رومانیہ کے صدر نے سیوِل شاہدہ کی بطور پہلی مسلم خاتون وزیر اعظم نامزدگی کو مسترد کردیا۔

سیول شاہدہ کی نامزدگی مسترد کیے جانے سے رومانیہ میں نئے سیاسی بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

مسلم اقلیت سے تعلق رکھنے والی 52 سالہ سیول شاہدہ کو بطور وزیر اعظم، الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے والی دائیں بازو کی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (پی ایس ڈی) نے نامزد کیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق رومانیہ کے صدر کلاؤس یوہانس نے سیول شاہدہ کی نامزدگی مسترد کرنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی، تاہم افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ انہیں مسترد کیے جانے کی وجہ ان کے شوہر کا شامی پس منظر ہونا تھا۔

کلاؤس یوہانس نے نامزدگی مسترد کرنے کے بعد ’پی ایس ڈی‘ سے دوسری نامزدگی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے ہر زاویے سے سوچ کر سیول شاہدہ کی نامزدگی مسترد کی۔‘

یہ بھی پڑھیں: رومانیہ کے نئے وزیراعظم کیلئے مسلم خاتون کا نام تجویز
واضح رہے کہ رومانیہ میں 11 دسمبر کو ہونے والے عام انتخابات میں پی ایس ڈی نے کامیابی حاصل کی تھی اور ایک اتحادی جماعت کی حمایت کے ساتھ 465 نشستوں پر مشتمل پارلیمنٹ میں 250 سیٹوں کے ساتھ سادہ اکثریت رکھتی ہے۔

سیول شاہدہ کو مسترد کیے جانے کے بعد سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’سیول شاہدہ کے بجائے ان کے 54 سالہ شوہر کو توجہ دی گئی، جو 2011 میں رومانیہ ہجرت کرنے سے قبل شام کی وزارت زراعت میں 20 سال خدمات انجام دے چکے ہیں۔‘

تحقیقاتی صحافت کے غیر منافع بخش گروپ ’رائس پروجیکٹ‘ کا کہنا تھا کہ ’سیول شاہدہ کے شوہر متعدد بار شامی صدر بشارالاسد اور لبنان کی حزب اللہ تحریک کی حمایت میں بیان دے چکے ہیں۔

ویب سائٹ ’ہاٹ نیوز‘ نے نامعلوم ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’سیکیورٹی سروسز نے سیول شاہدہ کی نامزدگی پر سخت تنبیہہ کی تھی، کیونکہ ان کے شوہر اور دو بھائیوں نے بشارالاسد کی حکومت سے قریبی تعلقات ہیں۔‘

SHARE

LEAVE A REPLY