ممبئی: (ندیم صدیقی)کانپور سے بتاخیر ملنے والی اطلاع کے مطابق جگر اکیڈمی کے ناظم اور کانپور میں کلاسیکی طرز کے ممتاز شاعر86سالہ عبدالرزاق خاں العمروف شاعر فتح پوری (بدھ 26جنوری) کو
انتقال کر گئے۔
شاعرؔ فتح پوری9جولائی1936کو فتح پور (ہسوہ۔یوپی) میں پیدا ہوئے تھے ۔ انہوں نے کانپور کی مشہور درس گاہ فیض عام کالج سے انٹر میڈیٹ پاس کیا اور کانپور ہی کی مشہور الگن مِل میں برسرکار ہوگئے۔ وہ اپنے زمانے کے مشہور اور جگرؔ اسکول کے ممتاز اُستاد شاعر حـضرت ِشارِق اَیرَایَانی کے حلقۂ تلمذ میں نمایاں تشخص رکھتے تھے۔ انکے برادر ِبزرگ جلیلؔ فتح پوری کا بھی کانپور کے ممتاز شعرا میں شمار ہوتا تھا۔ جلیل فتح پوری کی رِحلت کے بعد وہ کانپور کے مشہور و فعال ادبی ادارے’’ جگر اکیڈمی‘‘ کے جنرل سکریٹری بنائے گئے اور ان کی سربراہی میں جگر مرادآبادی سے موسوم یہ ادارہ خاصا فعال رہا۔
شاعر فتح پوری کانپور میں نصف صدی سے زایدادبی بالخصوص شعری روایت کے شاہد و مشہود کی حیثیت رکھتے تھے۔ شاعر فتحپوری کے کئی شعری مجموعے زیورِ طباعت سے آراستہ ہو چکے ہیں جن کے نام اس طرح ہیں: صہبائے حقیقت، بساطِ انجم، تیر نیم کش، متاعِ ہنر،رباب ِسحر اور شعلۂ جمال جبکہ ان کا’’ کلیاتِ شاعر‘‘ بھی طبع ہوچکا ہے۔ انھیں اُردو اکادیمی ایوارڈ ز سے بھی سرفراز کیا گیا۔ ان کےجسد خاکی کو بدھ ہی کی شام سپردِ لحد کر دِیا گیا۔













