیں رکھتے تھے اس وجہ سے ہماری شفاعت نہیں ہوسکی ً میرا مشورہ لوگوں کو یہ ہے کہ لوگ یہاں سے پوری تیاری کر کے جا ئیں تاکہ وہاں مایوسی نہ ہو؟













