ایک دن اور بیت گیا
جانے وہ اب کیسا ہوگا
سب کچھ اپنے دل میں رکھ کے
کبھی تو پچھتاتا ہوگا
کتنا آساں لگتا ہے کہ
یادیں ماضی کرڈالو تو
اک اک پل عذاب بن جائے
دل تو پھر بھی سلگتا ہوگا
کبھی تو یہ بھی سوچتا ہوگا
کیسی دِکھتی ہیں وہ آنکھیں
ہر پل جو انتظار کرتی تھیں
اب تو ہر دم نم رہتی ہیں
بات تو صرف اتنی سی ہے
نین رکھے ہیں دروازے پر
قدموں کی آہٹ پر کان دھرے ہیں
جگمگ کرتی اس دنیا میں
خود کے اندر چھُپا سناٹا
تُو نے کبھی خود کو نہ جانا
دل کے اندر جینا سیکھا
اپنے من کو پانا سیکھا
چھوڑی دنیا کی پرواہ
اپنے دل کو میت بنا
سوچوں میں ہُوا ہوں گُم
پوچھ رہا ہوں خود سے میں
وہ جگہ جو چھوڑی تھی
بھر کیوں رہا ہے کوئی اور؟؟؟
قرۃالعین حیدر













