شور ہے دل میں بہت ، لب پہ مگر سناٹا
اُدھر” آسیبب” رگ و پے میں اِدھر سناٹا

مست آنکھوں سے چھلکتی تھی مہ ناز کبھی
اب جھلکتا ہے فقط ان میں تو ڈر ، سناٹا

بام پر کوئی پری ہے نہ گلی میں عشاق
اب سڑک پر ہے نہیں کوئی ، مگر ، سناٹا

نہ دل و جان سلامت نہ خرد ہے نہ جنوں
کر گیا کیسا عجب اب کے اثر سناٹا

یہ جو افلاک پہ بارود بچھا سکتا ہے
ڈر گیا دیکھ کہ خود آج بشر سناٹا

جعفر رضوی

SHARE

LEAVE A REPLY