سات اگست 1972 اردون کے شاہ طلال بن عبداللہ کاانتقال ہوا

0
228

اردن کا سرکاری مذہب اسلام ہے اور 92 فیصد مسلمانوں کی اکثریت سنی ہے۔ 1950 میں یہاں عیسائیوں کی آبادی 30 فیصد تھی جو اب گھٹ کر صرف 6 فیصد رہ گئی ہے۔ مذہبی علما سرکاری معاملات میں دخل نہیں دے سکتے۔ سرکاری زبان عربی ہے۔ اردن معاشرتی اعتبار سے دیگر عرب ممالک کی طرح خوش نصیب نہیں ہے۔ اس کا بہت کم علاقہ زرخیز ہے اور دیگر ممالک کی طرح یہاں تیل کی دولت بھی نہیں ہے۔ 1999 کی دہائی تک بھی اردن،عراق اور دوسرے ممالک سے تیل خریدتا تھا۔ تاہم شاہ عبداللہ دوم کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے یہاں کافی تبدیلیاں آئی ہیں اس وقت مشرق وسطی اور شمالی آفریقہ میں اردن چوتھی بڑی آزاد معیشت ہے۔ اپنی معاشی مجبوریوں کی وجہ سے ہی اردن کے مغربی ممالک سے گہرے روابط ہیں۔ یہاں یورانیم کے ذخائر ہیں اس لئے مغربی ممالک کی اردن پر نظر ہے۔ عمان اس کا دارالحکومت ہے اور پیڑا تہذیب کا یہ ملک ایک دور میں علم و تجارت کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ حکومت پیڑا یادگاروں کو سیاحتی مقام میں تبدیل کرکے اس سے آمدنی حاصل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
اردون کی آبادی 60 لاکھ ہے۔ زیادہ تر آبادی شہروں میں رہتی ہے۔ اس وقت اردن کو دوسرے ممالک کی طرح عسکریت پسندی کا شدید خطرہ لاحق ہے۔ وہ دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں شامل اتحاد کا حصہ بھی ہے۔ اس کے ایک پائلٹ کو داعش کے جنگجوؤں نے زندہ جلا دیا تھا۔ شام اور عراق کا عدم استحکام اس ملک کیلئے بھی مسلسل خطرہ بنا ہوا ہے یعنی اس کی ایک سرحد پر شام اور عراق ہے تو دوسری سرحد پر اسرائیل اور فلسطین کا تنازعہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اردن کے 2 ہزار جنگجو شام اور عراق میں داعش کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ القاعدہ اور داعش سے ہمدردی رکھنے والوں کی تعداد اندازاً 9 تا 10 ہزار ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ملک میں شامی باشندوں کی آمد کے بعد سے غربت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے ملک میں عسکریت پسندی بڑھنے کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ شاہ عبداللہ عرب کے دوسرے ممالک کی طرح عسکریت پسندی سے نمٹنے کی کوشش کررہے ہیں، لیکن اس کے باوجود بھی اردن میں عسکریت پسندوں کے حملے ہوتے رہتے ہیں۔ گذشتہ دنوں عمان میں 3 انٹلی جنس عہدیدار کو نشانہ بنایا گیا۔ اردن میں شامی پناہ گزینوں کے خیموں نے ایک بڑے شہر کی شکل اختیار کرلی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY