میجر طفیل محمد شہید نشان حیدر کا 66 واں یوم شہادت آج منایا جا رہا ہے۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، سروسز چیفس اور مسلح افواج کی جانب سے میجر محمد طفیل شہید کو انکی شہادت پر بھرپور خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔
میجر طفیل محمد شہید نے 1958 میں مشرقی پاکستان میں لکشمی پور سیکٹر پر بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا، انہیں نشان حیدر پانے والے دوسرے شہید ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کیلئے جان کا نذرانہ دینے والے وطن کے سپوتوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
پاکستان کا سب سے بڑاعسکری اعزاز ”نشان حیدر“ حاصل کرنے والے میجر طفیل محمد شہید کا یوم پیدائش بائیس اگست کو منایا جاتا ہے
وہ اگست1914کو پنجاب کے شہر ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے1943 سے1958 تک پاکستان آرمی میں سروس کی۔ میجر طفیل محمد شہید اٹھارہ پنجاب رجمنٹ میں میجر کے رینک پر تھے او 7اگست1958 کو لکشمی پورایریا میں جام شہادت نوش کیا۔
جون 1958ء میں میجر طفیل محمد کی تعیناتی ایسٹ پاکستان رائفلز میں ہوئی۔ اگست 1958ء کے اوائل میں انہیں لکشمی پور کے علاقے میں ہندوستانی اسمگلرز کا کاروبار بند کرنے کا حکم ملا۔ میجر طفیل محمد نے اپنی کارروائی کے لیے ایک منصوبہ بنایا اور 7اگست 1958ء کو دشمن کی چوکی کے عقب میں پہنچ کر فقط پندرہ گز کے فاصلے سے حملہ آور ہوئے۔ دشمن نے بھی جوابی کارروائی کی اور مشین گن سے فائرنگ شروع کردی۔ میجر طفیل چونکہ اپنی پلاٹون کی پہلی صف میں تھے اس لیے وہ گولیوں کی پہلی ہی بوچھاڑ سے زخمی ہوگئے تاہم وہ زخمی ہونے کے باوجود آگے بڑھتے رہے اور انہوں نے ایک دستی بم پھینک کر دشمن کی مشین گن کو ناکارہ بنا دیا۔ جلد ہی دشمن سے دست بہ دست مقابلہ شروع ہوگیا۔ یہ مقابلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک پاکستان نے دشمن کو پسپا ہوکر بھاگنے پر مجبور نہ کردیا۔ دشمن اپنے پیچھے چار لاشیں اور تین قیدی چھوڑ گیا۔
اسی رات شدید زخمی ہونے کے باعث میجر طفیل اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ میجر طفیل کے اس غیر متزلزل جذبہ حب الوطنی‘ اعلیٰ درجے کے احساس فرض‘ شجاعت اور بلند ہمتی کے باعث انہیں پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر دیے جانے کا اعلان کیا گیا۔
میجر طفیل محمد کو فاتح لکشمی پور بھی کہا جاتا ہے ۔ 5 نومبر 1959ء کو صدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے کراچی میں ایوان صدر میں منعقد ہونے والے ایک خاص دربار میں میجر طفیل محمد کی صاحبزادی نسیم اختر کو یہ اعزاز عطا کیا۔ میجر طفیل محمد یہ اعزاز












