انسانی ہمدردی کا تقاضہ یہ ہے کہ۔۔۔ شمس جیلانی

0
748

اگر انسانیت کو خطرہ در پیش ہو اور اس کے بارے میں کسی کو اس کا حل معلوم ہو تو کوئی کتنا ہی دنیا میں مقبول کیوں نہ ہو اسے چا ہیئے کہ وہ ڈرے بغیر اس کا حل پیش کرے ۔ بشرطِ کہ اس کےعلم میں ہو ؟ اور اس کی پرواہ نہ کرے کہ کوئی مانتا ہےیا نہیں مانتا ہے؟ لیکن آج کا دور پیسے اورگنتی کا دور ہے۔اس میں سب سے زیادہ اہمیت کسی رائیٹر کی مقبولیت کوہے۔ اس لئے کہ اگر ریٹنگ گر جا ئے، تو مالکان اس پروگرام کو بند کر کے اس کے اینکر کی چھٹی کر دیتے ہیں۔اس کی تازہ ترین مثال دنیا کے سب سے باوقار اور دیرینہ پروگرام سیر بین کی ہے کہ ہم اسے سنتے سنتے جوان سے بوڑھے ہوئے اور کچھ ہی عرصہ پہلے اسے بند کردیاگیا۔ اس کے بر عکس آجکل ان صنفوں کو رواج دیا جا رہا ہے جو اس وقت تک زندہ رہتی ہیں جب تک ان کی مقبولیت بڑھتی ہے جیسے “پاپ ڈرامے “ جنکی زندگی کا دار مدار مقبولیت کی بڑھوتری پر ہے وہ پھول پھول کر موٹے ہوتے رہتے ہیں ان کی قسطیں سیکڑوں سے تجاوز کر جاتی ہیں دا ستان الف لیلیٰ کی طرح اس میں سے شا خیں پھوٹتی رہتی ہیں اور وہ سالو ں چلتے رہتےہیں۔ ان کے علاوہ اب آجکل سنسی خیز خبروں نے ان کی جگہ لیلی ہے۔ کچھ کمپنیا ں سنسی پھیلانے پر اگر ریٹنگ بڑھ جا ئے تو ان کو اچھا خا صا ماوضہ ادا کرتی ہیں۔ایسے میں وہ کون احمق ہوگا جو انسانی ہمدری کو مد ِ نظر رکھتے ہوئے کچھ لکھنے کی جرات کر یگا اور اپنی ریٹنگ ایسے عنوان پر لکھ کر اپنی بنی ہوئی ساکھ کو کھوئے گا۔ لیکن کبھی بھی اچھے لوگوں سے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے دنیا خالی نہیں رکھا بلکہ اس کی سنت ہی یہ ہے کہ جب تک اچھے لوگ بالکل معدوم نہ ہو جا ئیں وہ کبھی عذاب نازل نہیں کر تا ہے؟ اگر موجودہ دور میں آپکو دیکھنا ہے توعالمی اخبار اور اس کے مدیر اعلیٰ جناب صفدر ھمدانی صاحب اور ان کے عملے کو دیکھ لیجئے وہ سب بغیر پیسہ کے حق پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں؟ صفدر صاحب کی احتیاط کا یہ عالم ہے کہ وہ اشتہار اس لیئے نہیں لیتے کہ اس میں کچھ نہ کچھ گڑ بڑ ضرور ہوتی ہے کیونکہ معاشرہ ہی ایسا ہے۔ دوسرے یہ کہ جب بھی ایسا ہوا توتاریخ گواہ ہے کہ پھر وہ بالکل ہی جھاڑو پھر دیتا ہے جیسے کہ طوفان نوح۔اور پھر نئے سرے سے وہ بچے ہوئے لوگوں سے آبادی شروع کرتا ہے کیونکہ اسے ایسے لوگ پسند نہیں ہیں جو تباہی پھیلاتے پھریں۔ جبکہ اس کے ہاں برے معاشرے کی پہچان یہ ہے کہ برا ئی پر کسی کو کوئی ٹونکنے والا نہ رہے۔ البتہ یہ بھی اس کی کہ سنت ہے۔ کہ سال میں دو چار مرتبہ جھٹکے دیکر وہ بندوں کوہوشیار کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ جب اسے بھی لوگ نظر انداز کرجا تے ہیں۔ توانہیں چھوٹے چھوٹے جھٹکو ں کو اوربڑا کرکے دکھاتا ہے کہ شاید اب سمجھ جائیں۔ پھر وہ منزل آجاتی ہے جبکہ ہمیشہ کی طرح اس کی جھاڑو پھر جائے۔
