سرسامی کیفیات میں مبتلا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سال کے پہلے ہی روز سے پاکستان کو دھمکیوں پہ دھمکیاں دینے کا سلسلہ شروع کرچکا ہے،تو اُدھر ٹرمپ کی گودی میں لو لی پاپ کا مزہ لیتا بھا رتی وزیراعظم مودی بھی لگے ہاتھوں پاکستان کو خطرناک انجام کی دھمکیاں دینے لگا ہے اِس کی جانب سے ایل او سی پر پاکستانی شہری علاقوںاور فوجی چوکیوںپر گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ زورپکڑتا جارہاہے۔

بد قسمتی سے پاکستان کے حصے میں ہمیشہ یہی آیا ہے کہ جس کے ساتھ پاکستان مخلص ہوتا ہے وہی اِس کو دھوکہ دیتا ہے ٹرمپ کی طرف سے پاکستان کو ملنے والی بہت سی دھمکیاں کو ئی نئی بات نہیں ہے پاکستان نے ہمیشہ امریکا اور بھا رت سے اپنی دوستی نبھانے میں اپنی تن من دھن کی با زی لگا نے سے بھی دریغ نہیں کیا ہے مگربڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جب بھی امریکا پاکستان کو اپنی کسی نئی جنگ یا کسی نئے مسئلے یا مسا ئل سے دوچار کرنا چا ہتاہے تو امریکا ہمیشہ پاکستان کو دھمکیوں سے زیرکرتا آیا ہے مگر اِس مرتبہ ہماری اعلیٰ سول اور عسکری قیادت نے امریکی دھمکیوں کے خلاف کمر کس لی ہے تو یہ اِس پر ڈٹے رہیں تو امریکا کوہم زیرکرسکتے ہیںاور اِس کو اپنی خود مختاری اور سا لمیت کا احساس دلاکر اِس کے ہم پلہ اور برابری کی سطح پر بات کرنے کے قا بل ہوسکتے ورنہ آج نہیں تو پھر کبھی نہیں والانکتہ بھی ذہن میںرہے۔

تاہم گزشتہ کئی دِنوں سے امریکی دھمکیوں کے تناظر میں ہمیں اپنے پڑوسی مُلک ایران کے حالیہ خراب حالات سے بے خبر ہو نے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اِس صورتِ حال میں پاکستان کو چا ہیئے کہ ایران کے تیزی سے خراب اور بدلتے حالات واقعات پر کڑی نگاہ رکھے چونکہ امریکا ایران میں حالات خراب کرکے پاکستان کے بھی اندرونی حالات بگاڑنا چاہتاہے یہ سمجھنا کہ ایران کو ہماری مدد کی ضرورت ہے ؟ تو ہمیں اپنی اِس سوچ پر ضرور نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے کچھ دیر کو بس یہ سمجھ لیں کہ آج ایران میں جو کچھ بھی ہورہاہے اِس کے پسِ پردہ امریکا کی ہی چال کارفرما ہے امریکا ایران کے راستے پاکستان میںبھی وہی کچھ اور اِس سے زیادہ خطرناک انداز سے انارگی اور افراتفریح پھیلا ناچاہتاہے جس کی ایران اور امریکا پہلے ہی پلاننگ کرچکے ہیںامریکا اور ایران کی اِس منصوبہ بندی میں بھارت برابر کا حصہ دار ہے اِس لئے کہ مودی یہ عندیہ دے چکاہے کہ خطے میںامریکی تعا ون سے بھا رت اور ایران دو ایسے ممالک ہیں جو جنوبی ایشیا میں پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کو ناکا می سے دوچار کرنے کے لئے کلیدی کردار اداکرسکتے ہیں ایسے میں یقینی طور پر ہمیںخطے کی موجودہ بگڑتی ہو ئی صورتِ حال سمیت امریکا بھارت اور ایران کے ساتھ ساتھ افغانستان کی آپس میںبڑھتی ہوئی کربتیں اور رابطوں کو اپنی بقا و سالمیت کے لئے بڑا خطرہ سمجھنا ہوگا۔

بہر کیف ، خطے سمیت تیری سے بدلتے ہوئے عالمی حالات و اقعات کے تناظر میں آج منتشرالمزاج پاکستان قوم کو متحد ومنظم ہو نے کا وقت آگیاہے، اگرٹرمپ و مودی کی دھمکیوں پر بھی پاکستانی قوم اپنے دشمنوں سے نبردآزما ہونے کے لئے ایک نہ ہو ئی تو پھر کب اتحاد کا مظاہرہ کرے گی؟ یہ ٹھیک ہے کہ ہما رے ذاتی ، سیاسی اور فروعی اختلافات بے شمار ہیں، مگر اِس لمحے ہمیں اِن سے با لاتر ہوکر صرف ایک قوم بن کر اپنی سرحدوں کی حفاظت اور مُلکی سا لمیت خود مختاری اور استحکام کے لئے کچھ اچھا کرنا ہوگا ورنہ ٹرمپ اور مودی کی گٹھ جوڑ ہمیں کہیں تباہ و برباد نہ کردیں

SHARE

LEAVE A REPLY