اونچے دعوے جھوٹے لوگ، شمس جیلانی

0
155

یہ محاورہ جو کہ آگے پیش کر رہے ہیں وہ اردو میں ہندی سے آیا ہے۔ اور ہم نے اپنے بچپن میں سنا تھا کہ “ دکھ اٹھائیں بی فاختہ اورکوئے انڈے کھائیں “ اس کہاوت میں بڑی تلخ حقیقت پوشیدہ ہے۔ باقی دنیا کا توپتہ نہیں مگر برصغیر ہند و پاک میں مسلمانوں کی تاریخ اس سے بھری ہوئی ہے۔ جس کی ابتدا یہاں سے ہوتی ہے کہ جب مسلمانوں نے اٹھارہ سو ستاون میں انگریز کے ہاتھوں مایوس کن شکست کھانے کے بعد اپنی کمزوریوں کا جائزہ لیا تو انہیں وجہ یہ ہی نظر آئی کہ وہ اپنی جہالت کی وجہ سے اسلام سے دور ہو گئے ہیں ۔ اس سلسلے میں ایک مذہبی گروپ علماکا اور دوسرا مسٹروں کا فعال ہوئے۔ دونوں نے باہمی تعاون کرنااور سا تھ، ساتھ چلنا چاہا،مگر ان میں سے ایک کی قیادت جلد ہی بدل گئی! چونکہ نظر یات میں دوری کی بہت بڑی خلیج تھی یوں ایک ساتھ بعد میں نہیں چل سکے۔ جبکہ ان میں سے ایک نے دارالعلوم دیوبند اور دوسرے نے مدرسہ علی گڑھ قائم کیا ۔ ایک کے بانی حضرت امداد للہ مہاجر مکی(رح) تھے اور انہوں نے اپنی خانقاہ کو مدرسے میں بدل دیا، مگر وہ تھوڑے ہی دنوں کے بعد انگریزوں کی نگاہ میں کھٹکنے لگا ،مخبری ا پنوں نے ہی کی اور حضرت امداد اللہ مہاجر مکی (رح)کو ترکِ وطن کر کے مکہ معظمہ جانا پڑا۔ اسطرح وہ اپنی معتدل قیادت کھوکر آگے بڑھا لیکن اس نے بھی مولانا شبیرا حمد عثمانی (رح)جیسا ایک فرزند دیکر تحریکِ پاکستان میں حصہ بٹایا، جبکہ دیوبند کانگریس والے دھڑے میں شامل رہااور اِسوقت بھی دنیا کی مشہور درسگاہو میں شا مل ہے۔ د وسرے تھے حضرت سر سید حمد خان (رح) وہ سرکاری ملازم ہونے کے ساتھ ،ساتھ مسلم امہ کا درد بھی دل میں رکھتے تھے۔ مگر ان کے پاس وسائل نہ تھے صرف دماغ اور کام کرنے کی لگن تھی لیکن وہ انگریزی زبان پڑھانے کے حامی تھے کیونکہ ی ا نکے خیال میں دنیاکی ابھرتی ہوئی زبان تھی جبکہ مسلمان انگریز دشمنی کی وجہ سے ان کی زبان کے بھی دشمن تھے، انہیں سخت مخالفت سے گزرنا پڑا ۔ لیکن انہوں نے ا متِ مسلمہ سے ہی چندہ لے کر مدرسہِ علی گڑھ بنایا جو آج دنیا کی مشہور یونیورسٹی ہے۔ لیکن بنا نے والوں کی نیت نیک تھی اس نے پاکستان کی تخلیق میں بھی بڑا کام کیا۔ جبکہ پاکستان بننے سے پہلے دونوں نے اسی سمت میں ایک اور کوششکی ، دونوں گروپوں نے ملک کر دارالعلوم ندوہ کی بنا ڈالی، مگر وہ بھی امت کو متحد کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ، اس نے بھی حضرت سیدسلیمان ندوی(رح) کی شکل میں اپنا ایک نامور فرزند پاکستان کو دیا۔ ان تین گرہوں کے علاوہ بہت سے “ انڈے کھانے والے کوئیوں “ کے گروہ ہمیشہ موجود رہے ۔ جوکہ خود کو بناتے رہے اور اسلام کی جڑیں کاٹتے رہے۔
نعرے چونکہ سب اچھے لگاتے تھے۔