موجودہ دور میں کسی ایسی طاقت کا نام لینا میری مقبولیت کے لیئے خود کشی کہ مترادف ہے۔ ممکن ہے کہ لوگ یہ بھی کہیں کہ بڑے میاں کی عمر زیادہ ہوگئی ہے اور ہوش و حواس کھو بیٹے ہیں۔ اور ہمیں کسی ایسی طاقت سے ڈرارہے ہیں جو دکھائی نہیں دیتی ہے۔ مجھے یہ سب کچھ برداشت کرنا گوارہ ہے۔ انسانیت کی بقا کے لیئے۔ ابھی اس نے صرف ایک جرثومے کی نئی قسم بھیجدی ہے جو کہ پہلے سے موجود تھا اور قدرے کم مہلک بھی ہے، کیونکہ اس میں ہلاکت کا تناسب صرف دو فیصد ہے۔ تو یہ حال ہوگیا ہے کہ پوری اکنامی بیٹھ گئی ہر ایک خائف ہے؟ جبکہ وہ 99 فیصد ہلاکتوں والا جر ثومہ بھی بھیجنے پر بھی قادر ہے کیونکہ اسے صرف کہنا ہوتا ہے اور وہ ہوجاتا ہے۔ تو پھر کیا ہوگا۔ جس کی میں بات کر رہا ہوں سب اسے اچھی طرح جانتے ہیں۔ آج کی دنیا نے بھی اس کو “ مدر نیچر“ کا نام دیا ہوا۔جبکہ وہ قرآن میں کہتا ہے کہ“ مجھے جس اچھے نام سے پکارو وہ میرا نام ہے“
ہم نے اپنے بچپن میں دیکھا تھا کہ جب کبھی کسی قسم کی کوئی مصیبت آتی تھی تو لوگ اسی نادیدہ طاقت کی طرف رجوع کرتے تھے۔ اور بلا ئیں ٹل جا یا کرتی تھیں اس مرتبہ ہم نے یہ پہلی دفعہ دیکھا کہ اس کی بات کوئی نہیں کر رہا ہے؟ نہ اسے ما ن نے والے نہ ہی اسےنہ مان نے والے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ بقول دانشوروں کے کہ پڑھے لکھوں کا تناسب جب بہت کم تھا۔اب پڑھے لکھوں کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ وہ کئی ممالک میں98فی فیصد تک ہے اسی طرح مہلک ہتھیار بھی سب سے زیادہ اس وقت ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ دونوں سپر پاور دنیا میں امن قائم رکھنے میں ناکام رہیں اور ایک صدی لڑتے ہوئے گزر گئی اب میز پر بیٹھ کر حل کرنے کہ موڈ میں ہیں۔ کل میں نے واحد سپر پاور کے سر براہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اب ہم سب ملکراس نئےجر ثومے سے لڑیں گے اور اس کو جلد ہی شکست دیں گے۔ خدا خیر کرے۔ اس کا میرے نزدیک ایک ہی جواب ہے کہ “ کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے۔ اور سب کو اسی کی طرف ایک دن آنا پڑیگا۔ ورنہ خدشہ ہےکہ تجربوں میں دنیا ہی کہیں ختم نہ ہوجا ئے۔ اللہ خیر رکھے۔

SHARE

LEAVE A REPLY