اسلام اور حقوق العباد۔۔۔ (26) شمس جیلانی

0
81

گزشتہ مضمون میں ہم نے اس پر بات کی تھی کہ ہم پر حضور (ص) کے ہر حکم کی تعمیل کیوں ضروری ہے؟ اور اس کے ثبوت میں چند آیات پیش کی تھیں جن سے ثابت کیا تھا کہ اتباعِ رسول (ص) ہی اصل میں اتباعِ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہے کیونکہ یہ حکم قرآن میں ہے اور اس کے ماننےوالےاس کا ا نکار نہیں کرسکتے۔ اب آگے جو ہم بڑھیں گے ،تو دو نوں قسم کے احکامات سامنے آئیں گے، کبھی ہم رسول (ص) کے احکامات پیش کریں گے تو کبھی قر آنی احکامات پیش کریں گے۔ میں نے یہ وضاحت یہاں اس لیئے کردی کہ ایک گروہ ایسا بھی پایا جاتا جو کہتا ہے کہ ہمارے لیئے“ صرف قرآن کافی ہے“ جس کی نفی خود قرآن میں لکھی ہوئی وہ آیت کر رہی ہے کہ“ تمہارے لیے تمہارے نبی کے اسوہ حسنہ میں نمونہ ہے“ چونکہ صرف اسوہ حسنہ (ص) ہی ان تمام ذرائع وحی کا احاطہ کرتا ہے جن سے حضور (ص) کی اللہ سبحانہ تعالیٰ رہنمائی فرمائی۔ ان میں قرآن کے علاوہ تین دوسرے ذرائع بھی شامل ہیں۔ جیسے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کاتشریف لانا اور حضور (ص) کو نماز پڑھنے کاطریقہ سکھانا۔ دوسرا ہے خواب میں رہنمائی ملنا جیسے کہ حدیبہ والا معاملہ ۔تیسرا وجد ان اس کی مثال حج کے احکامات ہیں جو مدینہ منورہ کی ایک مضافاتی مسجد سے شروع ہوئے اور منیٰ کے نشیبی علاقے میں جب حضور (ص) نے واپس تشریف لاکر قیام فرمایا توختم ہوئے۔ اسوہ حسنہ (ص) میں قرآن کےعلاوہ یہ سب بھی موجود ہیں ۔
چلیے اب اگے بڑھتے ہیں۔ پہلا سبق حضور (ص) نے ہمیں راستوں اور چال کے بارے میں دیا ہے۔ کیونکہ یہ ہی ذریعہ ہیں جس سےہم ایک دوسر ے سےملنے اور ان کی خبر گیری کے قابل ہوتے ہیں۔ اگر یہ نہ ہوں تو دیوار پھلانگ کر جانا پڑیگا ؟ جس کی کوئی ہمسایہ اجازت نہیں دیگا۔ جب ہمسایہ تک پہونچ ہی نہیں سکیں گے، تو حقوق ہمسائیگی کیسے ادا کریں گے ۔ جس کی تاکید اسقدر ہے کہ حضور (ص) کو خود شبہ ہونے لگا تھا کہ آگے چل کر شاید اس کو وراثت میں شامل کر دیا جائے۔ اس لیے راستہ ضروری ہے اوراسے تعمیر کرنا صدقہ جاریہ قرار دیا گیا ہے۔ اس کی صفائی ہر ایک فرد کی ذمہ داری ہے۔ اس پر سے کانٹے اور رکاوٹیں ہٹانے کابہت ثواب ہے، اینٹ اور پتھر ہٹانے کا ثواب ہے۔ جبکہ آجکل ہر ایک کی اولین ترجیح یہ ہے کہ راستوں کو اہلکاروں کی آنکھ بچا کر یا ان سے مکمکا کرکے جتنا ہوسکے اپنے گھر میں شامل کرلیاجا ئے، لوگوں کے لیے چلنے کی جگہ بچے یا نہ بچے، نتیجہ یہ ہے کہ آبادی بڑھتی جارہی ہے سڑکیں سکڑتی جارہی ہیں، اس سے کسی کوکو ئی غرض نہیں ہے۔ کہ لوگ چلیں گے کائے پر ؟ جبکہ حدیث یہ ہے کہ کسی نے ایک بالشت جگہ بھی کسی کی دبا لی تو قیامت دن کے ساتوں زمینی طبقات کا طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈالاجائے گا۔ ہم اس کی پروا ہی نہیں کرتے جس طرف دیکھئے قبضہ گروپ موجود ہیں؟ جو طرح طرح سے راستو ں میں رکاوٹ ڈالنا اپنا حق سمجھتے ہیں ۔ اگر بس چلے تو کسی کوراہ ہی نہ دیں۔
۔ پھرحدیث یہ ہے کہ چال ایسی اختیار کریں جو نہ تو پہلوانوں والی ہو جس سے رعونت ٹپکتی ہو کہ زمین پھاڑ دیں گے نہ ایسی ہونی چاہئے جیسے کہ راہب چلتے ہیں؟ اسلام ہمیشہ میانہ روی کا حکم دیتا ہے۔ ایسی چال چلیں کہ پر وقار ہو اور چہرے پر بارہ نہ بج رہے ہوں ،بلکہ مسکراہٹ بکھیر تے ہوئے چلیں حدیث ہے کہ “ اپنے بھائی کی طرف مسکرا کر دیکھنا بھی صدقہ ہے“ اس طرح آپ مفت میں ثواب کما ئیں گے۔ اگر کسی کے گھر ملنے جا رہے ہیں۔ تو آداب یہ ہیں کہ اس کے دروازے کے سامنے کھڑے ہوکرآوازنہ دیں کہ آپ کی نگاہ اندر تک کی خبر لے آئے؟ بلکہ ایک طرف کھڑے ہو کر تین مرتبہ سلام کریں ،اگر اندر سے جواب نہ آئے تو چپ چاپ واپس چلے جائیں، بالکل برا نہ مانیں۔کسی قسم کی تاک جھانک کی کوشش نہ کریں کہ آیا وہ گھر پر ہے یا نہیں ہے، ممکن ہے کہ وہ اس وقت ملنے کی پوزیشن میں نہ ہو؟ کیونکہ یہ سب حرکتیں سورہ حجرات میں منع ہیں ۔
یہ مسئلہ پہلے زیادہ مشکل تھا، جبکہ رسل و رسائل کے اتنے آسان ذرائع موجود نہ تھے۔ آج تو یہ مسئلہ موجود ہی نہیں ہے، ہر بچے کے پاس موبائل ہے۔ آنے سے پہلے وقت مقرر کرلیں،اگر وقت لے لیا ہے تواس کاخیال رکھیں یہ نہیں کہ“ میں ابھی آیا“ کہہ کر بھول جائیں اگر کسی سے وجہ سے تاخیرہورہی ہے، تو میز بان کو مطلع کردیں۔ کسی کے گھر کبھی اچانک نہ جا ئیں؟ ممکن ہے کہ وہ اسوقت آپ کوخوش آمدید کہنے کی پوزیشن میں نہ ہو؟ اور اس کو بے وقت کی آمد گراں گزرے؟ نہ اس کے یہاں اتنا بیٹھیں کہ وہ تنگ ہو جائے ، غرضیکہ دونوں باتوں کاخیال رکھیں نہ اتنا انتظار کرائیں کہ وہ پریشان ہوجا ئے نہ اتنا بیٹھیں کہ تنگ ہوجائے ۔اگر وہ عزیز یا رشتہ دار ہو تو مجبور ہے ، برداشت کریگا،اگر آپ کا دوست ہواتو ممکن ہے کہ یارانہ ہی چلا جا ئے۔ سلام کاجواب مل جائے تو اندر تشریف لے جائیں اگر وہ بلائے، ورنہ چند منٹ انتظار کریں ممکن ہے وہ لباس تبدیل کر رہا ہو؟اور خود باہرآ رہا ہو۔ اگر ااندر چلنے کہے توجائیں نہ کہے تو نہ جائیں۔ (باقی آئندہ )

SHARE

LEAVE A REPLY