لوگ دھوکا کھا جاتے تھے ان کے اتنے قصہ ہیں کہ یہاں سما نہیں سکتے۔ چونکہ نام سب ایک سے تھے نعرے سب کے ایک سے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد بھی وہ سلسلہ جاری رہا۔ جو بھی آیا اس نے ایک نعرہ لگایا، اور مسلمانوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا، اسے ہیرو بنا دیا، مگر کوئی آجتک کچھ نہ دے سکا؟ وجہ یہ تھی کہ نعرے اچھے تھے۔ مگر وہ مشینری ہمارے پاس صدیوں سے موجود نہیں تھی جس نے مدنی نظامِ حکومت تشکیل دیا تھا۔ وہ تھا ان کے دلوں میں خوفِ خدا ؟نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری اخلاقی حالت روز بروز گرتی چلی گئی ۔اور بقول علامہ اقبال (رح) ہم میں حضرت بلال(رض) جیسے لوگ تو ہیں مگر روحِ بلالی(رض) نہیں ہے۔ اب صورتِ حال یہ ہوگئی ہے کہ ہم جان دیتےتو مال، وطنیت ، برادری وغیرہ کے لیے ہیں۔ مگر صلہ میں شہادت چاہتے ہیں ان کو بزعم خود شہید بھی کہتے ہیں۔ جبکہ حضور (ص) کے ایک غزوہ میں ایک غیر مسلم عین لڑائی کے وقت مسلمان ہوا اس نے اپنے کل مال کے لیے بھی وصیت کردی کہ میں مرجاؤں تو یہ بیت مال کو د یدیا جا ئے ؟اس کے بعد وہ اس بہادری سے لڑا کہ ا س کے جسم کا کوئی حصہ زخموں کے بغیر نہ بچا، صحابہ کرام(رض) کہنے لگے کہ یہ شخص جنتی ہے! حضور (ص ) نے فرمایا نہیں؟ صحابہ کرام (رض) میں تجسس پیدا ہو وہ ا س کی نگرانی کرتے رہے اور اس نے آخر کار زخموں کی تکلیف سے تنگ آکر خود کشی کرلی۔ جوکہ اسلام میں حرام ہے۔ جبکہ اسلام میں شہادت کا مفہوم یہ ہے کہ مرنے والے کا مقصد صرف ا للہ کی خوشنودی ہو، وہی شہید کہلانے اور جنت میں جانے کا مستحق ہے ورنہ نہیں۔ مہاجر وہ کہلانے کا مستحق ہے جس نے خالص اللہ کے کے لیے ہجرت کی ہو۔ اسی طرح کوئی بھی عبادت کسی بھی اورمقصد کے لیے ہو یا حرام مال سے ہو؟ وہ ایسا ہے جیس کی مثال قرآن میں ان الفاظ میں دی گئی ہے۔ جس کا اردو ترجمہ یہ ہے کہ “ جیسے چٹاں پر جمی مٹی میں کوئی پودا اگ آیا ہو، تیز بارش ہو ا ور وہ مع مٹی کے بہہ جائے“ چونکہ ہم اسلام کو سمجھتے ہی نہیں ہیں؟اپنی سادہ لوحی میں ہر لیڈر سے وعدہ کرلیتے ہیں اور جب وہ کہتا ہے جو میں کہوں تم وہ کروگے ،تم میرے لیے جان دو گے ۔ پھر دہرا تا ہے “ اللہ کی قسم کھاؤ کہ جان دوگے ہاتھ کھڑے کرو! لوگ جوش میں کہدیتے ہاں!

جبکہ اس قسم کے وعدے کرنے کے لیے اگر وہ مسلمان ہے تو آزاد نہیں ہے؟ کیونکہ اس کا ہر فعل اللہ کی مرضی کے مطابق ہونا چاہیئے۔ وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ جو کوئی شخص کچھ کہے گا وہ کریگا؟ کیونکہ اس کوصرف مظلوم کی مدد کا حکم دیا گیا ہے۔ بھلائی کے کاموں میں ایک دوسری کی مدد کرنے حکم ہے ، صرف بھلائی ہی کے کامو ں میں اپنا مال خرچ کر نے کا حکم ہے۔ جو مسلمان کسی نعرہ باز کے جوش دلانے پر اللہ کی قسم پر ہاتھ اٹھادیتے ہیں کہ ہا ں! ۔ وہ غلطی پر ہیں؟اب ہاتھ اٹھانے کے بعد دوہی راستے ہیں یا تو وہ ظالم کے ساتھی بن جا ئیں جو کہ مظلوم بن کر ان کے پاس آیا ہے اور دنیا نبھا لیں اور دنیا بنالیں۔ یا پھر دین عزیز ہے !تو توبہ کریں اور قسم ٹوڑنے کا کفارہ ادا کریں۔اللہ دین کو سمجھنے کی ہم سب کو فہم دے اورنیکیاں کرنے کی تو فیق بھی عطا فر مائے۔( آمین)

SHARE

LEAVE A REPLY