طالبان نے کہا ہے کہ وہ افغان حکومت کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاملے پر اب مزید کسی مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے۔ طالبان کا خیال ہے کہ ان مذاکرات سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔
خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے پیر کی شب اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ افغان حکومت قیدیوں کی رہائی میں حیلے بہانے کر رہی ہے اور قیدیوں کی رہائی میں تاخیر کی ذمہ دار صدر اشرف غنی کی انتظامیہ ہے۔
سہیل شاہین نے کہا کہ ہماری تیکنیکی ٹیم اب اس بے نتیجہ مذاکرات میں شریک نہیں ہو گی جو متعلقہ فریقین کے درمیان کل سے شروع ہونے جا رہے ہیں۔
خیال رہے کہ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان فروری میں ہونے والے امن معاہدے میں طے پایا تھا کہ طالبان کے قیدیوں کی رہائی 10 مارچ تک شروع ہو جائے گی۔ لیکن افغانستان میں جاری سیاسی چپقلش کے باعث یہ معاملہ تاخیر کا شکار ہو رہا ہے۔
امن معاہدے کے مطابق افغان حکومت نے طالبان کے پانچ ہزار قیدیوں کو رہا کرنا ہے۔ اس کے بدلے طالبان بھی اپنی قید میں موجود ایک ہزار افغان قیدی رہا کریں گے جس میں بڑی تعداد افغان اہلکاروں کی بتائی جاتی ہے۔
امن معاہدے میں طے پایا تھا کہ امریکہ آئندہ سال جولائی تک افغانستان میں موجود اپنے فوجیوں کا انخلا کرے گا اور ان کی تعداد میں کمی کی جائے گی۔
البتہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان گزشتہ ہفتے سے قیدیوں کے تبادلے پر مذاکرات جاری ہیں۔ لیکن ان کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکل سکا ہے۔
افغان حکومت کی جانب سے طالبان سے مذاکرات کرنے والی ٹیم کے ایک رکن متین بیگ نے کہا ہے کہ قیدیوں کی رہائی میں تاخیر اس لیے ہو رہی ہے کہ طالبان اپنے 15 اعلیٰ کمانڈرز کی رہائی کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا “ہم اپنے لوگوں کے قاتلوں کو رہا نہیں کر سکتے۔ ہم نہیں چاہتے کہ وہ رہا ہو کر دوبارہ میدان جنگ میں جائیں اور پورے صوبے پر قبضہ کر لیں۔”
متین بیگ نے کہا کہ حکومت 400 سے زائد طالبان رہنماؤں کو خیر سگالی کے تحت رہا کرنے کے لیے تیار ہے جو زیادہ خطرناک نہیں ہیں۔ لیکن طالبان اس پیشکش کو ٹھکرا چکے ہیں۔
طالبان نے اتوار کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغان حکومت طالبان اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔











