کرونا وائرس نے ساری دنیا کو اپنے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے، دنیا بھر میں ہر ملک ہر شہر ہر گلی ہر محلے میں موت کا راج ہے۔ ہر ملک اپنی استطاعت کے مطابق اس سے نمٹ رہا ہے لیکن قدرت انسان سے شاید اسقدر ناراض ہے کہ عنقریب یوں لگتا ہے جیسے کائنات کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔ دنیا کے ڈیڈھ سو سے زیادہ ممالک میں ہر لمحے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کرونا کا وائرس جس تیزی سے پھیل رہا ہے اس تیزی سے شاید روشنی ہی سفر کرتی ہے
چین نے جہاں سے یہ وائرس شروع ہوا اپنے عزم اور عوام کے تعاون کی بدولت بہت حد تک اس وبا پر قابو پا لیا ہے لیکن امریکہ جرمنی برطانیہ ایران اور اٹلی میں صورت حال ناگفتہ ہو رہی ہے۔ اٹلی میں تو لاشیں اٹھانے کے لیئے گاڑیوں کی اسقدر کمی ہوئی کہ فوجی ٹرک طلب کیئے گئے اور مرنے والوں کو نہلائے دھلائے بغیر ہی قبروں میں اتار دیا گیا۔ خطرہ ہے کہ اموات کی رفتار اگر یہی رہی تو قبر کا ملنا بھی دشوار ہو جائے گا
پاکستان کی صورت حال بہت تکلیف دہ ہے جہاں نہ تو حکومت کو صورت حال کا مکمل ادراک ہے اور نہ ہی عوام کو مکمل شعور کہ وہ دنیا کی غارت گری سے سبق سیکھیں اور ضروری ہدایات پر عمل کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ اس ایک فقرے نے پوری قوم کو اور خاص طور پر مسلم امہ کو مفلوج بنا کر رکھ دیا ہے کہ اللہ رحم کرے گا۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ نہ تو صرف مسلمانوں کا ہے اور نہ ہی پاکستانیوں کا،وہ عالمین کا رب ہے اور اسکی رحمت، نیت اور عمل سے مشروط ہے۔ پاکستان میں کوئی بھی حکومت ہو اسکا مزاج ہمیشہ یہ رہا ہے کہ مصبیت نازل ہونے کے بعد سوچا جاتا ہے اور اسوقت بھی یہی صورت حال ہے
ہم مسلمان اور ایشیائی اکثریت میں ایسے ماحول اور حالات میں بھی مفادات اور ذات کے اسیر ہیں۔ مہذب اور متمدن ممالک میں برسوں رہ کر بھی ہماری کوئی بھی عادت نہیں بدلی۔ رمضان ہو یا عید یا پھر کوئی ایسا ہی تہوار ہمارے تاجر اور دوکاندار مل کی قیمت بڑھا دیتے ہیں جبکہ یورپ میں مسلمانوں کے تہوار پر بھی ضروری اشیا کی قیمتیں کم کر دی جاتی ہیں۔ ہماری غالب اکثریت جیسے اپنے ملک میں بے حس ہے اسی طرح بیرون ملک بھی اسلام اور اپنے ملک کی بدنامی کا باعث ہیں
خالق کا یہ عذاب کسی ایک دین مسلک یا قوم کے لیئے نہیں بلکہ موت آپکا دین مذہب مسلک پوچھ کے نہیں آتی اور نہ ہی کرونا کسی فرد سے اسکا دین مذہب پو چھتا ہے
برطانیہ میں بھی کرونا وائرس کی وبا کے بعد سے حکومت نے جو مثبت اقدامات کیئے ہیں ان پر پھر کسی وقت لکھونگا لیکن روزمرہ کی اشیا کے ضمن میں بڑے بڑے فوڈ سٹوروں پر اگرچہ ضرورت سے زیادہ خریداری کی وجہ سے اور صارفین کی آفاقی نفسیات کی وجہ سے بہت سی چیزوں کا فقدان ہے لیکن بہتر سپلائی کی وجہ سے صورت حال ابتر نہیں ہے۔ سینسبری،ایسڈا،ٹیسکو ،ویٹ روز اور ایسے ہی بڑے سٹوروں پر لگ بھگ سارا سامان موجود ہے اور سٹوروں نے ضروری اشیا کی تعداد کی خریداری محدود کی ہے جیسے دودھ ڈبل روٹی انڈے یہ ایک فرد محدود تعداد میں خرید سکتا ہے تا کہ دوسرے بھی خرید سکیں
