جسٹس آصف سعید کھوسہ۔ آئین کا آرٹیکل 62 ریاستی انتظامیہ کی شفافیت کا ضامن ہے

0
215

پاناما پیپرز کیس میں وزیراعظم نوازشریف کی نااہلی سے متعلق اختلافی نوٹ تحریر کرنے والے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے آئین کے آرٹیکل 62 کو ریاستی انتظامیہ کی شفافیت یقینی بنانے اور اعلیٰ قیادت کے غیرمتنازع ہونے کی ترکیب قرار دے دیا۔

خیال رہے کہ آئین کا آرٹیکل 62 رکن پارلیمنٹ منتخب ہونے کے لیے امیدوار کی اہلیت سے متعلق تفصیلی وضاحت فراہم کرتا ہے۔

اپنے فیصلے میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ ‘اس آرٹیکل سے وفاداری ہی انتظامیہ کی شفافیت کو یقینی بناتی ہے‘۔

خیال رہے کہ جمعرات (20 اپریل) کو جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بچوں سے پاناما لیکس کے حوالے سے مزید تحقیقات کے لیے 6 ارکان پر مبنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے قیام کا حکم دیا تھا۔

جمعہ (21 اپریل) کو سپریم کورٹ آفس کے 548 صفحات پر مشتمل پاناما کیس کے فیصلے کی کاپی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے)، قومی احتساب بیورو (نیب)، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی پی)، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی)، انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کو بھجوائی گئیں۔

خیال رہے کہ ان محکموں کے نمائندے ہی جے آئی ٹی کا حصہ ہوں گے۔

جسٹس کھوسہ کے مطابق اگر آرٹیکل 62 میں بیان کی گئی شرائط پر عملدرآمد یقینی ہوتا ہے تو اعلیٰ سطح پر موجود ریاست کے قانون ساز اور حکام شفاف رہیں گے اور اعلیٰ سطح پر موجود یہ شفافیت نیچے بھی سرائیت کرتی جائے گی۔

ڈان اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق 192 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ ’جب تک آرٹیکل 62 آئین کا حصہ رہتا ہے اُس وقت تک ملک کی عدالتیں اس کا عملدرآمد یقینی بنانے کا حلف اٹھائے ہوئے ہیں‘۔

مذکورہ نوٹ میں ماضی کے بیشتر فیصلوں کی مثال دیتے ہوئے 2010 میں نواب زادہ افتخار احمد خان کے کیس کا حوالہ بھی پیش کیا گیا، جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ کسی بھی ملک کی پارلیمنٹ اس کا معزز، اعلیٰ اور اہم ترین ادارہ ہے، جہاں نہ صرف پالیسیاں اور قوم کے لیے قوانین وضع کیے جاتے ہیں بلکہ یہی ادارہ قوم کی قسمت کی تراش خراش کا کام بھی سرانجام دیتا ہے۔

2010 کے اس فیصلے میں درج کیا گیا تھا کہ ’یہاں ایک شخص جو آئینی اور قانونی طور پر اس پارلیمنٹ کا حصہ بننے کی اہلیت نہیں رکھتا وہ جھوٹا حلف اٹھا کر اور جعلی، بوگس دستاویزات جمع کروا کر اس مقدس جگہ کا تقدس پامال کررہا ہے، اس کے طور طریقے نہ صرف اس کے حلف کے برعکس ایمانداری اور سالمیت کے بنیادی اصولوں کی توہین ہیں بلکہ ایوان کی عظمت اور حاکمیت کو بھی متاثر کرتے ہیں‘۔

جسٹس کھوسہ کا کہنا تھا کہ موجودہ کیس (پاناما پیپر لیکس) کسی اندھے قانون سے متعلق نہیں بلکہ وزیراعظم اور ان کے بچے چاہتے ہیں کہ لندن میں موجود 4 فلیٹس کی ملکیت کے بارے میں دی گئی وضاحت کو بنا جانچ پڑتال کے تسلیم کرلیا جائے۔

جسٹس کھوسہ کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم اعلیٰ عوامی دفاتر سنبھالے ہوئے ہیں جبکہ اپنے زیرکفالت بچوں کے ذریعے وہ لندن میں موجود مہنگی جائیدادوں کے مالک بنے لہذا وہ قانونی، اخلاقی اور سیاسی طور پر اس حوالے سے جوابدہ ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’وزیراعظم نے قوم سے اپنے دو خطابوں کے دوران اس حوالے سے کوئی وضاحت پیش نہیں کی‘۔

جسٹس کھوسہ کے مطابق اپنے خطاب میں وزیراعظم نے دعویٰ کیا تھا ان کے پاس جائیدادوں سے متعلق تمام ریکارڈ موجود ہے اور طلب کیے جانے پر وہ یہ معلومات پیش کریں گے لیکن سپریم کورٹ کے سامنے انہوں نے نہ صرف جائیداد کے معاملے پر خود کو اپنے بچوں سے علیحدہ کرلیا بلکہ جائیدادوں کی خریداری یا ملکیت کے بارے میں وضاحت دینے میں بھی ناکام رہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY