پندرہ جون 1927ء پاکستانی شاعر و سفرنامہ نگار اور مزاح نگار ابن انشا کی ولادت

0
303

اردو شعر و ادب میں بے پناہ شہرت پانے والے ابنِ اِنشاء کا اصل نام شیر محمد تھا۔ آپ15 جون 1927 ء کو ہندوستان کے ضلع لدھیانہ کی تحصیل پھلور کے گاوٴں تھلہ کے ایک راجپوت گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد کا نام منشی خان تھا۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے گاوٴں کے سکول میں حاصل کی۔ گاوٴں سے کچھ فاصلے پر واقع اپرہ قصبہ کے مڈل سکول سے مڈل اور 1941ء میں گورنمنٹ ہائی سکول لدھیانہ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور اول پوزیشن حاصل کی۔ اس زمانے میں \”نوائے وقت\” ہفتہ وار اخبار کی شکل میں شائع ہوتا تھا۔ ابنِ اِنشاء کی حمید نظامی سے خط کتابت تھی لہٰذا انہوں نے ایک خط میں مجید نظامی مرحوم سے لاہور آکر \”نوائے وقت\” میں ملازمت اختیار کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ حمید نظامی نے مشورہ دیا کہ تمہیں مزید تعلیم حاصل کرنی چاہئے ۔ چنانچہ ان کے کہنے پر ابنِ اِنشاء لاہور آگئے اور اسلامیہ کالج لاہور میں فرسٹ ایئر میں داخلہ لے لیا مگر تین مہینے کے مختصر قیام کے بعد وہ بوجوہ تعلیم ادھوری چھوڑ کر لدھیانہ چلے گئے ۔ بعدازاں لدھیانہ سے انبالہ آگئے اور ملٹری اکاوٴنٹس کے دفتر میں ملازمت اختیار کرلی لیکن جلد ہی یہ ملازمت بھی چھوڑ دی اور دلی چلے گئے ۔ اس دوران میں آپ نے ادیب فاضل اور منشی فاضل کے امتحانات پاس کرنے کے بعد پرائیویٹ طور پر بی اے کا امتحان پاس کرلیا۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہیں اسمبلی ہاوٴس میں مترجم کی حیثیت سے ملازمت مل گئی۔ بعدازاں آل انڈیا ریڈیو کے نیوز سیکشن میں خبروں کے انگریزی بلیٹن کے اردو ترجمے پر مامور ہوئے اور قیام پاکستان تک وہ آل انڈیا ریڈیو ہی سے وابستہ رہے ۔ پاکستان بنا تو اپنے اہل خانہ کے ساتھ ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور لاہور میں سکونت اختیار کی۔ 1949ء میں وہ ریڈیو پاکستان کراچی کے نیوز سیکشن سے بطور مترجم منسلک ہوگئے ۔ اس دوران ابن اِنشاء کو اپنی ادھوری تعلیم مکمل کرنے کا خیال آیا تو انہوں نے اردو کالج کراچی میں 1951ء میں ایم اے اردو کی شام کی جماعتوں میں داخلہ لے لیا اور 1953ء میں ایم اے کا امتحان اعزاز کے ساتھ پاس کیا اور کراچی یونیورسٹی میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ایم اے کرنے کے بعد انہوں نے ڈاکٹریٹ کیلئے تحقیقی کام کرنے کا بیڑہ اٹھایا اور اس سلسلے میں کافی تگ ودو کے بعد انہیں مارچ 1954ء میں مقالے کیلئے عنوان۔ (Tradition of nazm to the exclusion of ghazal in urdu poetry a historical critical survay from the earliest time to date) یعنی \”اردو نظام کا تاریخی و تنقیدی جائزہ (آغاز تاحال) تفویض ہوا اور مولوی عبدالحق ان کے نگران مقرر ہوئے مگر بدقسمتی سے وہ اپنے اس مقالے کو مکمل نہ کرسکے کچھ عرصہ کراچی میں گزارنے کے بعد آپ لاہور تشریف لے آئے ۔ ان کی بھرپور ادبی زندگی کا آغاز لاہور ہی سے ہوا۔ لاہور میں ان کی رہائش ایبٹ روڈ کے قریب واقع تھی۔ 1941ء میں ابنِ اِنشاء کی شادی لدھیانہ میں عزیزہ بی بی سے ہوئی عزیزہ بی بی سے ابنِ اِنشاء کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہوئی بعدازاں گھریلو ناچاکی کے سبب عزیزہ بی بی اور ابنِ انشاء میں علیحدگی ہوگئی مگر طلاق نہ ہوئی لہٰذا عزیزہ بی بی نے باقی تمام عمر ان کی بیوی کی حیثیت ہی سے زندگی بسر کی۔ 1969ء میں آپ نے دوسری شادی کی دوسری بیگم کا نام شکیلہ بیگم تھا۔ دوسری بیوی سے آپ کے دو بیٹے سعدی اور رومی پیدا ہوئے ۔ آپ نے کچھ عرصہ نیشنل بک فاوٴنڈیشن کے سربراہ کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ بالآخر ادبی افق پر روشن اس درخشاں ستارے نے 11 جنوری 1978ء کو لندن میں داعی اجل کو لبیک کہا آپ نے سکول ہی کے زمانے میں شعر کہنا شروع کردیا تھا اور شیر محمد کے ساتھ \”مایوس صحرائی\” تخلص اختیار کیا مگر بعدازاں اپنے فارسی کے استاد مولوی برکت علی لائق کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے \”مایوس صحرائی\” کو ترک کرکے \”قیصر\” تخلص اختیار کیا۔ بعدازاں 1945ء میں \”ابنِ اِنشاء\” کا قلمی نام اختیار کرلیا اور پھر اس نام سے شہرت و مقبولیت حاصل کی۔ ابنِ اِنشاء ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ۔ انہوں نے غزل و نظم، سفر نامہ، طنز و مزاح اور ترجمے کے میدان میں طبع آزمائی کی اور اپنی شاعری و نثر کے وہ اَنمٹ نقوش چھوڑے کہ جن کی بنا پر اردو ادب میں ان کا نام ہمیشہ ہمیشہ کیلئے زندہ جاوید ہوگیا۔ آپ کی شعری و نثری تخلیقات کی تفصیل کچھ یوں ہے ۔ شاعری(چاند نگر 1955ء اس بستی کے اک کوچے میں 1976 ء اور دلِ وحشی 1985 ء) طنز و مزاح (اردو کی آخری کتاب 1971، خمارِ گندم 1980ء ) سفر نامے (چلتے ہو تو چین کو چلئے 1967، دنیا گول ہے 1972، ابنِ بطوطہ کے تعاقب میں 1974 ء اور نگری نگری پھرا مسافر 1989) تراجم (اندھا کنواں اور دیگر پراسرار کہانیاں(ریڈ گرایلن پو کی کہانیاں) مجبور (چیخوف کے ناول کا ترجمہ) ۔ لاکھوں کا شہر (اوہنری کے افسانوں کا مجموعہ)۔شہر پناہ (جان سٹین بک کا ناول THIS MOON IS DOWN ) چینی نظمیں ایڈ گرایلن پو کے افسانوں کے ترجمے ، سانس کی پھانس، وہ بیضوی تصویر، چہ دلاور است دزدے ، عطر فروش دوشیزہ کے قتل کا معمہ، ولہلم بش کے جرمن قصے کا ترجمہ (قصہ ایک کنوارے کا) بیرنن منش ہاوٴزن جرمن گپ باز کے کارناموں کا ترجمہ (کارنامے نواب تیس مار خان کے ) بچوں کا ادب (تارو اور تارو کے دوست۔ بچوں کی جاپانی کہانی کا اردو ترجمہ از کیکو مورایا۔(شلجم کیسے اکھڑا بچوں کیلئے ایک پرانی روسی کہانی کا ترجمہ) طویل نظم، یہ بچہ کس کا بچہ ہے ؟ قصہ دْم کٹے چوہے کا بچوں کیلئے منظوم کہانی، میں دوڑتا ہی دوڑتا LOOK AT THIS CHILD (یہ بچہ کس کا بچہ ہے کا انگریزی ترجمہ، 1965ء کی جنگ سے متعلق مضامین کا مجموعہ، برف کی پوٹلی \”اختر کی یاد میں\” معروف صحافی محمد اختر کی وفات پر لکھے جانے والے مضامین اور تعزیت ناموں کا مجموعہ اور شاہ عبداللطیف بھٹائی کی سندھی شاعری کا اردو ترجمہ بھی آپ نے کیا۔ ابنِ اِنشاء کا تعلق ترقی پسند شعراء کی اس قبیل سے تھا جو اشتراکیت سے زیادہ سوشلزم کے حامی تھے ۔ مگر اس کے باوجود ان کی غزل پر کسی قسم کی چھاپ دکھائی نہیں دیتی۔ نظم ہو یا غزل ہر میدان میں ان کی شاعری لازوال ہے ۔ ان کے ہاں انسان کے معاشی اور سیاسی عدم استحکام کی جھلک اور کسک بھی ہے اور ایک عجیب پراسرار رومانی ماحول بھی۔ یہ دونوں تجربے ان کی شاعری میں ساتھ ساتھ چلتے ہیں کبھی حسن سے لگاوٴ حد سے تجاوز کرجاتا ہے اور کبھی زندگی اپنی حد امکان سے زیادہ عزیز معلوم ہونے لگتی ہے ۔ ان کی نظموں پر مغربی شاعری اور ترقی پسندی کا غلبہ ہے جبکہ ان کی غزل مروجہ اصول و ضوابط کی پابند ہے وہ اپنی غزل میں میر سے بے حد متاثر نظر آتے ہیں لیکن ان کی شاعری میں رنگ میر کی تقلید کے ساتھ ساتھ نازک، شگفتگی اور ندرت اظہار بھی ہے ۔ انہوں نے میر کی تقلید کے باوجود اپنی غزل کو اپنے ماحول اور معاشرے سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اپنے لئے ایک نئی راہ نکالی ہے اپنی اس خوبی کی بنا پر وہ اپنے دیگر ہم عصروں میں نمایاں مقام کے حامل ہیں۔ ہندی کے الفاظ کے استعمال نے ان کے کلام میں وہ چاشنی اور جاذبیت پیدا کردی ہے کہ ان کے شعر سنتے ہی دل میں اتر جاتے ہیں اور قاری کو ان کی بات اپنی بات معلوم ہوتی ہے ان کی شاعری ترقی پسندی اور رومانیت کا حسین امتزاج ہے جس میں نغمگی اور موسیقیت کا عنصرنمایاں ہے ۔ ابنِ انشاء کا نام ان خوش نصیبوں میں شامل ہے جنہوں نے اپنے پہلے مجموعے ہی سے لازوال شہرت حاصل کی۔ انسانی جذبات کی نزاکتوں اور دل کے معاملات کی عکاسی میں ابنِ انشاء غزل میں ممتاز مقام پر دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی غزل کے چند اشعار ملاحظہ کیجئے ۔ ہم رات بہت روئے بہت آہ و فغاں کی دل درد سے بوجھل ہو تو پھر نیند کہاں کی ساون بھادوں ساٹھ ہی دن ہیں پھر وہ رْت کی بات کہاں اپنے اَشک مسلسل برسیں اپنی سی برسات کہاں قیس کا نام سنا ہی ہوگا ہم سے بھی ملاقات کرو عشق و جنوں کی منزل مشکل سب کی یہ اوقات کہاں کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرا ترا اِنشاء جی اْٹھو اَب کْوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا وحشی کو سکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا اپنے ہمراہ جو آتے ہو، ادھر سے پہلے دشت پڑتا ہے میاں عشق میں گھر سے پہلے پھر ان کی گلی میں پہنچے گا ، پھر سہو کا سجدہ کرلے گا اس دل پہ بھروسا کون کرے ، ہر روز مسلماں ہوتا ہے غزل کے علاوہ ان کی نظموں میں بھی وہ چاشنی اور جاذبیت ہے کہ پڑھنے یا سننے والا عش عش کر اْٹھتا ہے ۔ اس سلسلے میں ان کی مشہور زمانہ نظمیں اس بستی کے اِک کوچے میں، فروگزاشت، سب مایا ہے ، یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، سائے سے ، جب عمر کی نقدی ختم ہوئی، اردو ادب میں ان کا نام زندہ رکھنے کیلئے بہت کافی ہیں۔ ابنِ اِنشاء نے دوسری زبانوں میں لکھے گئے افسانوں، ناولوں اور مضامین کے ترجمے بھی کئے اور سفر نامے اور مزاحیہ مضامین بھی تحریر کئے ان کے مزاحیہ مضامین ان کی نثر کی بھرپور نمائندگی کرتے ہیں۔ ان میں حسن مزاح کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی یہی وجہ ہے کہ ان کے مضامین میں ان کی حسِ مزاح اپنے عروج پر ہے ۔ ان کی زبان نہایت سادہ اور رواں ہے ۔ انہوں نے ایسے ایسے جملے لکھے ہیں کہ پڑھنے والا دیکھتا رہ جاتا ہے ۔ مزاح کے ساتھ ساتھ طنز کا عنصر بھی نمایاں ہے ۔ ان کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنے اسلوب اور اپنے لہجے میں بات کرتے ہیں جو صرف انہی سے مخصوص ہے ان کی زبان کی سلاست اور سادگی ان کے ہاں ایک ایسی روانی کو جنم دیتی ہے جو قاری پر کسی صورت گراں نہیں گزرتی۔ طنز و مزاح کی جو بے ساختگی، برجستگی، والہانہ پن اور کسب کمال انہیں اردو کے دیگر مزاح نگاروں سے منفرد و ممتاز کرتی ہے ۔ ابنِ اِنشاء نے نثر کے کلاسیکی لہجے کو طنز و مزاح کے جدید اسلوب میں اسی طرح ڈھالا ہے کہ دونوں یک قالب و یک جان ہوگئے ہیں ان کی تحریروں میں بیان کی چاشنی کے ساتھ ساتھ عہد حاضر کے آلام و استحصال کی جھلک بھی ملتی ہے ۔ سفر نامے میں بھی انہوں نے روایت سے ہٹ کر ایسا اسلوب اپنایا ہے کہ جو قاری کو کسی صورت بور نہیں ہونے دیتا۔ ان کے سفر ناموں میں طنز و مزاح کی رنگین کرنیں ان کے اسلوب کو وہ تازگی اور شگفتگی عطاکرتی ہیں کہ جس کے باعث وہ اس میدان میں بے مثال ہیں افسوس کہ اْردو شعر و ادب کی یہ معروف شخصیت آج ہم میں نہیں مگر ان کی شعری اور نثری تخلیقات اردو ادب میں ان کا نام ہمیشہ زندہ رکھنے کیلئے کافی ہے ۔

بشکریہ ۔اردو پوائنٹ

SHARE

LEAVE A REPLY