ایک اہم پیش رفت اس ضمن میں یہ ہے کہ ان سب سٹوروں نے معمر، بیمار اور بزرگ صارفین کے ساتھ ساتھ این ایچ ایس کے ملازمین کے لیئے روزانہ ایک گھنٹہ خاص طور پر سٹوروں میں اور آن لائن مختص کیا ہے تا کہ یہ مخصوص طبقہ عام صارفین سے الگ خریداری کر سکیں
ایسے حالات میں اپنے مسلمان اور ایشیائی دوکانداروں کے رویے اور مالی لالچ کو دیکھ کر افسوس بھی ہوتا ہے اور شرمندگی بھی کہ ان لوگوں نے جہاں اپنے روایتی مزاج کے مطابق چیزوں کی ذخیرہ اندوزی کی ہے وہاں قیمتیں کئی اشیا کی چار پانچ گنا بھی بڑھا دی ہیں۔ یہی وہ طبقہ ہے جو یورپ میں برسوں سے رہنے کے باوجود کوئی اچھی بات ان مہذب معاشروں کی سیکھ نہیں پایا۔ مجھے ایک جاننے والے یہ بتا کر اور بھی شرمندہ کیا کہ وہ چند ایسے مسلم دوکاندار بھی جانتا ہے جو سستے سٹوروں سے چیزیں خرید کر اپنی دوکانوں پر مہنگی فروخت کر رہے ہیں۔
علامہ اقبال نے اپنی نظم جواب شکوہ میں ایسے ہی لوگوں کے لیئے برسوں پہلے کہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ور ہے، ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود
ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود!
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدّن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں! جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود
یوں تو سیّد بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو!
بریڈفورڈ سے ہمارے دوست اور کرم فرما ظفر تنویر نے روزنامہ جنگ کے لیئے اپنی ڈائری میں جو لکھا ہے وہ پڑھتا جا شرماتا جا کے زمرے میں آتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسٹور میں داخل ہوں تو آپ کو نعتیں سنائی دیں گی، گاہکوں کا ہجوم ہوگا اور ہر شے کی قیمتیں آسمانوں کو چھوتی دکھائی دیں گی۔ گوشت سے لے کر آٹے کے بیگ تک اور کوکنگ آئل سے لے کر چاولوں کے پیکٹوں تک ہر شے کی قیمتیں بڑھا دی گئی ہیں اور یہ صرف بریڈفورڈ میں نہیں ہورہا ۔برمنگھم، لندن، نوٹنگھم، ڈربی، مانچسٹر ی کسی بھی شہر کی پاکستانی،کشمیری ’’حلال‘‘ دوکان پر چلے جائیں سبھی ایک سا منظر پیش کررہی ہیں، شاپنگ کا رش تو بڑے بڑے چین اسٹوروں پر بھی ہے لیکن کیا مجال کسی ایک سٹور نے بھی اپنی قیمتیں بڑھائی ہوں، ان کے بڑے بڑے شیلف خالی ہوگئے ہیں لیکن قیمتیں وہی ہیں جو دو ہفتے پہلے تھیں۔ قیمتیں بڑھانے کی ’’نیکی‘‘ بھی ہم مسلمانوں کے ہی حصہ میں آتی ہے نہ انہیں کوئی شرم ہے اور نہ ہی کوئی حیا اور نہ ہی انہیں موت کا کوئی خوف ہے یہ وہ مسلمان ہیں جو اپنے طور پر یقین کربیٹھے ہیں کہ چاہے کچھ بھی ہو، جنت میں تو صرف وہ جائیں گے۔ مجھے اپنے وطن پر ہمیشہ فخر رہا ہے اور میں انتہالی فخر سے اپنا تعارف ہمیشہ اپنے وطن کے حوالہ سے کروانا پسند کرتا ہوں لیکن چند بیتے دنوں میں میں نے جو کچھ دیکھا اور سنا اس نے میرے فخر کو نیچا دکھا دیا ہے، میں ایک صاحب کو جانتا ہوں نماز جمعہ کے دوران اکثر ان سے ملاقات رہتی ہے،
