کوثر پروین کی وفات
٭30 / دسمبر 1967ء کو پاکستان کی نامور گلوکارہ کوثر پروین وفات پاگئیں۔ کوثر پروین اداکارہ آشا پوسلے اور رانی کرن کی چھوٹی بہن اور معروف موسیقار اختر حسین کی شریک حیات تھیں۔ انہوں نے پاکستان کی فلمی صنعت کے ابتدائی دور میں لاتعداد فلموں کو اپنی آواز سے یادگار بنایا۔ خصوصاً 1954ء میں سید عطا اللہ شاہ ہاشمی کی بنائی ہوئی فلم نوکر میں سورن لتا پر فلم بند ہونے والی مشہور لوری میری اکھیوں کے تارے میں تو واری واری جائوں، کوثر پروین کی شناخت بن گئی۔
کوثر پروین کے دیگر مقبول نغموں میں کب تک رہوگے اجی دور دور ہم سے(فلم: چھوٹی بیگم)، اومینا، نہ جانے کیا ہوگیا (فلم: قاتل)، ہر قدم پہ ستم (فلم: حمیدہ)، باربار ترسے مورے نیناں (فلم:وعدہ) اور ستمگر مجھے بے وفا جانتا ہے (فلم: سات لاکھ) کے علاوہ سلیم رضا کے ساتھ گائے ہوئے متعدد دو گانے شامل ہیں۔
——————–
شبنم رومانی کی پیدائش
٭اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور کالم نگار شبنم رومانی 30 / دسمبر 1928ء کو شاہ جہاں پور میں پیدا ہوئے تھے۔
شبنم رومانی کا اصل نام مرزا عظیم بیگ چغتائی تھا- قیام پاکستان کے بعد انہوں نے کراچی میں سکونت اختیار کی۔ ان کے شعری مجموعے مثنوی سیر کراچی، جزیرہ، حرف نسبت، تہمت اور دوسرا ہمالا کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے تھے۔ وہ ایک طویل عرصے تک روزنامہ مشرق میں ہائیڈ پارک کے نام سے ادبی کالم تحریر کرتے رہے تھے، ان کے کالموں کا مجموعہ اسی نام سے اشاعت پذیر بھی ہوا تھا۔ شبنم رومانی نے 1989ء میں ادبی جریدہ اقدار جاری کیا تھا جو اپنے خوب صورت لوازمے اور دیدہ زیب پیشکش کی وجہ سے ادبی حلقوں میں بے حد مقبول ہوا تھا۔
17 / فروری 2009ء کو اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور کالم نگار شبنم رومانی کراچی میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں عزیز آباد کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔شبنم رومانی کا ایک شعر ملاحظہ ہو :
اب کے بارش ایک ساتھی دے گئی
ایک چہرہ بن گیا دیوار پر
—————————-
یونس پہلوان کی پیدائش
٭30 / دسمبر 1925ء مشہور پہلوان یونس پہلوان کی تاریخ پیدائش ہے۔
یونس پہلوان، رستم ہند رحیم پہلوان سلطانی والا کے شاگرد تھے۔ وہ گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے پہلا دنگل 1941ء میں لڑا اور فیض گوجرانوالیہ اور یکہ پہلوان کو یکے بعد دیگرے شکست دی، اگلے برس انہوں نے رستم پنجاب چراغ نائی پہلوان کوہرا کر رستم پنجاب کا خطاب حاصل کیا۔ پھر انہوں نے کیسر پہلوان، ہزارہ سنگھ، گنڈا سنگھ، پورن پہلوان اور کئی دوسرے پہلوانوں کو یکے بعد دیگرے شکست دی۔ 1948ء میں انہوں نے منٹو پارک لاہور میں بھولو پہلوان سے مقابلہ کیا مگر کامیاب نہ ہوسکے۔ 1949ء میں کراچی میں یہ دونوں پہلوان ایک مرتبہ پھر نبرد آزما ہوئے مگر اس مرتبہ بھی بھولو پہلوان کا پلہ بھاری رہا اور وہ یونس پہلوان کو شکست دے کر رستم پاکستان بن گئے۔
یونس پہلوان کو وزیراعظم لیاقت علی خان نے ستارۂ پاکستان کا خطاب عطا کیا تھا۔ ان کا انتقال 6 / جون 1964ء کو 38 برس کی عمر میں ہوا، وہ گوجرانوالہ کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
——————————–
سعید ملک کی وفات
٭ 30 / دسمبر 2007ء کو موسیقی کے موضوع پر لکھنے والے پاکستان کے مشہور ادیب سعید ملک لاہور میں وفات پاگئے۔
سعید ملک کی تصانیف میں دی میوزک ہیری ٹیج آف پاکستان، دی مسلم گھراناز آف میوزیشنز، لاہور: اٹس میلوڈی کلچر، لاہور اے میوزیکل کمپینئن اور ان سرچ آف جسٹس شامل ہیں۔ سعید ملک نے تین سال تک لاہور آرٹس کونسل کی الحمرا میوزک اکیڈمی کے فیکلٹی ممبر کی حیثیت خدمات انجام دیں اور اس کی گورننگ کونسل کے رکن رہے۔ انہوں نے 26 سال تک مختلف اخبارات اور جرائد میں موسیقی کے موضوع پر مسلسل کالم لکھے جو پاکستان میں موسیقی کی تاریخ کا ایک اہم حوالہ ہیں۔ سعید ملک لاہور میں آسودۂ خاک ہیں
وقار زیدی ۔ کراچی












