کل مزدوروں کا عالمی دن منایا گیا ۔ہر ٹی وی پروگرام میں پانچ سے چھ منٹ دئے گئے ۔۔ہمیں صرف یہ افسوس ہوا کہ وہ مزدور جس کے بغیر آپ ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکتے ۔جس کے بغیر آپ کی یہ پُر آسا ںش زندگی ممکن ہی نہیں ۔اُس کے لئے آپ کے پاس دینے کو کچھ نہیں ہے وہ مزدور جو دھوپ اور گرمی میں گھر بنانے کو اینٹیں ڈھوتا ہے ۔جو گندم اور اناج اُگانے کو پسینہ بہاتا ہےسخت محنت کرتا ہے ۔تاکہ آپ ہر قسم کی سبزی اور اناج سے پیٹ بھر سکیں ۔جو لائن میں بیٹھا رہتا ہے سڑکوں پر کہ کوئی کام مل جائے ۔جو آفس میں چائے پلاتا ہے ۔جو بھاگ بھاگ کر آپ کے کام کرتا ہے ۔ جو آپ کی کار چلاتا ہے ۔جو آپ کے گھروں میں چوکیداری کرتا ہے ۔اُس کے لئے جب فائیو اسٹار ہوٹلوں میں پروگرام کئے جاتے ہیں تو ہمیں بہت ہنسی آتی ہے کہ ہم کتنے غریب پرور لوگ ہیں کہ اُس مزدور کے لئے سال میں ایک دفعہ بھی کوئی سہولت تو نہیں دیتے لیکن بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھے پیٹ بھرے لوگ اُن کے بارے میں بات کرتے ہیں اور پھر سال بھر کی چھٹی کیسا مزدور کہاں کا مزدور ؟؟؟ کاش ان پروگراموں میں مزدوروں کو بھی شامل کیا جاتا ،اس ایک دن مزدوروں کو تنخواہ میں کچھ زیادہ دیا جاتا ۔کاش اس ایک دن اُن کا کوئی مسئلہ واقعئی حل کیا جاتا ۔کاش اس ایک دن اُن کی زندگی میں کسی سہولت کی بات کی جاتی اُس پر عمل کیا جاتا ۔ کاش اور کچھ نہ کر سکے تو ایلیکشن کی طرح ایک ایک قیمے کا نان ہی ہر مزدور کو دے دیتا اُس کا مالک ۔۔۔۔۔مگر ہمیں اُمید ہے کہ یہ سب بھی ہوگا کسی دن اور ہم ہر سال کی طرح اس سال مزدوروں کے دن پر اسی جزبے کے ساتھ کھڑے ہیں کہ انکی عزت بھی بحال ہوگی انہیں بھی ملے گا وہ سب کچھ جو ان کا حق ہے ۔حالات بدل رہے ہیں اور انشاء اللہ بدلینگے حالات ضرور ترقی اور کامرانی کی طرف جائیں گے ۔بس اتحاد ضروری ہے اور اپنی اصلاح لازمی ہے ۔
نیب کا اُلَٹ بَین
اب ہم آتے ہیں سیاسی موسم کی طرف ۔جو انتہائی گرم اور سرد ہے ۔ہم نے کل بیٹھے بیٹھے سوچا کہ نیب کا اُلٹ کیا ہوگا اور ہم حیران رہ گئے آپ بھی حیران ہوں کہ نیب کا اُلٹ ہے بین یعنی رونا ،آہ و فغاں کرنا وہ آہ و فغاں جس کو سننے کے لئے ہمارے کان ترسے سالوں ،کیونکہ ہم سب کو صرف یہ خوشخبریاں دی جاتی تھیں کہ کس نے کتنا لوٹا لیکن محاسبہ کہیں نہیں ہوتا تھا ۔لیکن اب اونٹ آیا ہے پہاڑ کے نیچے اور اُسے اپنے کمزور اور چھوٹے ہونے کا احساس ہورہاہے شدت کے ساتھ ،،جو آپ سب ہی دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح ہر طرف سے کراہیں نکل رہی ہیں ۔کیسے چیخیں نکل رہی ہیں ۔
خاندانوں کے واسطے دئیے جا رہے ہیں ۔بلاول صاحب مثل ہے کہ شیطان کے گھر اولیاء اور اولیاء کے گھر شیطان پیدا ہو سکتا ہے ۔تو یہ تو آپ کہہ ہی نہیں سکتے کہ شریف جیسا خاندان بھی شریف کا اُلٹ ہو سکتا ہے ۔تو ڈنشا صاحب کا کیا ؟؟؟شاید اُن کے اعتراف آپ نے نہیں سُنے ؟؟؟جس طرح آپ نے دنشا کی بات کی لگا وہ آپ کے بہت قریبی ہیں ۔ویسے تو آپ سارے ہی اس وقت ایک کشتی کے سوار ہیں ایسی کشتی جس میں بہت بڑا سوراخ ہو گیا ہے ۔پانی کب تک بھرے گا بس یہ دیکھنا ہے ۔
