غزہ جنگ بندی معاہدہ نافذالعمل ہوگیا، مصری میڈیا کا دعویٰ

0
676

مصری میڈیا نے غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے نافذ العمل ہونے کا دعویٰ کردیا۔

مصری میڈیا القاہرہ ٹی وی کے مطابق غزہ جنگ بندی معاہدہ پاکستانی وقت کے مطابق 2 بجے سےنافذالعمل ہوگیا ہے۔

مصری وزارت خارجہ غزہ جنگ بندی معاہدے کو اہم لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شرم الشیخ میں ہونے والی مثبت پیشرفت غزہ جنگ میں ایک اہم موڑ کی نمائندگی کرتی ہے، مصری وزیرخارجہ بدر عبدالعاطی آج پیرس روانہ ہوں گے جہاں وہ غزہ کی صورتحال سے متعلق وزارتی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ جنگ بندی آج شام اسرائیلی حکومت کی طرف سے معاہدےکی توثیق کے بعدنافذالعمل ہوگی۔

خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ غزہ سے 20 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اتوار یا پیرکو متوقع ہے۔

حماس اور اسرائیل میں دستخط آج متوقع

دوسری جانب فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ امن معاہدے پر آج باقاعدہ دستخط ہونے کا امکان ہے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی نے معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ غزہ معاہدے پر آج دوپہر تک فریقین کی جانب سے دستخط متوقع ہیں۔

ذرائع کے مطابق معاہدے پر دستخط کے بعد غزہ جنگ بندی نافذ العمل ہونےکا امکان ہے، 24 گھنٹوں میں اسرائیلی فوج غزہ سے جزوی انخلا کا پہلا مرحلہ مکمل کر لے گی۔

خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے غزہ امن معاہدے کی باضابطہ منظوری کے لیے آج دو اجلاس بلا لیے ہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ معاہدے پر عمل درآمد کے لیے عملی تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے۔ دوسری جانب تل ابیب میں اسرائیلی یرغمالیوں کے اہلخانہ نے اپنے پیاروں کی واپسی کے لیے غزہ معاہدے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

ادھر تباہ حال غزہ شہر اور خان یونس میں بھی شہری سڑکوں پر نکل آئے اور ایک دوسرے کو معاہدے کی مبارکباد پیش کی۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا تھا اسرائیل اور حماس نے غزہ امن معاہدے پر دستخظ کر دیے ہیں، امید ہے کہ پیر سے یرغمالیوں کی واپسی شروع ہو جائے گی۔

یو این سیکرٹری جنرل اور وزیراعظم پاکستان سمیت مختلف عالمی رہنماؤں نے غزہ امن معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں امن کی ایک اچھی کوشش قرار دیا ہے۔

…………………………

غزہ میں مستقل جنگ بندی کی راہ ہموار ہوگئی، اسرائیل اور حماس نے امریکا کے مجوزہ غزہ امن معاہدےکے پہلے مرحلے پر دستخط کر دیے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں اعلان کیا کہ اس معاہدے کے تحت تمام یرغمالیوں کی جلد رہائی عمل میں لائی جائے گی جبکہ اسرائیل اپنی فوج کا متفقہ لائن پر انخلا کرے گا۔

ٹرمپ نے کہا کہ یہ امن کے طویل المدتی اور پائیدار سفر کی پہلی بڑی پیش رفت ہے اور تمام فریقین کے ساتھ منصفانہ برتاؤ کیا جائے گا۔

انہوں نے اس تاریخی اور غیر معمولی معاہدے میں کردار ادا کرنے والے قطر، مصر اور ترکی کے ثالثوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ دن عرب اور مسلم دنیا، اسرائیل، تمام ہمسایہ ممالک اور امریکا کے لیے ایک عظیم دن ہے۔

غزہ میں مستقل جنگ بندی کی راہ ہموار، حماس اور اسرائیل نے امن معاہدے کے پہلے مرحلے پر دستخط کردیے
قطری وزارت کا بھی کہنا ہے کہ غزہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے پر معاہدہ طے پا گیا ہےجس کے نتیجے میں جنگ کے خاتمے، اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور امداد کی فراہمی ممکن ہو گی۔ تفصیلات کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

حماس کا اسرائیل سے ہونے والے معاہدے پر باضابطہ بیان جاری
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل اور حماس کے درمیان امن منصوبے کے پہلے مرحلے کے اعلان کے بعد حماس نے اپنا پہلا باضابطہ بیان جاری کر دیا ہے۔

حماس نے کہا کہ ایک معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت غزہ پر جنگ کا خاتمہ، اسرائیلی فوج کا انخلا، امداد کی فراہمی اور قیدیوں کے تبادلے کی شقیں شامل ہیں۔

حماس نے امریکی صدر، عرب ثالثوں اور بین الاقوامی فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو معاہدے کی تمام شرائط پر مکمل عمل درآمد کے لیے پابند کریں اور اسے کسی بھی تاخیر یا وعدہ خلافی سے روکیں۔

اسرائیلی وزیراعظم کا معاہدے پر رد عمل

اسرائیل اور حماس کے معاہدے پر دستخط کے بعد نیتن یاہو نے مختصر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکومت اپنے شہریوں کی بحفاظت واپسی کے لیے پرعزم ہے اور ہم اپنے تمام یرغمالیوں کو واپس لائیں گے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق سمجھوتے کے تحت حماس تمام یعنی 20 زندہ یرغمالیوں کو بہتر گھنٹے میں رہائی دیدے گی۔

امریکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی ہفتہ یا اتوار کو متوقع ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY