پاکستان دنیا کے چند ایسے ممالک میں شمار ہوتا ہے خیرات دینے میں پیش پیش ہوتے ہیں۔پاکستانی قوم مصیبت اور آزمائش کی ہر گھڑی میں اپنے مصیبت زدہ بہن بھائیوں کی مدد کرنے میدان میں اترتی آئی ہے۔سیلاب ہوں، زلزلے ہوں یا کوئی اور مشکل وقت آن پڑے تو ہمارے درد دل رکھنے والے مخیر حضرات نے اپنے بہن بھائیوں کی مدد کرکے اللہ تعالٰی کی خوشنودی حاصل کی ہے۔
ضرورت مندوں کے کام آنا بڑی بڑی عبادات سے زیادہ بہتر قرار دیا گیا ہے۔ملک میں کورونا وبا کے باعث یوں تو سب ہی متاثر ہوئے ہیں لیکن ہمارے وہ بہن بھائی سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر کام کرتے ہیں۔ان میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو کسی فرم، کمپنی یا دفتر میں کام کرتے ہیں جہاں ہفتے بعد اجرت ادا کی جاتی ہے۔ایسے لوگوں کو عام اصلاح میں دیہاڑی دار کہا جاتا ہے۔ دفاتر اور فیکٹریاں بند ہونے سے روزانہ اجرت پر کام کرنے والے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں
وفاقی اور صوبائی حکومتیں متاثرین کی مدد کے لیے پیکجز کے اعلانات کررہی ہیں۔ یہ کام اکیلی حکومت کے بس کی بات نہیں ہے لہٰذا مخیر حضرات اور فلاحی اداروں کو آگے بڑھنے کا کہا جارہا ہے اطلاعات کے مطابق ملک بھر میں مخیر حضرات اور فلاحی اداروں کی جانب سے مستحقین میں راشن کی تقسیم ہونا شروع ہو گیا ہے۔یہ بہت قابل ستائش بات ہے۔راشن تقسیم کرنے والے اداروں اور مخیر حضرات سے گزارش کروں گا کہ وہ اس کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں لیکن اس سلسلے میں مربوط حکمت عملی اختیار کریں۔ایسے مناظر دیکھنے میں آئے ہیں کہ راشن تقسیم کرنے کے مقام پر سینکڑوں افراد جمع ہوتے ہیں اور وہ دھکم پیل کرتے ہیں تاکہ وہ راشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوں۔
یہ دھکم پیل اور بڑی تعداد میں لوگ جمع ہونے سے کورونا وائرس کے پھیلنے کا اندیشہ اور امکانات ہوتے ہیں۔میری اپنے پاکستانی بھائیوں اور فلاحی اداروں کی انتظامیہ سے درخواست ہے کہ وہ لوگوں کا مجمع اکٹھا کرنے سے گریز کریں اور ایسا بندوبست کریں کہ لوگوں کو انکے گھروں میں راشن بیگ فراہم کیے جائیں۔ اگر راشن تقسیم کرنے کی یہ روش جاری ر۵کھی گئی تو ظالم کورونا ہمارے گلی محلوں تک رسائی پا لے گا۔
اس حوالے سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملک بھر کے چھوٹے بڑے شہروں اور قصبات کی شاہراہوں،سڑکوں اور چوکوں میں مقررہ پوائنٹس پر کام ملنے کے لیے کھڑے ہونے والے دیہاڑی دار مزدوروں کا کھوج کیسے لگائے گی؟ مختلف علاقوں سے آ کر ان پوائنٹس پر کھڑے ہونے والے مزدوروں تک کیسے پہنچا جائے گا؟ کیا حکومت نے اس طرف توجہ مرکوز کی ہے۔ کسی سرکاری محکموں کے ذریعے ان کے کوائف جمع کیے ہیں؟ اگر نہیں کیے تو اس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
دوسری بات میں کروں گا کہ حکومت نے جو مالی پیکج کا اعلان کیا ہے اس پر عمل کیسے ہوگا؟ کیا حکومت کے احساس پروگرام میں بے روزگار ہونے والے تمام افراد کے کوائف شامل کردئیے گئے ہیں؟ اگر ایسا ہو چکا ہے رتو بہت بہتر ہے اور اگر احساس پروگروام میں دیہاڑی دار افراد کی شمولیت نہیں ہوئی تو پھر حکومت کی کاوش،محنت سب رائیگاں چلی جائے گی۔ حکومت کو اس طرف دھیان دینا چاہئیے اور محکمہ بلدیات اور اپنی لوکل پارٹی تنطیموں کے توسط سے ان کے علاقوں کے دیہاڑی دار افراد کی فہرستیں مرتب کروائیں تو یقیننا یہ کام شفاف طریقہ سے سرانجام پائے گا۔
عوام کے منتخب نمائندوں کی کدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں اور ان عوامی نمائندوں کے توسط سے اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ احساس پروگرام اور راشن کی تقسیم میں من پسندوں کو نہ نوازا جائے اور کسی قسم کی خرد برد نہ ہونے پائے۔













