وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ حکومت نے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے لیے قومی اسمبلی بل پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسلام آباد میں معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئےشاہ محمود قریشی نے بتایا کہ وزیراعظم کی سربراہی میں اہم اجلاس منقد کیا گیا جس میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، چیف سیکریٹری، آئی جی پنجاب کے ساتھ ساتھ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزرا اور اراکینِ صوبائی و قومی اسمبلی بھی شریک ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں جنوبی پنجاب کے عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کا قدم اٹھایا گیا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے عوام کے لیے سیکریٹریٹ بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میں ان تمام افراد کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں جنہوں نے جنوبی پنجاب کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھاکہ جنوبی پنجاب کے صوبہ بنے کے بعد تمام لوازمات جو باقی صوبوں کو حاصل ہیں مثلاً این ایف سی، وفاقی میں نمائندگی اسے بھی ملے گی جبکہ ترقی کے لیے درکار اقدمات بھی اس صوبے کو حاصل ہوں گے۔
ایک سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا پچھلے ادوار میں 2 تہائی کے باجود مسلم لیگ (ن) نے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے کچھ نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں 2 تہائی اکثریت نہ ہونا سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ دیگر جماعتیں بالخصوص پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا ساتھ دیں گے کیوں کہ ماضی میں بینظیر بھٹو شہید، بلاول بھٹو بھی جنوبی پنجاب کے صوبے کے بارے میں بات کرچکے ہیں۔












