اسلام میں ظلم کے معنی۔۔شمس جیلانی

0
896

یہ لفظ ہمارے یہاں عام بولا جاتا ہے جبکہ اکثر بولنے والوں کو اس کے معنی ہی نہیں معلوم ہیں کہ آخر اس کے معنی ہیں کیا؟ کیونکہ عربی زبان میں کسی ایک لفظ کے بہت سے معنی ہوتے ہیں اور بولنےوالانہیں طے کرپاتا کہ اس لفظ کے وہ اردو معنی استعمال کر رہا ہے یا عربی؟۔جبکہ یہ لفظ عربی میں بندے سے لیکر اللہ سبحانہ تعالیٰ تک ان میں سے کسی کے حقوق جو کہ کسی فردپر واجب ادا ہوں اور کوئی اس کی خلاف ورزی کےتو ظالم ہے۔ جبکہ یہ کرنے والے کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ وہ اس گناہ کے مرتکب ہورہے ہیں جو کہ بہت بڑا گناہ ہے.?
1947. میں ہندوستان تقسیم ہو کر اس کا ایک حصہ ایسٹ پاکستان بنا اور دوسرا حصہ ویسٹ پاکستان بناجوکہ اب پاکستان کہلاتا ہے؟ یہاں کے لوگوں کو بار بار تبادلہ آبادی کا شکار ہونا پڑاکیونکہ یہ زیادہ تر باہر سے آنے کی وجہ سے اس شاہراہ یہ لوگ آباد تھے جو ہندوستان کو بقیہ دنیا سے ملا تا تھا نتیجہ یہ تھا جو بھی باہر سے ہندوستان پر حملہ کرنے آتاانہیں کو روندتا ہوا جاتا تھا۔ اگر تاریخ میں جا ئیں گے تو سب سے زیادہ لوگ یہاں غیرو ں کے علاوہ اپنو ں ہی کے مظا لم کا شکار ہوتے رہے اوران کے عزیز او رقارب غیر ملکی افواج کے ریلے میں ادھر سے ادھر نقل ِ مکانی کرتے رہے۔ اور اس میں خواتین بہت ہی زیادہ متاثر ہوتی رہیں جنکا دنیا میں اسلام آنے تک کوئی مقام نہ تھا؟ اسلام نے ان کو حقوق دلائے اور سب سے زیادہ ہادی ِ اسلامﷺ نےاہمیت دی اور اپنے آخری خطبہ وداع میں ان کا اور غلامو کا کمزوروں کے نام سے موسوم فرما کر بہت زیادہ اہمیت دی کہ ان کا سب سے زیادہ خیال رکھنا؟ اتنے میں انکا ﷺ وصال ہوگیا؟ ہندوستان میں ان کی حالت انتہائی پست تھی اس پر بہت کچھ ہونا باقی تھا۔کہ اس پر ظلم یہ ہوا کہ وہاں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حکو مت آگئی جن کے یہاں دین ان کا اپنا تھا لیکن معاشرہ بدستورد ہندوانہ تھا۔
لہذا وہاں ستر سال تک وہ مسلمان ہوتے ہوئے اپنی آبائی جائیداد میں وراثت سے نہ صرف محروم رہیں بلکہ خلع تک کے حق سے بھی محروم رہیں جو مسلمان خواتین کو اسلام میں حاصل تھا؟ جس کی وجہ سے وہ اپنا مذہب تبدیل کرنے پر مجبور ہوتی رہیں۔اس سے ۱نیسویں صدی میں کہیں جاکر ان کی جان چھٹی جبکہ مولانا راشد الخیری ؒ اور سر شاہ نواز نے مرحوم نے بڑی مشکلو ں سے چھٹائی اور ان کو انکے انگریزی حکومت سے حقوق دلوائے ابھی ان پر پوری طرح سے ان پر عمل در آمد نہیں ہو پا یا تھا کہ جب تک 1947 میں پاکستان بن گیا اور جس کے نتیجہ میں بہت بڑا قتل عام ہوالوگ اپنے آبائی گھروں کو چھوڑ کر فرار ہو نے پر مجبور ہوئے یا شہید ہو گئے لاکھوں خواتین اپنی آبرو کھو بیٹھیں لاکھوں خاندان اپنے عزیز اور اقربا کھو بیٹھے۔ جہاں جس کو جگہ ملی وہ جاکر آباد ہوگیا؟ اس وقت دنیا آج کی طرح نہیں تھی کہ ایک دوسرے سے با خبر رہ تے ہوئ ہجرت کرتے؟ جہاں غیر مسلموں نے مظالم ڈھائے تو مسلمانو ں نے بھی اپنو ں کو نہیں بخشا؟ ان کے جو رشتہ دار نقل مکانی کر رہے تھےوہ ان کے فائدہ میں تھا۔ سب لوگ یہ بھول چکے تھے کہ کس سےکس کا کیا رشتہ ہے؟ وہ قوم جو اپنی ایمانداری اور سچائی کے لیئے مشہور تھی؟ آج وہ لوٹ مار میں مصروف تھی۔ لہذا خاندانی نظام برادری کا نظام سب ختم ہوگیا۔ آج تک لوگوں نے اس لئے کسی تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی کہ ان کے رشتہ داروں کا کوشش نہ کرنے میں ہی فائدہ تھا؟ اور اس بری طرح پر ظلم کیا ظلم کے معنی بھول گئے؟ خواتین کے سلسلہ میں رویہ اور بھی خراب رہا اس لیئے کسی نے ا نہیں معلوم ہوتے ہوئے بھی تلاش کوشش نہیں کی؟اسلیئے کہ معلوم کرکے ان کے حقوق ادا کر نے کی کوشش کی تو ان کی موچھ ہم چشموں میں نیچی ہوجا ئے گی ۔ جب کہ ان میں سے بہت سے آج بھی نان شبیہنہ کو محتاج ہیں اور قرآن مجید “وذل قربیٰ سے بات شروع کرتا ہے یہ تو تھا ان کا پہلا ظلم جبکہ دوسرا ظلم یہ ہے ان کے اقربا ء غیر ملکو میں کمارہے ہیں بجائے ان کو اولیت دینے کے ان کو ذکات کی مدد سے کچھ بھی نہیں دیرہے ہیں کیا یہ ظلم نہیں کر رہے ہیں؟ جب تک انہیں پتہ نہیں تھا کہ کون کہاں ہے اب جبکہ علم میں آچکا ہے تواولیتاانہیں دینا چا ہیئے۔ وہ تو دینا دور کی بات ہے! پاکستان میں بہنوں کے ساتھ ان کا حصہ ہضم کرجانا عام بات ہے۔ خصو صا ً سید برادری بہنو ں سے آبائی جائیداد بچا نے کے لئے ان کا قر آن شریف سے نکاح کرا دیتے ہیں۔ اور بچاری ہمیشہ کنواری بیٹھی رہتی ہے یہ اللہ تعالیٰ کے یہاں جاکراس ظلم پر کیا جواب دیں گے۔ اسیطرح ہندوستان کے مسلمان اس ظلم میں پیچھے نہیں کیونکہ ہندومت میں خواتین کا وراثت میں کوئی حصہ نہیں ہےلہذا وہاں بھی بھائیوں نےاس ظلم میں پورا حصہ لیا اب وراثت میں بہنو ںکو وہا ں بھی کچھ ملتا ؟

SHARE

LEAVE A REPLY