پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیئر رہنما اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف خورشید شاہ نے اعلان کیا ہے کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے پارلیمنٹ میں آنے کے بعد اپوزیشن لیڈر کا عہدہ چھوڑ دیں گے۔

ڈان نیوز کے پروگرام ‘نیوز آئی’ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے واضح کیا کہ اگرچہ یہ پارٹی کا فیصلہ نہیں، لیکن عہدے سے مستعفی ہونا ان کی اپنی خواہش ہے اور ایسا ہی ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ ‘بلاول اس وقت پارٹی کے چیئرمین ہیں، لہذا اگلے اپوزیشن لیڈر بھی وہی ہوں گے، کیونکہ مجھے اب اپنے رہنما کو جگہ دینی ہے’۔

خیال رہے کہ خورشید شاہ نے یہ اعلان ایسے وقت میں کیا ہے جب ایک روز قبل ہی پیپلز پارٹی نے واضح کیا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری اگلے اپوزیشن لیڈر نہیں ہوں گے۔

اس سوال پر کہ آپ کے مقابلے میں بلاول کا تجربہ بہت ہی کام ہے تو کیا آپ انہیں اسمبلی کے طور طریقوں کے حوالے سے تربیت دیں گے؟ خورشید شاہ نے کہا کہ یہ ایک ٹیم ورک ہوگا اور جس طرح سے ماضی میں کور کمیٹی کے اجلاسوں میں مشاورت ہوتی تھی، آئندہ بھی ایسا ہی ہوگا۔

انھوں نے اس بات کو رد کیا کہ بلاول ان کی کارکردگی سے ناراض ہیں، انہوں نے بتایا کہ اسمبلی میں ان کی تقاریر کے دوران لب و لہجہ نرم ضرور تھا، لیکن لفظوں میں طاقت اس سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔

خورشید شاہ نے آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے پارلیمنٹ میں آنے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے شروع دن سے ایوان کو مضبوط کرنے کی بات کی، کیونکہ یہی جمہوریت کا حُسن ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ فیصلہ دونوں رہنماؤں میں مشترکہ طور پر کیا جو کہ ملک کیلئے بہتر ہے۔

اس سوال پر کہ گذشتہ ساڑھے تین سال سے آپ کی ایوان میں موجودگی کے باوجود حکومت پر دباؤ بڑھنے کیلئے اب بلاول اور زرداری کو کیوں پارلیمنٹ جانا ضروری محسوس ہوا اور کیا یہ آپ پر عدمِ اعتماد کا نتیجہ ہے؟ ، پی پی رہنما نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ‘ایسا نہیں ہے، کیونکہ اُس وقت سب سے بڑا مسئلہ بلاول کی کم عمر کا ہونا تھا جبکہ اب وہ پارٹی کے چیئرمین بھی ہیں اور عمر کے بھی اس حصے پر پہنچ گئے ہیں جہاں انہیں اپنا کردار ادا کرنا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ وقت کی ضرورت ہے، لہذا اب بلاول کو آگے آکر الیکشن لڑنا ہوگا اور پارلیمنٹ کا تجربہ ان کا اثاثہ بن جائے گا’۔

خورشید شاہ نے کہا کہ وہ خود اپنی کارکردگی پر بات نہیں کرسکتے اور ان کے جانے کے بعد آپ سب کو معلوم ہوجائے گا کہ میں نے اس عہدے پر رہ کر کیا کام کیے ہیں۔

واضح رہے کہ حال ہی میں 27 دسمبر کو سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی 9ویں برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش میں منعقدہ جلسے سے خطاب میں کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے بیٹے اور پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ 2018 کے عام انتخابات میں حصہ لینے اور اسی پارلیمنٹ میں آنے کا اعلان کیا تھا۔

آصف علی زرداری 18 ماہ کی خود ساختہ جلا وطنی کے بعد 23 دسمبر کو پاکستان واپس آئے تھے، کراچی پہنچنے پر کارکنان سے خطاب میں انہوں نے عندیہ دیا تھا کہ وہ 27 دسمبر کو مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے اہم اعلان کریں گے۔

SHARE

LEAVE A REPLY