ہے دور بلال آج بھی جو شاہ نجف سے

0
87

حیدر کی وکالت میں جو لب کھول رہا ہے
دراصل وہ میثم کی ذباں بول رہا ہے

حاصل نہ ہوئی جس کو بھی حیدرکی غلامی
اس شخص کے ایمان میں کچھ جھول رہا ہے

پلتا ہوں میں خیرات پہ ان کی ہی ازل سے
سادات سے رشتہ مرا انمول رہا ہے

خیرات مرے شاہ نے بانٹی ہے جہان میں
ہاتھوں میں سدا غیر کے کشکول رہا ہے

تقسیم ہمیں کرتا ہے فرقوں میں جو اب تک
وہ شیخ ہی ذہنوں میں زہر گھول رہا ہے

ہے دور بلال آج بھی جو شاہ نجف سے
وہ آل کو امت کی طرح طول رہا ہے

بلال رشید

SHARE

LEAVE A REPLY