سندھ ہائیکورٹ نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما عامر خان کی سزا کیخلاف اپیل پر 17سال بعد فیصلہ سناتے ہوئے ان سمیت 2 ملزمان کی سزا کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں باعزت بری کردیا۔
انسداد دہشتگردی کی عدالت نے عامرخان کو 10 برس اور ملزم طارق کو عمر قید کی سزا سنائی تھی جس کے بعد ملزمان نے سزا کے خلاف سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔
عامر خان پر 2003ء میں متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں کا قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا ، اس وقت وہ ایم کیوایم حقیقی کے جنرل سیکرٹری تھے۔
سندھ ہائیکورٹ نے عامر خان اور ملزم طارق عرف باٹا کی سزا کے خلاف اپیل منظور کی اور ان سمیت 2 ملزمان کو باعزت بری کردیا اور سزا بڑھانے کی سرکار کی درخواست مسترد کردی۔
پراسیکیوٹر نے کیس کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایاکہ ملزمان نے2003 میں این اے 254 میں ضمنی الیکشن کے موقع پر فائرنگ کی تھی جس سے متحدہ کے کارکن انعم عزیز اور محمد نعیم جاں بحق ہوگئے تھے۔
واضح رہے کہ کیس میں نامزد ملزم طارق 17 برس سے جیل میں ہے اور عامر خان ضمانت پر رہا ہیں جبکہ شریک ملزم رائس عرف ٹوپی سمیت 2 نامعلوم ملزمان کو مفرور قرار دیا گیا تھا۔