ایک باہر کا پڑھا لکھا جوان بھی بلا سوچے سمجھے بیانات دے رہا ہے ۔نہ اُسے یہ خبر ہے کہ کون کون ملک کو لوٹ گیا اور کیسے اس ملک کی بربادی لگائی اور نہ ہی شاید وہ یہ علم رکھتا ہے کہ سندھ پاکستان ہے ۔کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ اُسے اس میدان میں اُتارا ہی گیا ہے ہارنے کے لئے ۔اور یہ شاید پی پی پی کی سب سے بڑی بد قسمتی ہوگی کہ اگر کوئی اس پارٹی کو سنبھال سکتا تھا تو شاید وہ بلاول ہی تھا اور اس جیسا نیا نو جوان پی پی پی طبقہ ،جسے ان بڑوں نے صرف جلسوں اور جلوسوں کے لئے سنبھال کر رکھا ہوا ہے ، لیکن ہمیں اِس طبقے سے بھی شکایت ہے کہ کیسے بھیڑ بکریوں کی طرح ان کے پیچھے چلتے ہیں ۔کیوں اپنے حق کے لئے نہیں اُٹھتے ۔ چئیر مین کاجو حال نظر اآرہا ہے وہ لیڈر تو دور کی بات کوئی کونسلر بھی نہیں بن سکتے اپنے بَل بوتے پر ۔ہم یقین سے کہتے ہیں بھٹو نکال دیں نام سے پھر تیل دیکھیں اور تیل کی دھار دیکھیں ۔
شرافت کے لبادے بھی اُتر رہے ہیں ۔کس طرح لندن میں مٹر گشتیاں ہو رہی ہیں ،بھائی جان کے آنے کا انتظار ہے اور ہمیں تو لگتا ہے کہ جھٹکے والی خبریں سُن سُن کر ہم جھٹکا پروف ہو گئے ہیں اور ایک اور جھٹکے کے لئے بالکل تیار ہیں جب شریف صاحب کو نہ پکڑا جائیگا نہ اُن کی عزت پر کوئی حرف آئیگا ،جیسا کہ تہزیب یافتہ ممالک میں کرپٹ لوگوں پر آتا ہے کہ عام لوگ تو عام لوگ ،پارٹی والے بھی کنارہ کش ہو جاتے ہیں ۔اُس شخص اُس پارٹی سے جس کے لیڈر ہی کرپٹ ہوں ۔لیکن ہم ابھی اُس منزل تک نہیں پہنچے ۔لیکن راہ دشوار تو ہے نا ممکن نہیں ہے ۔بس اگر ہم سب متحد ہو کر اتنا کر لیں کہ ڈَٹ جائیں کہ بہت ہو گیا اب اور نہیں ۔ہاتھ مضبوط کریں اُن لوگوں کے، نیب کے جو ہمارے مال لوٹنے والوں کو سامنے لانا چاہتے ہیں ۔جو اس ناسور سے ہماری جان چھڑانا چاہتے ہیں ۔یہ حقیقت ہے کہ یہ ختم تو نہیں ہوگا مگر کم از کم ، کم ضرور ہو جائیگا اور ایک وقت ایسا آئیگا انشاء اللہ کہ ہم اس ناسور کا ٹیکہ دریافت کر چکے ہونگے پو لیو کی طرح ،اور کچھ لوگ اس وقت بھی رکاوٹ بنینگے بالکل اسی طرح جس طرح پو لیو کی مہم کو خراب کر رہے ہیں ۔
سُنا ہے کہ وہ عہدہ جو چھوٹےشریف نے بڑی وا ویلا کر کے حاصل کیا تھا وہ چھوڑ رہے ہیں اور انکی جگہ کسی دوسرے نُونِی کو دی جا رہی ہے ۔اسی طرح شاید وہ حزبِ اختلاف کے لیڈر بھی نہیں رہینگے ۔اب یہ سب کیوں ہورہا ہے نونی تو اپنی بزلہ سنجی ہر پروگرام میں دکھا رہے ہیں خواتین خاموش ہیں یا شاید کوئی اور سازش تیار ہو رہی ہے ۔مگر حال بہت دلچسپ ہے مستقبل کیا ہوگا دیکھتے ہیں کون کون کھڑا رہیگا اپنے وزن پر ۔۔
مریم کسی ٹرینر کی طرح شیروں کو آواز دے رہی ہیں کہ نہ گھبرانا ابھی تمہارا گبرو جوان نواز باہر آئیگا اور پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھے گا بس آگے ہی آگے بھاگے گا ۔۔۔۔۔۔اب ہم کیا کریں کہ ہماری سمجھ میں تو یہ ہی آیا اُن کا ٹوئٹ پڑھ کر ۔
سب سے بڑی بات یہ ہوئی کہ آج دیامیر بھاشا ڈیم کا سنگِ بنیاد رکھا گیا ۔ہمیں بہت خوشی ہوئی کہ کچھ تو عوام کے لئے بھی ہوا اس میں سب سے بڑا حصہ سابق چیف جسٹس صاحب کا ہے ۔جب وہ ڈیم کے لئے پیسہ جمع کرنے ویکوور آئے تھے تو ہم ابھی اپنی زیرے برابر پونجی لے کر پہنچے تھے وہاں ہمیں خوشی ہے کہ اس ڈیم میں ہمارا بھی کوئی پانی کا قطرہ ہوگا جو ہمارے ملک کے کام آئیگا ۔اللہ کریم ہمارے وزیرِ اعظم اور جسٹس جیسے لوگوں کو انکی ٹیم کو اسی طرح اخلاص سے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے کہ نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے لیکن محنت انسان کو کرنی ہوتی ہے ۔وہ ایک قدم جو کسی مقصد کے لئے اٹھتا ہے ،اُن ہزار قدموں پر بھاری اور قیمتی ہوتا ہے جو بلا مقصد اُٹھتے ہیں ۔
اللہ میرے ملک کو خشک سالی اور پانی کی تکلیف سے محفوظ فرمائے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY