
اسلامی طر ز زندگی کے کسی سے آپ معنی معلوم کریں وہ یہ ہی کہے گا کہ ہو بہ ہو حضور ﷺ کے نقش ِقدم پر چلنا۔ کیو نکہ اس پر عمل کرنا ثواب ہے، مثلاً پانی آپ بیٹھ کر اور تین گھونٹوں میں آہستہ آہستہ پیئں تو ثواب ہے اگراس کے بجائے غٹ غٹ کر کے اور کھڑے ہوکر یا لیٹ کر پیئں تو کوئی ثواب نہیں ہے۔؟دوسرے یہ کہ حضورﷺکے طریقہ پر چلنے کو اسوہ حسنہ ﷺ کہتے ہیں اسی میں ہی عافیت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انﷺ کے طر یقہ کو اسلام فرمایا ہے اور کسی کے طریقہ کو نہیں؟ انﷺ کی زبان ِ مبارک سے ادا ہونے والا ہر لفظ قانون کا درجہ رکھتاہے؟ کیونکہ اپنے بعد انﷺ کے اتباع کا حکم قرآن میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرماکر دیا ہے کہ انﷺکا اتباع میرا تباع ہے۔ اور دوسری جگہ فرمایا یہ اپنی خواہش سے کچھ نہیں فرماتے ہیں یہ ﷺ جوکچھ بھی فرماتے ہیں وہ ہی ہوتا ہے جو میری طرف سے وحی کیا جاتا ہے۔ اس لیئے اسوہ حسنہ ﷺکو پڑھنا اور ان پر عمل کرنا انتہائی ضروری ہے۔ گزشتہ مرتبہ ہمارا موضوع حضورﷺ کی صفات تھا جوکہ حدیث قدسی کی صورت میں تھیں اور ہم نے وعدہ کیا تھا ان میں سے کچھ صفاتِ عالیہ قر آن کریم میں بھی مذکور ہیں جو انشا ء اللہ ہم اگلی مرتبہ پیش کریں گے اب ہم اپناوعدہ پورا کررہے ہیں وہ اوصافِ حدیث قدسی کے علاوہ ہیںمیں جوحضورﷺ کی صفات ِمبارکہ ہیں۔ ان آیات کا اردو ترجمہ حوالہ جات کے ساتھ پیش کر رہے ہیں۔ تاکہ جو لوگ تصدیق کرنا چاہیں وہ ان آیات کو قرآن ِکریم میں جا کر دیکھ لیں۔
(1) وہ اللہ ایسا ہے کہ اس نےاپنے رسول ﷺکو ہدایت کا سامان دیکر بھیجا ہی ہےاور سچادین تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کردے اور اللہ کافی گواہ ہے محمدﷺ اللہ اس کے رسول ہیں جو ان کے صحابہ (رض)ہیں وہ کفار کے لیئے سخت اور آپس میں مہربان ہیں تو ان کو رکوع اور سجدہ کر تے ہو ئے پائے گا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجومیں لگے ہوئے ہیں۔(سورہ فتح۔ آیت (29)
(2)حقیقت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر احسان کیا کہ ان میں انہیں کی جنس میں سے ایک ایسے پیغمبر ﷺ کوبھیجا کہ وہ ان لوگوں کو اللہ کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتا ہے ان کے نفس پاک کر تا ہے کتاب اور حکمت سے روشناس کراتا ہے (164) آل عمران)
(3)جولوگ ایسے نبی امی کاﷺ اتباع کرتے ہیں جن کو وہ لوگ اپنے پاس توریت اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں(جن کی صفت یہ بھی ہے کہ وہ ان کو نیک باتوں کا حکم فرماتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں اور پاکیزہ چیزوں کوان لیئے حلال بتاتے ہیں اور گندی چیزوں کو( بدستور) ان پر حرام فرماتے ہیںاور ان لوگوں پر جو بوجھ اور طوق ہے ان کو دور کرتے ہیں سو جولوگ اپنے اس نبی ﷺ پر ایمان لا تے ہیں اور ان کی حمایت کر تے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں اور اس نور کا اتباع کرتے ہیں جو ان کے ساتھ بھیجا گیا ہے ایسے لوگ پوری فلاح پانے والے ہیں((سورہ اعراف)
(4) اور نہ ہی وہ اپنی خو اہش سے باتیں بنا تے ہیں ان کے ارشادات وحی ہیں جو ان کو ہماری طرف وحی کیا جاتا ہے (النجم آیت4 )
(5)اے لوگوں تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر ﷺتشریف لائے ہیں جو تمہاری جنس(بشر) سے ہیں جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے۔جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں(یہ حالت تو سب کے ساتھ ہے پھر بالخصوص ایمان داروں کے ساتھ بڑے تو بڑے شفئیق اور مہربان ہیں(سورہ توبہ ۤیت 128 )
(6) نبی ﷺ مومنین کے ساتھ اپنے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں اور آپﷺ کی بیویاں (مومنوں کی مائیں ہیں(یعنی مسلمانوں پرآپ ﷺکا اپنی جان سے بھی زیادہ حق ہےآپ ﷺ کی اطاعت مطلقاً ہےتعظیم با درجہ کمال واجب ہے(اس میں احکامات اور اعملات آگئے)(سورہ احزاب آیت 6)
(7) تم لوگوں کے لیئےرسولﷺ اللہ کی ذات میں ایک عمدہ نمونہ تھا اور ہمیشہ رہے گا(سورہ احزاب آیت 21)
(8)اور رسولﷺ تم کو جو کچھ دیدیا کریں وہ لے لیا کرو اور جس چیز کے(لیئے) تم کو روک دیں تم رک جایا کروالحشر آیت 7 )
(9) جس شخص نے رسولﷺ اللہ کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی((سورہ النساء آیت(80)
(10) جو شخص اللہ اور اس کے رسولﷺ کی تابعداری کریگا سوپس وہ بڑی کامیابی کو پہنچے گا(سورہ احزاب آیت 71)












