چین میں ھیاٹاٹیس سی کی دوا سے کرونا کا علاج ایک امید افزا، بات ھے
کرونا کی وجہ سے اس وقت ساری دنیا میں خوف و ھراس، کی فضا سے ھر شخص خوفزدہ ھے
لوگ احتیاط کے طور پر بھی گھروں میں محصور و مقید ھو گیے ھیں
آج شام ایک انتہائی ضروری کام کے سلسلے میں لاہور میں ٹھوکر نیاز بیگ کے علاقے میں جانا، پڑا
ھم نے ماسک بھی پہنا تھا اور گاڑی کے شیشے بھی بند تھے
اور ساتھ میں سینیٹازر بھی تھا مگر وھاں جاکر لوگوں کا چند جنرل اَسٹور پر جو لوگوں کا ھجوم
تھا باوجود تیز بارش کے جو کل رات سے مسلسل جاری تھی مگر سڑکوں پر گاڑیوں کی آمد و رفت کے ساتھ لوگوں کی کثیر تعداد پھل سبزی دودھ کم دیگر اشیاء ضرورت کی خریداری میں مصروف تھے اور جیسے عام طور پر لوگ خریداری کرتے ھیں وھی منظر دیکھ کر بہت حیرانی ھوئی
لوگ اس وقت مجبور ھوکر گھروں سے باھر.
نکلنے پر مجبور ھیں
ھر شہر محلے میں فلاحی تنظیمیں بھی لوگوں کی مدد کر رھی ھیں انکو راشن دے رھی ھیں.مگر راشن کی قلیل تعداد بہت جلد ختم ھو جاے گی اور بھوک بیماری اور بے چارگی کا خوف بھی باھر نکلنے پر مجبور کر رھا ھے
دنیا بھر میں مخیر حضرات سب کی مدد کر
رھے ھیں مگر ابھی پاکستان میں موجود کڑور پتی شخصیات نے ایسا کوی اعلان نہیں کیا ھے
لوگ انفرادی طور پر مدد کر رھے ھیں
لاھور میں 7 اپریل تک شاپنگ سینٹر و دیگر بازار بند رھنگے
یہ صورت حال بہت سنگین ھے
زیادہ تر افراد گھروں میں مقید ھیں مگر باھر بھی لاک ڈاون کے باوجود اور پولیس، کی مار پیٹ کے باوجود کرونا کی سنگین صورتحال کے باوجود سڑکوں پر موجود ھیں
شاہین اشرف علی













