تیری دنیا کا یہ انداز نرالا دیکھا
تجھ کو دیکھا تو یہ عالم تہہ و بالا دیکھا
زیب دیتا نہیں تجھ کو یہ تکبر جاناں
بس یہی سوچ کے پھر تیرا حوالہ دیکھا
رات تاریک تھی پر میری نظر نے پھر بھی
دور آفاق میں اک نور کا ہالا دیکھا
اے عدو میرے تو ہر دم نہ گماں کر میرا
زخمی جو دیکھا ہے وہ اپنا ہی پالا دیکھا
تم نے محبوب کے محبوب کو دیکھا ہو گا
بات کرتا رہا اور ہونٹوں پہ تالا دیکھا
محبوب الہی بٹ













