قرۃالعین حیدر,ایک دن اور بیت گیا

0
826

ایک دن اور بیت گیا
جانے وہ اب کیسا ہوگا
سب کچھ اپنے دل میں رکھ کے
کبھی تو پچھتاتا ہوگا
کتنا آساں لگتا ہے کہ
یادیں ماضی کرڈالو تو
اک اک پل عذاب بن جائے
دل تو پھر بھی سلگتا ہوگا
کبھی تو یہ بھی سوچتا ہوگا
کیسی دِکھتی ہیں وہ آنکھیں
ہر پل جو انتظار کرتی تھیں
اب تو ہر دم نم رہتی ہیں
بات تو صرف اتنی سی ہے
نین رکھے ہیں دروازے پر
قدموں کی آہٹ پر کان دھرے ہیں
جگمگ کرتی اس دنیا میں
خود کے اندر چھُپا سناٹا
تُو نے کبھی خود کو نہ جانا
دل کے اندر جینا سیکھا
اپنے من کو پانا سیکھا
چھوڑی دنیا کی پرواہ
اپنے دل کو میت بنا
سوچوں میں ہُوا ہوں گُم
پوچھ رہا ہوں خود سے میں
وہ جگہ جو چھوڑی تھی
بھر کیوں رہا ہے کوئی اور؟؟؟

قرۃالعین حیدر

SHARE

LEAVE A REPLY