گیارہ مارچ کو سینڈائی شہر کے ساحلی علاقے بری طرح تباہ ہو گئے تھے

0
119

گیارہ مارچ2011 کو جاپان میں ایک زبردست زلزلے اور اس کے بعد آنے والی طاقتور سونامی سے دس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے اور ہزاروں لاپتہ ۔

دوسری طرف جاپان کے فوکوشیما جوہری پلانٹ میں کارکن بھرپور کوشش کر رہے تھے کہ کسی طرح اس سے خارج ہونے والی تابکاری کو روکا جا سکے۔

گیارہ مارچ کو سینڈائی شہر کے ساحلی علاقے بری طرح تباہ ہو گئے تھے

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق تازہ ترین زلزلے سے ہونے والے نقصان کے متعلق کوئی اطلاع نہیں تھی۔ یہ زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجکر تیئس منٹ پر آیا۔

اسی دوران جاپان میٹرولوجیکل ایجنسی نے خبردار کیا کہ اٹھارہ انچ اونچی سونامی آ سکتی ہے لیکن بعد میں اس الرٹ کو واپس لے لیا گیا۔

اتوار کو فوکوشیما ڈائچی جوہری پلانٹ کے آپریٹرز نے اپنی اس غلطی پر معافی مانگی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سائٹ کے ایک ری ایکٹر میں تابکاری کی سطح نارمل سے دس ملین زیادہ ہے۔

ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی کے ترجمان تاکاشی کریتا نے کہا کہ یہ نمبر قابلِ اعتبار نہیں ہے۔ ہمیں اس (غلطی) کا بہت افسوس ہے۔

تابکاری کا لیول اتنا زیادہ تھا کہ آلودہ پانی کے نزدیک کام کرنے والے کارکنوں کو ایک گھنٹے میں ہی پورے سال کی تابکاری کی مقدار سے چار گنا زیادہ مقدار مل جاتی۔

SHARE

LEAVE A REPLY