مسجد کی خدمت کرنے میں بھی وہ ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں لیکن جس طرح اپنے اسٹور پر وہ دونوں ہاتھوں سے اپنے بھائیوں کو لوٹ رہے ہیں اس کا جواب ان سے صرف وہی لے گا جس کے قبضہ قدرت میں سب کی جان ہے، کرونا وائرس سے دنیا بھر میں دس ہزار سے زائد افراد کی زندگیوں کے چراغ گل ہوچکے ہیں ہمارے برطانیہ میں مرنے والوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے، ملک بھر میں تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ اب مساجد، گرجا گھر مندر اور گوردوارے بند ہورہے ہیں، لوگ گھروں میں بند ہونے کے خوف کے ہاتھوں دھڑا دھڑ خریداری کرہے ہیں اور ہمارے یہ مسلمان اور سجدوں میں سرگرم بھائی ،لوگوں کی مجبوریاں ان کا ڈر اور خوف ’’کیش‘‘ کررہے ہیں، شاید انہیں اپنے مرنے کا یقین نہ ہو لیکن مجھ جیسے عام شہریوں کو مرنے کا ڈر بھی ہے اور حالات کے بڑھتے ہوئے بھیانک سایوں کا خوف بھی، میں تو چاہتا ہوں کہ ہمیں ایک کمیونٹی کی حیثیت سے ایک صف میں کھڑا ہوکر ان لالچیوں اور منافع خوروں کا مقابلہ کرنا ہے۔ انشاء اللہ حالات تو ٹھیک ہو ہی جائیں گے۔ چین کی مثال ہمارے سامنے ہے ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ اگر بچ گئے تو ان ناجائز منافع خوروں کا مکمل بائیکاٹ کریں گے۔ آئندہ کبھی بھی کسی ایشیائی یا حلال کے نام پر ہمارا استحصال کرنے والوں کی دوکانوں کا رخ نہیں کریں گے ویسے بھی اب تو ہمارے تمام مصالحہ جات اور حلال گوشت بھی بڑے چین اسٹور سے دستیاب ہے پھران کی کیا ضرورت، یہ دوکانیں اور اسٹور اس لئے کامیاب ہیں کہ ہماری کمیونٹی نے مل کر انہیں اپنا اسٹور سمجھتے ہوئے کامیاب کیا ہے لیکن اگر انہیں مشکل وقت میں ہمارا خیال نہیں تو ہمیں ان کی کیا پروا ہوسکتی ہے ویسے بھی مذہب اور ثقافت کے نام پر ہم کب تک بے وقوف بنتے رہیں گے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب اس سے آگے میں کیا لکھوں، چشم حیرت بھی اشک فشاں ہے اور دل مضطر بھی نوحہ کُناں
علامہ اقبال نے سچ ہی تو کہا تھا
ہاتھ بے زور ہیں، الحاد سے دل خوگر ہیں
اُمّتی باعثِ رُسوائیِ پیغمبرؐ ہیں
بُت شکن اٹھ گئے، باقی جو رہے بُت گر ہیں
تھا براہیم پدر اور پِسر آزر ہیں
بادہ آشام نئے، بادہ نیا، خُم بھی نئے
حَرمِ کعبہ نیا، بُت بھی نئے، تُم بھی نئے
وہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھا
نازشِ موسمِ گُل لالۂ صحرائی تھا
جو مسلمان تھا، اللہ کا سودائی تھا
کبھی محبوب تمھارا یہی ہرجائی تھا
کسی یکجائی سے اب عہدِ غلامی کر لو
ملّتِ احمدِؐ مرسَل کو مقامی کر لو!
کس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہے
ہم سے کب پیار ہے! ہاں نیند تمھیں پیاری ہے
طبعِ آزاد پہ قیدِ رمَضاں بھاری ہے
تمھی کہہ دو، یہی آئینِ وفاداری ہے؟
قوم مذہب سے ہے، مذہب جو نہیں، تم بھی نہیں
جذبِ باہم جو نہیں، محفلِ انجم بھی نہیں
جن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن، تم ہو
نہیں جس قوم کو پروائے نشیمن، تم ہو
بجلیاں جس میں ہوں آسُودہ، وہ خرمن تم ہو
بیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن، تم ہو
ہو نِکو نام جو قبروں کی تجارت کرکے
کیا نہ بیچو گے جو مِل جائیں صنَم پتھّر کے
صفدر ھمدانی












