‘ملک کا موجودہ صحت کا نظام وائرس کا سامنا کرنے کی بالکل بھی سکت نہیں رکھتا’

0
738

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عالمی وبا کورونا وائرس کے پیش نظر وفاقی حکومت کو قومی پالیسی بنانے اور لاک ڈاؤن سے متعلق فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ خدانخواستہ اگر کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھی تو ملک کا موجودہ صحت عامہ کا نظام اس کا سامنا کرنے کی بالکل بھی سکت نہیں رکھتا۔

بلاول ہاؤس کراچی سے بذریعہ ویڈیو لنک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی پی پی کے چیئرمین نے کہا کہ ملک گیر لاک ڈاؤن حالات کا تقاضا ہے تاکہ آنے والے دنوں میں کسی بڑے نقصان سے بچا جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں وسیع تر ہم آہنگی و اتحاد کو فروغ اور جامع لائحہ عمل کے لیے آل پارٹیز کانفرنس کے لیے سیاسی قیادت سے رابطہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اٹلی کو آج جس صورتحال کا سامنا ہے وہ لاک ڈاؤن سمیت درست وقت پر درست اقدامات اٹھانے میں تاخیر کا نتیجہ ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ آج غریب عوام کا عذر دے کر لاک ڈاؤن نہ کرنے والے یہ بھی بتائیں کہ بجٹ میں انہوں نے اسی غریب عوام کو کیا رلیف دیا تھا؟

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ نے لاک ڈاؤن میں پہل کی ہے اور یہ اقدام وزیراعلی مراد علی شاہ نے اکیلے نہیں اٹھایا، انہوں یہ فیصلہ کرنے سے پہلے اپوزیشن کو بھی اعتماد میں لیا تھا۔

پی پی پی چیئرمین نے حکومتِ سندھ کو ہدایات دیں کہ وہ لاک ڈاؤں کے دوران یومیہ مزدوری پر کام کرنے والے محنت کشوں اور غریب عوام کی خوراک و دیگر ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اقدامات کریں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی حالات میں میڈیا کا آزاد ہونا ضروری ہے لیکن جنگ اور جیو گروپ کے سربراہ زیرِ حراست ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے عالمی برادری پر زور دیا کہ کورونا وبا کا بری طرح سے شکار ہونے والے ملک ایران سے پابندیاں ہٹائی جائیں۔

دریں اثنا بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی اِی سی) کے اجلاس کی صدارت کی، جس میں تمام اراکین نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

اجلاس کو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کورونا وائرس کے حوالے سے بریفنگ دی۔

کمیٹی کے اراکین نے حکومت سندھ کی جانب سے وبا کی روک تھام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا اور مکمل حمایت کی۔

SHARE

LEAVE A REPLY