چاہتیں ہیں فقط فسانوں میں
تلخیاں گھل گئیں زبانوں میں

جھوٹ ہی تھا ترے بیانوں میں
میں بہلتی رہی بہانوں میں

تم مجھے چھوڑ کر ابھی جو گئے
ڈھونڈنا پھر مجھے زمانوں میں

دل کی ترغیب پر اُٹھے نہ قدم
ذہن اُلجھا رہا گمانوں میں

کھو گئی ہے خوشی نہ جانے کہاں
دکھ ہی دکھ ہے سبھی ترانوں میں

خوف کے پہرے ہیں دلوں پر اور
سانپ وحشت کے ہیں گمانوں میں

ہوگئی سرد آگ جذبوں کی
بے حسی بڑھ گئی جوانوں میں

سادگی میں عداوتیں نہ تھیں
سانجھ دکھ سکھ کی تھی گھرانوں میں

عیش دُنیا کے سب میسر ہیں
پر سکوں ہی نہیں مکانوں میں

زرقا مفتی

SHARE

LEAVE A REPLY